البقرة

وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ 101

شان نزول

مندرجہ بالا پہلی آیت کے سلسلے میں ابن عباس سے شان نزول منقول ہے کہ ابن صوریانے ڈھٹائی اور عناد کی بناء پر پیغمبر اسلام سے کہا:

تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور خدا نے تم پر کوئی واضح نشانی نازل نہیں کی کہ ہم تمہاری اتباع کریں۔

اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اسے صراحت سے جواب دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی محدود نہیں کرسکتا اور ان کے کلیت و عمومیت میں کمی نہیں ہوتی اگر چہ ان کے آغاز کا سبب وہی ہوتاتھا۔

پیمان شکن یہودی

زیر بحث پہلی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ کافی دلیلیں، روشن نشانیاں اور واضح آیات پیغمبر اکرم کے پاس تھیں۔ جو لوگ انکار کرتے وہ در اصل آپ کی دعوت کی حقانیت کو جان چکتے تھے لیکن مخصوص اغراض کی خاطر مخالفت میں کھڑے ہوجاتے۔ قرآن کہتاہے: ہم نے تم پر آیات بینات نازل کیں اور فاسقین کے سواکوئی ان سے کفر نہیں کرتا (لَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِہَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ

آیات قرآن پر غور و فکر کرنے سے ہر پاک دل اور حق جو انسان کے لئے راستے واضح اور و روشن ہوجاتے ہیں اور ہر کوئی ان آیات کے مطالعے سے پیغمبر اسلام کی صداقت اور قرآن کی عظمت کو پالیتاہے لیکن اس حقیقت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کا دل گناہ کے اثر سے سیاہ نہ ہوچکا ہو اور تعجب نہیں کہ فاسق لوگ فرمان خدا کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں اور اپنی صحیح فطرت کو تسلسل گناہ کے باعث گنوا بیٹھتے ہیں، وہ کبھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔

اس کے بعد یہودیوں کے ایک گروہ کی ایک بہت قبیح صفت یعنی ایفائے عہد کی عدم پاسداری اور پیمان شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: کیا جب کبھی انہوں نے خدا اور پیغمبر سے عہد و پیمان باندھا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت نہیں ڈال دیا اور اس کی مخالفت نہیں کی (اوَکُلَّمَا عَاہَدُوا عَہْدًا نَبَذَہُ فَرِیقٌ مِنْہُمْ بَلْ اٴَکْثَرُہُمْ لاَیُؤْمِنُونَ

) بے شک وہ ایسے ہی ہیں اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے (بل اکثرہم لا یومنون

خدانے کوہ طور پر ان سے یہ عہد لیاتھا کہ تورات کے احکام پر عمل کریں گے لیکن انہوں نے یہ عہد توڑدیا یا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ ان سے یہ عہد بھی لیاگیاتھا کہ پغمبر موعود (پیغمبر اسلام جن کے آنے کی بشارت تورات میں موجود تھی) پر ایمان لے آئیں، انہوں نے اس عہد پر بھی عمل نہیں کیا۔

جب پیغمبر اسلام مدینہ میں آئے تو بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں سے عہد و پیمان ہوا کہ وہ آپ کے دشمن کی مدد نہیں کریں گے لیکن آخر کار انہوں نے یہ عہد بھی توڑدیا اور جنگ احزاب (خندق میں اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔

بنیادی طور پر یہودیوں کی اکثریت کا پرانا طریقہ اور سنت ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کی پابندی نہیں کرتے۔ ہم آج بھی واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونیوں اور اسرائیل کا مفاد جہاں خطرے میں بین الاقوامی معاہدوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں ۔ زیر بحث آیات میں سے آخری اس موضوع کو صراحت سے اور گویا تاکید سے بیان کرتی ہے۔ فرمایا: خدا کا بھیجا ہو اان کے پاس آیا جوان نشانیوں کے مطابق تھا جوان کے ہاں موجود تھیں، ان میں سے ایک جماعت جو صاحب کتاب لوگوں (علماء) پر مشتمل تھی اس نے کتاب خدا کو ایسے پس پشت ڈال دیا گویا انہیں علم ہی نہ تھا(وَلَمَّا جَائَہُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُہُورِہِمْ کَاٴَنَّہُمْ لاَیَعْلَمُونَ

مندرجہ بالا ابحاث میں قرآن نے اپنی دیگر بحثوں کی ایک جمعیت کی اکثریت کے گناہ کی وجہ سے سب کو قابل ملامت قرار نہیں دیا بلکہ (فریق) اور اکثریت کے الفاظ استعمال کرکے اقلیت کے تقوی و ایمان کے حصے کی حفاظت کی ہے اور حق طلبی و حق جوئی کی یہی راہ و رسم ہے۔