البقرة
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ 107
ان آیات میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازشوں اور وسوسوں سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ کبھی تو مسلمانوں سے وہ کہتے تھے دین تو یہودیوں کا دین ہے اور کبھی کہتے قبلہ تو یہودیوں ہی کا قبلہ ہے اسی لئے تو تمہارا پیغمبر ہمارے قبلہ (بیت المقدس) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتا ہے لیکن جب قبلہ کا حکم
بدل دیا گیا اور اس سورہ کی آیت ۱۴۴ کے مطابق مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اب وہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں۔ اب یہودیوں کے ہاتھ پہلے والی بات تو نہ رہی لیکن وہ نیاراگ الاپنے لگے اور کہنے لگے: اگر قبلہ اول صحیح تھا تو یہ دوسرا حکم کیاہے اور اگر دوسرا حکم صحیح ہے تو پھر تمہارے پہلے اعمال باطل ہیں۔ قرآن ان آیات میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتاہے اور مومنین کے دلوں کو روشن کرتاہے۔۱
قرآن کہتاہے: ہم کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کی تنسیخ کو تاخیر میں نہیں ڈالتے مگر اس سے بہتر یا اس جیسے کسی دوسرے حکم کو اس کی جگہ نافذ کردیتے ہیں (ما ننسخ من ایة او ننسھا نات بخیر منھا او مثلھا) اور خدا کے لئے یہ آسان ہے، کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے (اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ)۔
وہ حق رکھتا ہے کہ مصالح کے مطابق اپنے احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرے اور وہ اپنے بندوں کے مصالح سے زیادہ آگاہ اور زیادہ بصیر ہے
اور کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں ہے ( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر)۔
حقیقت میں اس آیت کا پہلا جملہ احکام میں خدا کی حاکمیت اور بندوں کے تمام مصالح کی تشخیص میں اس کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ ان حالات میں مومنین کو نہیں چاہئیے کہ وہ ان خود غرض لوگوں کی باتوں کی طرف کان دھریں جو نسخ احکام کے مسئلہ میں شک و تردد کرتے ہیں۔
دوسرا جملہ ان لوگوں کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے علاوہ اپنے لئے سہارے کا انتخاب کرگیاس کیونکہ عالم میں اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں۔
کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے:
لغت کی نظرسے نسخ کا معنی ہے ختم کرنا اور زائل اور شریعت کی منطق میں نسخ ایک حکم بدل کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنے کو کہتے ہیں، مثلا:
۱۔ ہجرت کے سولہ ماہ بعد تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اس کے بعد قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا اور انہیں پابند کیا گیا کہ اب نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کیاکریں۔
۲۔ سورہ نساء آیہ ۱۵ میں بدکار عورتوں کی سزا کے سلسلے میں حکم دیاگیاتھا کہ چار گواہوں کی شہادت پر انہیں گھر میں بند کردیاجائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں یا خدا ان کے لئے کوئی اور راستہ مقرر کردے۔
یہ آیت سورہ نور کی آیت اسے منسوخ ہوگئی اور اس آیت کی روسے ان کی سزا سو تازیانے مقرر ہوئی۔
اس مقام پر یہ اعتراض کیاجاتاہے کہ اگر پہلا حکم مصلحت کا حامل تھا تو پھرا سے منسوخ کیوں کیا گیا اور اگر اس میں مصلحت نہیں تھی تو ابتدا میں نافذ کیوں کیا گیا۔ بہ الفاظ دیگر کیاتھا اگر ابتداء ہی سے ایسا حکم نازل ہوتا کہ تنسیخ اور تغیر کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس سوال کا جواب علماء اسلام بہت پہلے اپنی کتب میں دے چکے ہیں۔ ہم اس کا خلاصہ کچھ اپنی توضیح کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ زمانے اور علاقے کے لحاظ سے انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ ایک دن ایک پروگرام اس کی سعادت کا ضامن تھا لیکن دوسرے دن ممکن ہے حالات بدل جانے سے وہی پروگرام اس کے راستے کا کانٹا بن جائے۔
