البقرة
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ 114
شان نزول
کتاب (اسباب النزول) میں ابن عباس سے یوں منقول ہے:
یہ آیت مظلوم رومی اور اس کے عیسائی ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل سے جنگ کی، تورات کو آگ لگائی، ان کی اولاد کو قید
کرلیا، بیت المقدس کو ویران کرد یا اور اس میں مردہ چیزیں پھینک دیں۔
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں ابن عباس سے ناقل ہیں:
بیت المقدس کو خراب کرنے اور تباہ و بر باد کرنے کی کوشش مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔
امام صادق سے بھی ایک روایت منقول ہے جس میں ہے:
یہ آیت قریش کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب وہ پیغمبر اسلام کو شہر مکہ اور مسجد الحرام میں داخل ہونے سے منع کررہے تھے۔
بعض نے اس آیت کی تیسری شان نزول ذکر کی ہے کہ اس سے مراد وہ جگہیں اور مکانات ہیں جو مکہ میں نماز کے لئے مسلمانوں کے پاس تھے اور مشرکین نے پیغمبر اکرم کی ہجرت کے وقت انہیں ویران کردیاتھا۔۱
کوئی مانع نہیں کہ آیت کا نزول ان تمام حوادث و واقعات کے ضمن میں ہو۔ لہذا ان میں سے ہر شان نزول مسئلے کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتی ہے۔
آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین
مندرجہ بالا تفسیر شان نزول کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین کی طرف ہے اگرچہ گذشتہ آیات میں زیادہ تر یہودیوں کے بارے میںبحثیں آئی ہیں اور کہیں کہیں نصاری کی طرف بھی اشارہ ہے۔قبلہ کی تبدیلی کے معاملے کے بارے میں یہودی وسوسہ ڈال کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں تا کہ اس سلسلے میں انہیں برتری حاصل رہے اور اس طرح مسجد الحرام اور کعبہ کی رونق بھی کم ہوسکے۔2
مشرکین مکہ بھی پیغمبر اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روک کر عملا اس خدائی عمارت کی بربادی کی طرف قدم اٹھارہے تھے۔
عیسائی بھی بیت المقدس پر قبضہ کرکے اس میں وہ ناپسندیدہ اعمال سرانجام دیتے جن کا ذکر ابن عباس کی روایت میں آچکاہے تا کہ اسے برباد کرسکیں۔
ان تینوں گروہوں اور ایسے تمام اشخاص جو اس راہ پر قدم اٹھاتے ہیں کو مخاطب کرکے قرآن کہتاہے: اس شخص سے بڑھ کے کون ظالم ہوسکتاہے جو اللہ کی مسجدوں میں خدا کام نام لینے سے روکتے ہیں اور انہیں ویران و بر باد کرنے کی کوشش کرتے ہیں ( و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ و سعی فی خرابھا)۔ یوں قرآن ایسی رکاوٹ کو ظلم عظیم اور یہ کام کرنے والوں کو ظالم ترین افراد قرار دیتاہے۔ اور واقعا اس سے بڑا کیا ظلم ہوسکتاہے کہ درگاہ توحید کو بر باد کرنے کی کوشش کی جائے ، لوگوں کو حق تعالی کی یاد سے روکاجائے اور معاشرے میں فساد بر پاکیا جائے۔
آیت مزید کہتی ہے: مناسب نہیں کہ یہ لوگ خوف و وحشت کے بغیر ان مکانات میں داخل ہوں (اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین)
