یہاں سے ابتداء ہوتی ہے انسان کے دربار خدا میں پیش ہو کر حاجات اور تقاضوں کو بیان کرنے کی۔ حقیقت میں گفتگو کا لب و لہجہ یہاں سے بدل جاتا ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں خدا کی حمد وثنا اور اس کی ذات پاک پر ایمان کا اظہار نیز قیامت کا اعتراف تھا۔ لیکن یہاں سے گویا بندہ اس محکم عقیدہ اور معرفت پروردگار کی وجہ سے اپنے آپ کو اس کے حضور اور اس کی ذات پاک کے روبرو دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اسے مخاطب کرکے پہلے اپنی عبدیت کا اظہار کرتا ہے اور پھر اس سے طلب امداد کے لئے گفتگو کرتے ہوء کہتا ہے کہ میں صرف تیری پرستش کرتاہو اور تجھی سے مدد چاہتا ہوں(ایاک نعبد و ایاک نستعین)۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب گذشتہ آیات کے مفاہیم انسان کی روح میں سرایت کرجاتا ہیں، اس کے وجود کی گہرائیاں اس اللہ کے نور سے روشن ہوجاتی ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی عمومی و خصوصی رحمت اور روز جزا کی مالکیت کو جان لیتا ہے تو اب عقیدے کے لحاظ سے فرد کامل نظر آنے لگتا ہے۔ توحید کے اس گہرے عقیدے کا پہلا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف انسان خدا کا خالص بندہ بن جاتا ہے، بتوں جباروں اور شہوات و خواہشات کی عبادت کے دائرے سے نکل آتا ہے اور دوسری طرف طلب امداد کے لئے اس کی ذات پاک کی طرف ہاتھ پھیلانے کے قابل ہوجاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ آیات توحید ذات وصفات بیان کررہی ہیںاور یہاں توحید عبادت اور توحید افعال سے متعلق گفتگو ہے۔
توحید عبادت یہ ہے کہ کسی شخص یا چیز کو ذات خدا کے علاوہ پرستش کے لائق نہ سمجھا جائے،صرف اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے۔ صرف اس کے قوانین و احکام کو قبول کیاجائے اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی کی کسی قسم کی عبادت و بندگی کرنے اور کسی اور کے سامنے سر افکندہ ہونے سے پرہیز کیا جائے۔
توحید افعال یہ ہے کہ سارے جہاں میں موثر حقیقی اسی کو سمجھا جائے (لاموٴثر فی الوجود الا اللہ، یعنی اللہ کے علاوہ کوئی موثر وجود نہیں رکھتا)۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالم اسباب کا انکار کردیا جائے اور سبب کی تلاش نہ کی جائے بلکہ ہمیں یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ ہر سبب کی یہ تاثیر حکم خدا کے تابع ہے وہی ہے جس نے آگ کو جلانے، سورج کو روشنی دینے اور پانی کو حیات بخشنے کی تاثیر دی ہے۔
اس عقیدے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان صرف اللہ پر بھروسہ کرے گا اور قدرت و عظمت کو اسی سے مربوط سمجھے گا اور اس کا غیر اس کی نظر میں فانی، زوال پذیر اور فاقد قدرت ہوگا۔
صرف خدا کی ذات قابل اعتماد و ستائش ہے اور یہ لیاقت رکھتی ہے کہ انسان اسے تمام چیزوں میں اپنا سہارا قرار دے یہ فکر اور اعتماد انسان کا ناطہ تمام موجودات سے توڑ کر صرف خدا سے جوڑ دے گا۔ یہاں تک کہ اب وہ عالم اسباب کی تلاش بھی حکم خدا کے تحت کرتا ہے یعنی اسباب میں بھی وہ قدرت خدا کا مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ خدا ہی مسبب الاسباب ہے۔
چند اہم نکات