ایک دن ایک دوا بیمار کے لئے بہت مفید ہے اور ڈاکٹر اس کے استعمال کا حکم دیتا ہے جب کہ دوسرے دن بیمار کے کچھ صحت مند ہوجانے کی وجہ سے ممکن ہے یہی دوا اس کے لئے نقصان دہ ہو لہذا ڈاکٹر اس دوا کو ترک کرنے اور اس کے بجائے دوسری دوا استعمال کرنے کا حکم دیتاہے۔
ممکن ہے اس سال طالب علم کے لئے کچھ درس اصلاحی اور مفید ہوں لیکن یہی دروس آئندہ سال یا بعد کے چند سال کے لئے بے فائدہ ہوں۔ معلم کو چاہئیے کہ ایسا پروگرام اور نصاب مرتب کرے جو ہر سال کی اپنی ضروریات کے مطابق ہو۔اگر ہم تکامل انسان کی روش اور مختلف معاشروں کی طرف توجہ دیں تو یہ بات زیادہ روشن ہوجاتی ہے کہ کبھی ایک پروگرام مفید اور اصلاحی ہوتاہے اور کبھی و ہی نقصان وہ اور لازمی طور پر قابل تغیر ہوتاہے خصوصا اجتماعی، نظریاتی اور عقائد انقلابات کے آغاز میں پروگراموں کی تبدیلی کی ضرورت مختلف اوقات میں زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
البتہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ احکام الہی کے اساسی ارکان کے اصول بالکل تبدیل نہیں ہوتے وہ ہر جگہ ایک جیسے رہتے ہیں۔ توحید، عدالت اجتماعی کے اصول اور اس قسم کے سینکڑوں احکام ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے تغیر تو جزئیات اور دوسرے درجے کے احکام میں ہوتاہے۔
اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ممکن ہے مذاہب کاتکا مل اس مقام پر پہنچ جائے کہ آخری مذہب خاتم ادیان کے عنوان سے نازل ہو اور اس طرح کہ اب احکام کی تبدیلی کی اس میں کوئی گنجائش نہ ہو۔۱
۱ اس موضوع کی پوری تفصیل انشاء اللہ آپ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں گے۔
مشہور اگر چہ یہی ہے کہ یہودی نسخ کے کلی طور پر منکر ہیں اور وہ اسی بناء پر مسلمانوں کے قبلہ کی تبدیلی پر معترض تھے لیکن وہ مجبور ہیں کہ اپنے مذہب کی بنیادی کتب کی روشنی میں نسخ کو تسلیم کریں کیونکہ تورات کے مطابق جس وقت نوح کشتی کے نیچے اترے تو خدا نے ان کے لئے تمام جانور حلال کردیے لیکن یہی حکم موسی کی شریعت میں منسوخ ہوگیا اور کچھ حیوانات حرام ہوگئے۔
تورات کے سفر تکوین، فصل ۹، شمارہ ۳ میں ہے:
ہر حرکت کرنے والا جو زندہ رہے وہ تمہاری خوراک ہوگا اور یہ سب سبزہ زار کی گھاس کی طرح ہم نے تمہیں دیئے ہیں۔
لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے:
لغت میں (آیت ) نشانی اور علامت کو کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلا
۱۔ قرآن کے جملے اور فقرے جو خاص علامات کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا کئے گئے ہیں وہ آیت کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن میں ہے:
تِلْکَ آیَاتُ اللهِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ
یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں۔ (بقرہ ۲۵۲)
۲۔ معجزات کا ذکر آیت کے عنوان سے ہواہے۔ چنانکہ حضرت موسی کے مشہور معجزہ ید بیضا کے بارے میں ہے:
وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلَی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اٴُخْرَی
ہاتھ گریبان میں بغل کے نیچے تک لے جاو جب وہ باہر نکلے گا تو سفید چمکنے والا بے عیب و نقص ہوگا اور یہ ایک اور معجزہ ہے۔ (طہ۔۲۲)
۳۔ خدا شناسی کی دلیل یا قیامت کی نشانی کے لئے بھی لفظ آیات قرآن میں آیاہے۔ ارشاد الہی ہے:
