البقرة
وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ 113
شان نزول
بعض مفسرین نے ابن عباس سے یوں نقل کیاہے:
جب نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو علماء یہود کا ایک گروہ بھی وہاں موجود تھا۔ عیسائیوں اور ان کے در میان آنحضرت کے سامنے ہی جھگڑا شروع ہوگیا۔ رافع بن حرملہ جو ایک یہودی تھا اس نے عیسائیوں کی طرف منہ کرکے کہا: تمہارے دین کی کوئی اساس نہیں ہے نیز اس نے حضرت عیسی کی نبوت اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے بعینہ یہی جملہ اس کے جواب میں کہا: کہنے لگا: یہودیوں کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور اس نے حضرت موسی کی نبوت اور ان کی کتاب تورات کا انکار کیا۔ اسی اثناء میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور دونوں گروہوں کو ان کی غلط اور نادرست گفتگو پر ملامت کی -
بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے
گذشتہ آیات میں ہم نے یہود و نصاری کی ایک جماعت کے کچھ بے دلیل دعووں کو ملاحظہ کیا۔ زیر بحث آیت نشاندہی کرتی ہے کہ بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے اور ہر گروہ اپنی اجارہ داری کا خواہشمند ہوتاہے۔ ارشاد ہے: یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کی خدا کے ہاں کوئی اہمیت و حیثیت نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کی کوئی وقعت نہیں اور وہ باطل پر ہیں (وَقَالَتْ الْیَہُودُ لَیْسَتْ النَّصَارَی عَلَی شَیْءٍ وَقَالَتْ النَّصَارَی لَیْسَتْ الْیَہُودُ عَلَی شَیْء) (لیستعلی شیء ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ وہ درگاہ الہی میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے یا ان کے مذہب کی کوئی حیثیت نہیں۔
مزید فرمایا: یہ ایسی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آسمانی کتاب پڑھتے ہیں ( و ھم یتلون الکتب) یعنی کتب خدا جن سے وہ حقائق سمجھ سکتے ہیں، کے حامل ہونے کے با وجود صرف تعصب ، عناد اور ڈھٹائی کی باتیں کرنا تعجب انگیز ہے۔
حضرت موسی نے حضرت مسیح کے آنے کے بارے میں جو بشارتیں دی ہیں ان کی طرف توجہ کریں تو یہودی بغیر تعصب کے ان کی نبوت قبول کرسکتے ہیں اور عیسائی بھی انجیل کی تعلیمات اور حضرت مسیح کی گفتگو سامنے رکھیں تو تورات اور حضرت موسی کی نبوت پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ حضرت مسیح نے فرمایا ہے کہ میں حضرت موسی کی شریعت کی تکمیل کے لئے آیاہوں۔
قرآن مزید کہتاہے: نادان مشرکین بھی ان کی سی باتیں کہتے تھے (حالانکہ یہ اہل کتاب ہیں اور وہ بت پرست ہیں، (کذالک قال الذین لا یعلمون مثل قولھم)۔
در حقیقت اس آیت میں قرآن نے تعصب کے اصل سرچشمہ کا ذکر کیاہے جو جہل و نادانی ہے کیونکہ نادان انسان ہمیشہ اپنی زندگی کے گروہی محصور رہتے ہیں اس کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتے اور بچین سے جس مذہب سے آشنا ہوں اپنے دل کو سختی کے ساتھ منسلک رکھتے ہیں چاہے وہ فضول اور بے بنیاد ہو اور اس کے علاوہ ہر چیز کا انکار کردیتے ہیں۔
آیت کے آخر میں ہے: اس اختلاف کا فیصلہ اللہ آخرت میں خود کرے گا۔ (فااللہ یحکم بینھم یوم القیمة فیما کانوا فیہ یختلفون)۔
آخرت وہ مقام ہے جہاں حقائق زیادہ روشن اور واضح ہوجائیں گے۔ ہر چیز کے اسناد و مدارک آشکار ہوجائیں گے اور وہاں کوئی شخص حق کا انکار نہیں کرسکے گا۔ اس وقت تمام اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ گویا قیامت کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اختلافات باقی نہ رہیں گے۔
مندرجہ بالا آیت میں ضمنا یہ بھی ہے کہ خدا مسلمانوں کو تسلی دیتاہے کہ اگر ان مذاہب کے پیروکار تمہارے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں اور تمارے دین کو جھٹلاتے ہیں تو اس کی ہرگز پرواہ کرو وہ تو خود کو بھی قبول نہیں کرتے ان میں سے ہر ایک دوسرے پر نفی کی لاٹھی چلاتاہے۔ اصولی طور پر تعصب کا سرچشمہ جہل و نادانی ہے اور تعصب اجارہ داری خواہش کا منبع ہے۔
1 اگر چہ لفظ (قالوا) بصورت واحد ہے لیکن معلوم ہے کہ دو گروہوں کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں سے ہر ایک کا دعوی الگ ہے ۔ یہودی کہتے ہیں جنت ہمارے لئے مخصوص ہے اور عیسائی کہتے ہیں ہمارے لئے مخصوص ہے۔