البقرة

وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ 115

شان نزول
اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مختلف روایات منقول ہیں۔
ابن عباس کہتے ہیں:
اس آیت کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ جب بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ مقرر ہوا تو یہودیوں نے برا منایا اور مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ کیا قبلہ بھی بدلا جاسکتاہے۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ دنیا کے مشرق و مغرب کا مالک خدا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت مستحب نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی جب انسان کسی سواری پر سوار ہو تو سواری کا رخ کچھ بھی ہو (چاہے پشت بہ قبلہ ہو) مستحب نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
کچھ اور حضرات نے جابر سے نقل کیاہے:
پیغمبر اکرم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا۔ رات کے وقت جب تاریکی چھاگئی تو وہ سمت قبلہ نہ پہچان سکے اور سب نے مختلف سمتوں کی طرف نماز پڑھ لی۔ طلوع آفتاب پر انہیں معلوم ہوا کہ سب نے سمت قبلہ کے بغیر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ایسی صورت میں ان کی نماز صحیح ہے (البتہ اس حکم کی کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں درج ہیں)۔
کوئی مانع نہیں کہ جتنی شان ہائے نزول اوپر ذکر ہوئی ہیں وہ سب اس آیت کے لئے صحیح ہوں اور یہ آیت قبلہ کی تبدیلی ، سواری پر نماز نافلہ کی ادائیگی اور جب قبلہ کی پہچان نہ ہو رہی ہو تو نماز واجب کی ادائیگی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ علاوہ ازیں کوئی آیت شان نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم کو حکم
کلی کی صورت میں لیا جانا چاہئیے اور بسا اوقات اس سے مختلف قسم کے احکام حاصل ہوسکتے ہیں۔
تفسیر

جس طرف رخ کر و خدا موجود ہے

گذشتہ آیت میں ان ظالمین سے متعلق گفتگو تھی جو مساجد الہی کی آبادی سے روکتے تھے اور انہیں ویران کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ زیر نظر آیت اس بحث کا تتمہ ہے۔ ارشاد ہوتاہے: مشرق و مغرب خدا کے ہیں اور جس طرف رخ کرو خدا موجود ہے (وَلِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللهِ)۔
ایسا نہیں کہ اگرتمہیں مساجد اور مراکز توحید میں جانے سے روک دیاجائے تو خدا کی بندگی کی راہ بند ہوجائے گی۔ اس جہان کے مشرق و مغرب اس کی ذا ت پاک سے تعلق رکھتے ہیں اور جس طرف رخ کرو وہ موجود ہے۔ اسی طرح قبلہ کی تبدیلی جو بعض خاص وجوہ کے پیش نظر انجام پائی ہے اس سلسلے میں کچھ اثر نہیں رکھتی۔ کیا کوئی جگہ ہے جو خدا سے خالی ہو اصولا تو خدا بے عدیل و بے نیاز اور عالم و دانا ہے (ِ اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ)۔
اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں مشرق و مغرب سے مراد و مخصوص سمتیں نہیں بلکہ یہ تمام اطراف کے لئے کنایہ ہے ۔ جیسے ہم کہا کرتے ہیں کہ دشمنوں نے عداوت سے اور دوستوں نے خوف سے حضرت علی کے فضائل چھپائے لیکن اس کے با وجود مشرق و مغرب آپ کے فضائل سے بھرے پڑے ہیں (یعنی تمام اطراف اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں) اور شاید خصوصیت سے مشرق و مغرب کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ انسان سب سے پہلے انہی سمتوں کو پہنچانتاہے اور باقی جہات ان کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَہَا
جنہیں کمزور کرد یا گیاتھا ہم نے انہیں زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا ۔ (اعراف۔۱۳۷)
چند اہم نکات

 وجہ اللہ:

اس سے مراد خدا کا چہرہ نہیں بلکہ لفظ (وجہ) یہاں ذات کے معنی میں استعمال ہواہے۔
 مختلف روایات میں اس آیت سے ان لوگوں کی نماز صحیح ہونے کے بارے میں استدلال کیاگیاہے ۔ جنہوں نے اشتباہ یا تحقیق نہ ہوسکنے کی وجہ سے خلاف قبلہ نماز پڑھی ہو مزید بر آں اس سے سواری پر نماز پڑھنے کے جواز کے لئے بھی استدلال کیاگیاہے (مزید توضیح اور تفصیل کے لئے وسائل الشیعہ، کتاب الصلوة، ابواب قبلہ کی طرف رجوع کریں)۔