و جعلنا الیل و النہار ایتین
رات اور دن کو ہم نے (خدا شناسی کے لئے) دو دلیلیں قرار دیا۔ (بنی اسرائیل۔۱۲)
قیامت پر استدلال کے موقع پر فرمایا:
و من ایتہ انک تری الارض خاشعة فاذا انزلنا علیہا الماء اہتزت و ربت ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شی قدیر
اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک اور سونی پڑی ہوئی ہے لیکن جب اس پر (بارش کا) پانی برستاہے تو وہ حرکت میں آتی ہے اور اس کے سبزے اگنے لگتے ہیں۔ وہی ذات جس نے زمین کو زندہ کیاہے۔ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (حم السجدہ۔۳۹)
۴۔ آنکھوں کو متاثر کرنے والی چیزوں کے لئے بھی یہ لفظ آیاہے۔ مثلا اس آیت میں بلند و عالی محلات کے بارے میں ہے:
اتبنون بکل ریع ایة تعبثون
کیا ہر بلند جگہ پر عمارتیں بناتے ہو تا کہ ان میں مصروف لہو و لعب رہ سکو۔ (شعراء۔۱۲۸)
واضح ہے کہ ان مختلف معانی میں ایک قدر مشترک ہے اور و ہ ہے (نشانی)۔ البتہ زیر بحث آیات میں قرآن نے کہاہے(ہم اگر ایک آیت منسوخ کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہتر لاتے، ہیں) یہاں آیت سے مراد حکم سے۔ اگر ایک منسوخ ہوا تو اس سے بہتر نازل ہوگا یا اگر ایک نبی کا معجزہ منسوخ ہوا تو بعد والے نبی کو زیادہ واضح معجزہ دیاجاتاہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ بعض روایات میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہے کہ نسخ آیت ایک امام کی وفات اور اس کی جگہ دوسرے کی تقرری کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ مفہوم زیر نظر آیت کا ایک مصداق ہے۔
(ننسھا) کی تفسیر:
(ننسھا) کا لفظ محل بحث آیات میں (ننسخ) پر عطف ہے۔ اس کا مادہ (انساء) ہے۔ یہاں یہ لفظ تاخیر کرنے، حذف کرنے اور اذہان سے زائل کرنے کے معنی میں آیاہے
اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ (ننسخ) کو سامنے رکھتے ہوئے اس لفظ کا مفہوم کیا ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کریں یا اس کا تنسیخ میں بعض مصالح کے پیش نظر تاخیر کریں تو ہر صورت میں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آئیں گے۔ اس بناء پر لفظ (ننسخ) تھوڑی مدت کے نسخ کے لئے اور (ننسہا) دراز مدت کے نسخ کے لئے ہے۔
(او مثلہا) کی تفسیر:
مندرجہ بالا بات کو پیش نظر رکھیں تو فورا سوال پیدا ہوگا کہ (او مثلھا ) سے کیا مراد ہے۔ اگر کوئی حکم پہلے جیسے حکم کی طرح کاہے تو فضول نظر آتاہے۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک چیز منسوخ کرکے اس جیسی ہی دوسری چیز لائی جائے ناسخ کو منسوخ سے بہتر ہونا چاہیئے تا کہ نسخ قابل قبول ہو۔
اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے کہ مثل سے مراد یہ ہے کہ ایسا حکم اور قانون پیش کیاجائے جس کا اثر بھی گذشتہ زمانے میں گذشتہ قانون کا ساہو۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ ہوسکتاہے ایک حکم آج کئی آثار و فوائد کا حامل ہو لیکن اس سے یہ آثار کھو جائیں۔
اس صورت میں اسے منسوخ ہوجانا چاہئیے اور اس کی جگہ نیا حکم آنا چاہیئے جو اگر اس سے بہتر نہ ہو تو کم از کم اس جیسے آثار کا حامل ہو اور یہ چیز زمانے اور حالات سے وابستہ ہے کہ کبھی گذشتہ حکم کی طرح کا قانون چاہیئے اور کبھی اس سے بہتر۔ اس طرح کسی قسم کا کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
۱ یہ بھی احتمال ہے کہ مندرجہ بالا آیات کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے نہ ہو بلکہ بعض دیگر احکام اسلام کے تغیر و نسخ سے ہو جیسا کہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور سید قطب نے اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں ذکر کیاہے۔
چند اہم نکات