یعنی۔ دنیا کے مسلمانوں اور توحید پرستوں کو چاہیئے کہ وہ اس مضبوطی سے قیام کرےں کہ ان ستمگروں کے ہاتھ ان مقدس مقامات سے دور ہوجائیں اور ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان بلاخوف ان مقامات مقدسہ میں داخل نہ ہوسکے۔مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ستمگران مراکز عبادت کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکیں گے۔ بلکہ آخر کاران میں بلاخوف قدم بھی نہیں رکھ سکیں گے جیسا کہ مسجد الحرام کے بارے میں مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا۔ٓآخر میں ایسے عظیم ستمگروں کے لئے دنیا و آخرت میں ہلادینے والی سزا کا ذکر کرہے۔ فرمایا: ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے (لھم فی الدنیا خزی و لھم فی الاخرة عذاب عظیم) ۔ وہ لوگ جو خدا اور خدا کے بندوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہیں ان کا یہی انجام ہے۔
مساجد کی ویرانی کی راہیں:
اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم وسیع اور کافی پھیلا ہوا ہے اور کسی زمان و مکان سے مخصوص نہیں ہے جیسے دیگر آیات ہیں جو اگر چہ خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان کا حکم تمامی زمانوں کے لئے مسلم ہے۔ اس بناء پرہر شخص اور ہر وہ گروہ جو کسی طرح مساجد الہی تباہی و ویرانی کی کوشش کرے یا اس میں ذکر خدا اور عبادت سے روکے وہ اسی رسوائی اور عذاب عظیم کا مستحق ہوگا۔ جس کی طرف آیت میں اشارہ ہواہے۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مساجد میں داخل ہونے اور ان میں ذکر پروردگار کو روکنے اور ان کی ویرانی و بر بادی کی کوشش کا صرف یہ مطلب نہیں کہ بیلچے یا ایسے کسی ہتھیاری سے مسجد کو تباہ کیاجائے بلکہ ہر وہ عمل جس کا نتیجہ مسجد کی ویرانی اور اس کی رونق میںکمی ہو اس میں شامل ہے۔
آیت (انما یعمر مساجد اللہ) (توبہ۔۱۸) کی تفسیر میں تفصیل سے آئے گا کہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق تعمیر اور آبادی سے مراد مساجد کی عمارتیں بنانا ہی نہیں بلکہ مساجد میں جانا اور وہاں کی مذہبی محافل و مجالس جو یاد خدا کا باعث ہیں کی طرف توجہ رکھنا بھی تعمیر کے مفہوم میں شامل ہے بلکہ یہی اہم ترین حصہ ہے۔ اس بناء پر جو چیز یاد خدا سے لوگوں کی غفلت کا باعث بنے اور جس سے لوگ مساجد سے دور ہوں وہ بہت بڑا ظلم ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ اس دور میں نادان ، خشک مزاج اور عقل و منطق سے عاری متعصبین کا ایک گروہ پیدا ہو گیاہے جو چاہتاہے کہ احیائے توحید کے بہانے ان مساجد اور عمارات کو بر باد کردے جو آئمہ اہل بیت ، بزرگان اسلام اور صلحائے دین کی قبور پر واقع ہیں اور ہمیشہ سے یاد خدا کا مرکز ہیں۔ زیادہ تعجب تو اس پرہے کہ یہ بنے منطق ستمگر احیائے توحید اور رد شرک کے نام پر یہ افعال انجام دیتے ہوئے بہت سے گناہان کبیرہ کا ارتکاب کرجاتے ہیں۔ حالانکہ فرض کریں کہ کسی مرکز مقدس پر کوئی غلط کام سرانجام بارہاہے تو اس کام کورو کاجانا چاہئیے نہ کہ ان مراکز توحید کو بر باد کرنا چاہئیے۔
سب سے بڑا ظلم:
دوسرا نکتہ جو اس آیت میں قابل توجہ ہے یہ ہے کہ خداوند عالم ان اشخاص کو ظالم ترین قرار دیتاہے اور واقعا ایسا ہے کیونکہ مساجد کی بتاہی و بربادی اور مراکز توحید سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کا نتیجہ بے دینی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا نقصان ہر دوسرے عمل سے زیادہ ہے۔ اور اس کا برا اور غلط انجام بہت دردناک ہے۔
قرآن میں دیگر مقامات پر بھی لفظ (اظلم) (یعنی ۔ زیادہ ظالم) استعمال ہواہے۔ ان تمام امور کا نتیجہ شرک ہے اور توحید نفی ہے۔