البقرة

إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۖ وَلَا تُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ 119

خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا

مندرجہ بالا آیات کی ابتداء میں یہودیوں کی بہانہ سازیوں کی مناسبت سے ایک اور گروہ کی بہانہ سازیوں کا تذکرہ کیا گیاہے۔ ظاہرا یہ مشرکین عرب ہی کے بارے میں ہے
فرمایا: بے علم لوگ کہتے ہیں خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا اور کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی ( و قال الذین لا یعلمون لولا یکلمنا اللہ او تاتینا ایة
در اصل یہ لوگ جنہیں قرآن (الذین لا یعلمون) کے عنوان سے یاد کررہاہے دو غیر منطقی خواہشیں رکھتے تھے:
۱۔ خدا ہم سے براہ راست بات کیوں نہیں کرتا۔
۲۔ کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی۔
غرور، ہٹ دھرمی اور خود پسند ہی پر مبنی ان باتوں کے جواب میں قرآن کہتاہے: ان سے پہلے بھی لوگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے، ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مثابہ ہیں لیکن جو حقیقت کے متلاشی اور اہل یقین ہیں۔ ان کے لئے ہم نے (کافی مقدار میں) آیات اور نشانیاں واضح کی ہیں (کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِثْلَ قَوْلِہِمْ تَشَابَہَتْ قُلُوبُہُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ ))
اگر واقعا ان کا مقصد حقیقت و واقعیت کو سمجھنا ہے تو یہی آیات جو پیغبر اکرم پر ہم نے نازل کی ہیں روشن نشانی ہیں آپ کے صدق کلام کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک ایک شخص پربراہ راست اور مستقلا آیات نازل ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا بلا واسطہ مجھ سے باتیں کرے۔
ایسی ہی گفتگو سورہ مدثر آیہ ۵۲ میں بھی ہے:
بل یرید کل امری منھم ان یوتی صحفا منشرة
ان میں سے ہر ایک یہ آرزو لئے بیٹھاہے کہ چند اوراق آیات اس پر نازل ہوں۔
کیسی نامناسب خواہش ہے؟
اس کے علاوہ کہ اس کی ضرورت نہ تھی بلکہ ان آیات کے ذریعے جو آپ پر نازل ہوئیں پیغمبر اکرم کی صداقت کا اثبات سب لوگوں پر ممکن تھا، یہ خود پسند مشرک
ایک بنیادی نکتے سے بے خبر تھے اور وہ یہ کہ ہر شخص پر آیات و معجزات نازل نہیں ہوسکتے اس کے لئے خاص قسم کی شائستگی ، آمادگی کی پاکیزگی ضروری ہے۔
یہ بالکل ایسے ہے کہ شہر میں بچھے ہوئے سب بجلی کے تار (قوی ہوں یا بہت ہی کمزور) یہ آرزو کریں کہ وہی بجلی جو بہت زیادہ طاقتور ہے اور جو سب سے پہلے مضبوط تاروں میں منتقل ہوئی ان کی طرف منتقل ہوجائے۔ یقینا یہ توقع انتہائی غلط اور ناروا ہوگی۔ وہ اانجینیرجس نے ان تاروں کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے تیار کیاہے ان کی صلاحیت معین کی ہے ان میں سے بعض بجلی بننے والے مقام سے بلاواسطہ منسلک ہیں اور بعض بالواسطہ۔
بعد کی آیت کاروئے سخن پیغمبر کی طرف ہے جو بتاتی ہے کہ خواہ مخواہ کی معجز ہ طلبیوں اور دیگر بہانہ سازیوں کے سلسلے میں آپ کی ذمہ داری کیاہے۔ فرمایا: ہم نے تجھے حق کے ساتھ (دنیا کے لوگوں کو) بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے بھیجاہے (إِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا)۔ تمہاری ذمہ داری ہے ہمارے احکام تمام لوگوں کے سامنے بیان کرنا ان کے سامنے معجزات پیش کرنا اور عقل و منطق سے حقائق واضح کرنا۔ اس دعوت کے ذریعے نیک لوگوں کو شوق و رغبت دلاؤ اور بدکاروں کو ڈراؤ تمہارے ذمے فقط یہی ہے۔
یہ پیغام پہنچائے جانے کے بعد اگر اب ان میں سے کوئی گروہ ایمان نہ لائے تو تم اہل جہنم کی گمراہی کے ذمے دار نہیں ہو ( و لا تسئل عن اصحاب الجحیم
چند اہم نکات

ان کے دل ایک جیسے ہیں:

مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتاہے کہ بہانہ سازیاں اور حیلہ گریاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلی کجرو ، قومیںبھی یہی کچھ کرتی رہی ہیں گویا ان کے دل بھی ان کے دلوں جیسے ہیں۔ یہ تعبیر اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ زمانہ گذرنے کا اور انبیاء کی تعلیمات کا یہ اثر تو ہونا چاہئیے کہ آنے والی نسلیں آگاہی اور علم کی زیادہ حصہ دار ہوں اور بہانہ سازیاں اور بے بنیاد باتیں جو انتہائی جہالت و نادانی کی نشانی ہیں انہیں کنارے لگادیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں نے اس تکاملی پروگرام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور اسی طرح کی ڈبھلی بجارہے ہیں۔
گویا ان سے ان کا ہزاروں سالہ تعلق ہے اور زمانہ بیت جانے سے ان کے افکار و نظریات میں ذراسی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔

 خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول:

خوش خبری دینا اور ڈرانا دوسرے لفظوں میں تشویق و تہدید تمام تربیتی اور معاشرتی پروگراموں کی بنیاد ہیں۔ اچھے کام کی انجام دہی پر جزا کی رغبت اور برے کام کی انجام دہی پرسزا کا خوف ضروری ہے تا کہ راہ خیر پر چلنے کا زیادہ و لولہ و جذبہ پیدا ہو اور قدم برے راستے پر اٹھنے سے بازرہ سکیں۔
صرف شوق دلانا فرد یا معاشرے کے تکامل کے لئے کافی نہیں کیونکہ انسان اگر صرف بشارتوں کا امید وار ہو اور ان پر مطمئن ہوجائے تو ممکن ہے کہ جرائم کی طرف ہاتھ بڑھائے چونکہ اسے اطمینان ہے اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔
مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل عیسائی فدیہ کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ عیسی ان کے گناہوں کا فدیہ ہو گئے ہیں۔ ان کے رہبر کبھی انہیں جنت کی سند بیچتے ہیں اور کبھی خدا کی طرف سے ان کے گناہ بخش دیتے ہیں۔ مسلم ہے کہ ایسے لوگ آسانی سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔
قاموس کتاب مقدس میں ہے:
خدا نیز اشارہ ہے مسیح کے گراں بہا خون کے کفارہ کی طرف جب کہ ہم سب کے گناہ ان پر رکھ دیئے گئے اور ہمارے گناہوں کے ضمن میں انہوں نے اپنے آپ کو صلیب کے لئے پیش کردیا۔
یہ منطق اس تحریف شدہ مذہب کے پیرو کاروں کے لئے گناہوں میں جسارت و جرات کا سبب بنتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ جو سمجھتے ہیں کہ تشویق ہی انسان کے لئے (چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا) کافی ہے اور تنبیہ و تہدید اور سزا و عذاب کا ذکر بالکل ایک طرف رکھ دینا چاہئیے وہ بڑے اشتباہ کا شکار ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو تربیت کی بنیاد صرف خوف و تہدید پر رکھتے ہیں اور تشویق کے پہلوؤں سے غافل ہیں وہ بھی گمراہ اور بے خبر ہیں۔
یہ دونوں گروہ انسان کو پہچاننے میں اشتباہ اور غلطی کرگئے ہیں وہ متوجہ نہیں کہ انسان خوف اور امید، ذات کی محبت، زندگی سے عشق اور فنا و نابودی سے نفرت کا مجموعہ ہے۔ وہ کشش منفعت اور دفع ضرر کا مرتکب ہے۔ وہ انسان جوان دونوں پہلووں کا حامل ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کی تربیت کی بنیاد صرف ایک پہلو پر رکھی جائے۔
ان دونوں میں ایک توازن ضروری ہے۔ اگر تشویق و امید حدسے بڑھ جائے۔ تو جرا ت و غفلت کا باعث ہے اور اگر خوف و اندیشہ حدسے گذرجائے تو اس کا نتیجہ یاس و ناامیدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآن میں نذیر و بشیر یا انذار و بشارت کا ایک ساتھ ذکر ہے بلکہ یہ بھی ملحوظ رکھا گیاہے کہ کبھی بشارت کو انذار پر مقدم رکھا گیاہے اور کبھی انذار کو بشارت پر زیر بحث آیت میں، بشیرا و نذیرا ہے اور سورہ اعراف آیہ ۱۸۸ ہے:
إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ
میں ایمان لانے والے کے لئے نذیرا ور بشیرہوں۔
البتہ اکثر آیات قرآن میں بشیر، بشارت یا مبشر کو مقدم رکھا گیاہے اور کم آیات میں نذیر مقدم ہے۔ ممکن ہے یہ اس لئے ہوکہ مجموعی طور پر رحمت خدا اس کے عذاب پر سبقت رکھتی ہے:
یا من سبقت رحمتہ غضبہ
اے وہ کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