۱۔ آیت میں حصر کا مفہوم : عربی ادبیات کے قوعد کے مطابق جب مفعول، فاعل پر مقدم ہوجائے تو اس سے حصر کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی ایاک ، کا نعبد اورنستعین پر مقدم ہونا دلیل حصر ہے۔ اور اس کا نتیجہ وہی توحید عبادت اور توحید افعال ہے جسے ہم پہلے بیان کرآئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندگی اورعبودیت میں بھی ہم اس کی مدد کے محتاج ہیں اور اس کے لئے بھی ہم اسی سے طلب اعانت کرتے ہیں تاکہ کہیں انحراف، خود پسندی، ریاکاری اور ایسے دیگر امور میں گرفتار نہ ہوجائیں کیونکہ یہ چیزیں عبودیت کوریزہ ریزہ کردیتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ ہم پہلے جملے میں کہتے ہیں کہ ہم صرف تیری پرستش کرتے ہیں اس میں کچھ نہ کچھ استقلال کی بو آتی ہے لہذا فورا ایاک نستعین سے ہم اس کی اصلاح کرلیتے ہیں اس طرح بین الامرین(نہ جبر نہ تفویض) کو اپنی عبادت میں جمع کرلیتے۔ یہ حالت ہمارے تمام کاموں کے لئے ایک نمونہ ہے۔
۲۔ نعبد و نستعین اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت اور خصوصا نماز کی اساس جمع و جماعت پر رکھی گئی ہے یہاں تک کہ جب بندہ خدا کے سامنے راز و نیاز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو جماعت و اجتماع کے ساتھ شمار کرے چہ جائے کہ اس کی زندگی کے دیگر کام۔ اس بناء پر ہر قسم کی انفرادیت علیحدگی، گوشہ نشینی اور اس قسم کی چیزیں قرآن اور اسلام کی نظر میں مردود قرار پاتی ہیں۔
نماز میں اذان و اقامت (جو نماز کے لئے اجتماع کی دعوت ہے)سے لے کر حی علی خیرالصلواة(نماز کی طرف جلدی آوٴ)سے گزرتے ہوئے سورہ الحمد تک جو نماز کی ابتداء اور السلام علیکم تک جو نماز کااختتام ہے، سب اس امر کی دلیل ہے کہ یہ عبادت در اصل اجتماعی پہلو رکھتی ہے یعنی اسے صورت جماعت میںانجام پذیر ہونا چاہئے اگر چہ یہ صحیح ہے کہ نماز فرادی بھی اسلام میں صحیح ہے لیکن عبادت فرادی جنبہ فرعی کی حامل ہے اور ایسی عبادت دوسرے درجے کی عبادت قرار پاتی ہے۔
۳۔ طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب : انسان اس جہاںکئی ایک طاقتوں سے نبرد آزما ہے۔ چاہے وہ طاقتیں طبیعی و مادی ہوں یا انسان کے اندر کی طاقتیں۔ تباہ و برباد اور منحرف کرنے والی چیزوں کا مقابلہ کرنے کےلئے انسان کو یارو مددگار کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے جہاںانسان اپنے تئیں پروردگار کے سایہ رحمت کے سپرد کرتا ہے۔ ہر روز انسان بستر خواب سے اٹھتا ہے اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کی تکرار سے پروردگار کی عبودیت کا اعتراف کرکے اس کی ذت پاک سے اس بڑے مقابلے میں مدد حاصل کرتا ہے اور شام کے وقت بھی اسی جملے کی تکرار سے سر اپنے بستر پر رکھتا ہے گویا اس کی یاد سے اٹھتا ہے۔ اور اسی کو یاد کرتے ہوئے طلب استعانت کے بعد سوتا ہے۔ ایسا شخص کتنا خوش نصیب ہے ۔ یہی شخص ایمان کے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر کسی سرکش و طاقت ور کے سامنے سر نہیں جھکاتا اور مادیات کی کشمش کے مقابلے میں اپنے آپ کو دھوکا نہیں دیتا اور وہ پیغمبر اسلام(ص) کی پیروی میں کہتا ہے : ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔
یقینا میری نماز، میری عبادت، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اس خدا کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے۔ (الانعام، ۱۶۲)۔