البقرة

۞ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَاسِقِينَ 26

زمین پر خلافت آدم کی داستان ۔ملائکہ کی طرف سے ان کی تعظیم کا واقعہ ،آدم کا عہدوپیما ن الٰہی کو بھول جانے کا ذکر اور پھر ان کی توبہ کا تذکرہ یہ سب کچھ ہم گذشتہ آیا ت میں پڑھ چکے ہیں ۔
اس و اقعے سے یہ حقیقت و اضح ہوئی کہ اس دنیا میں ہمیشہ دو مختلف طاقتیں ،حق و باطل ایک دوسرے سے بر سر پیکا ر ہیں جس شخص نے شیطان کی پیروی کی اس نے باطل کی راہ کو انتخاب کیا جس کا انجام ہے جنت اور جہنم سے دوری اور رنج وتکلیف میں مبتلا ہو نااوراس کے بعد پشیمانی ہے ۔اس کے خلاف جو فرمان خداوندی کی راہ پر چلتا رہا اور اس نے شیاطین اور باطل پرستوں کے وسوسوں کی پرواہ نہ کی وہ پا ک وپاکیزہ اور رنج وغم سے آسودہ زندگی بسرکرے گا ۔  بنی اسرئیل نے فر عونیوں کے چنگل سے نجات پائی ، زمین میں خلیفہ ہوئے پھر پیمان الٰہی کو بھو ل گئے اور دوبارہ رنج وبد بختی میں پھنس گئے چونکہ یہ واقعہ حضر ت آدم کے واقعے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اسی اصل کی ایک فرع شمار ہو تا ہے لہٰذ اخداوند عالم زیر بحث اور اسکے بعد دسویں آیت میں بنی اسرائل کے مختلف نشیب وفراز اور ان کی سر نوشت بیان کرتا ہے تاکہ وہ ترتیبی درس جو سر نوشت آدم سے شروع ہو اتھاان مباحث میں مکمل ہوجائے ۔ بنی اسرایل کی طرف ا س طرح ر وئے سخن ہے :اے بنی اسرائیل !ہماری ان نعمتون کو یاد کروجو ہم نے تمہیں بخشی ہیں اورمجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تاکہ میں بھی تم سے کئے ہوئے عہد سے وفا کروں اور صرف مجھ سے ڈرو(یابنی اسرائیل اذکروانعمتی التی انعمت علیکم واوفوبعہدی اوف بعہدکم وایای فارھبون
در حقیقت یہ تین دستور او راحکا م کی (خداکی عظیم نعمتوں کو یاد کرنا ،عہد پرور دگار کو پورا کرنااور اس کی نافرمانی سے ڈرنا )خدا کے تمام پروگر ا موں کی تشکیل کرتے ہیں ۔
اس کی نعمتوں کو یاد کرنا ۔انسا ن کو اس کی معرفت کی دعوت دیتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس ابھار تا ہے اس کے بعد اس نکتے کی طرف توجہ کی یہ نعمتیں بغیر کسی شر ط و قید کے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ خدانے عہد وپیمان لیا ہے یہ انسا ن اس کی الٰہی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتاہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ انسان ذمہ داری کی راہ میں کسی شخص یا ہستی سے نہ ڈرے ۔یہ سبب بنتا ہے کہ انسان اس راستے کی تمام رکا وٹوں کو دور کر دے اور اپنی ذمہ داریوں اور عہد وپیمان کو پوراکرے کیونکہ اس راستے کی اہم رکاوٹوں میں سے ایک بلا وجہ اِس سے اور اس سے ڈرنا ہے خصوصا بنی سرئیل جو سالہاسال تک فرعون کے زیر تسلط رہے تھے ۔خوف ان کے بدن کا جزء بن چکا تھا۔
 

کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟



مندر جہ میںسے پہلی آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس سے نہیں شرماتا کہ وہ اپنی موجودات میں سے جسے چاہے ظاہراًوہ چھوٹی سی ہوجیسے مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال دے (اناللہ لایستحی ان یضرب مثلا ًبعوضةفمافوقھا )کیونکہ مثال کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقصد کے مطابق ہو بہ الفاظ دیگر مثال حقیقت کی تصویر کشی کاذریعہ ہے ۔
بعض اوقات کہنے والا ہد عیان کی تحقیر اور ان کے کمزور پہلو کو بیان کررہا ہو تو کسی کمزور چیز کو مثال کے لئے منتخب کر تا ہے مثلا ًسورہ حج آیت ۷۳ میں ہے :
ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعو لہ ط و ان یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ط ضعف الطالب والمطلوب
خدا کو چھوڑکر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے چاہے وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں بلکہ اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ طلب کرنے والا اور جس سے طلب کی جارہی ہے دونوں کمزور ہیں ۔
آپ نے دیکھا کہ یہاں مکھی یا اس جیسی کسی چیز کی مثال سے بہتر کسی چیز کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جو ان کی کمزوری اور ناتوانی کی تصویر کشی کرے۔
سور ہ عنکبوت میں جب اس نے چاہا کہ بت پرستوں کے سہاروں کی کمزوری کی تصویر کشی کرے تو انہیں مکڑی سے تشبیہ دی جس نے اپنے لئے کمزور سے گھر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ دنیا میں کمزور ترین گھر عنکبوت ہی کا ہے :
مثل الذ ی ا تخذومن دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت صلے اتخذت بیتا ط وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون (عنکبوت ۴۱)
یہ بات مسلم ہے کہ اگر ان مواقع پر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثال کے بجائے عالم خلقت کی بڑی سے بڑی چیزوں مثلاََ ستاروں اور وسیع آسمانوں کی مثال پیش کی جائے تو بہت ہی نامناسب ہوگا اور اصول فصاحت وبلاغت کے بل کل مطابق نہ ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہمیں انکار نہیں کہ ہم مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال دیں تاکہ حقائق عقلی کو حسی مثالوں کے لباس میں پیش کیا جاسکے اور پھر انہیں بندوں کے اختیار میں دیں ۔
خلاصہ یہ کہ غرض تو مقصد پہنچانا ہے مثالیں ایسی قبا کی مانند ہونا چاہئے جو قامت مطالب پر فٹ آسکیں ۔
”فما فوقہا “ کا مقصود کیا ہے اس کی مفسرین نے دو قسم کی تفسیریں کی ہیں :
ایک گروہ کے مطابق اس سے مراد ”چھوٹے ہونے میں بڑھ کر “ ہے کیونکہ مثال چھوٹے ہونے کا بیان کررہی ہے لہذا اس سے بڑھ کر یا اس سے اوپر ہونا بھی اسی نظر سے ہے ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ایک روپیہ کے لئے کیوں اتنی زحمت اٹھا رہے ہو تمہیں شرم نہیں آتی اور وہ جواب دے کہ میں تو اس سے اوپر کے لئے بھی تکلیف اٹھاتا ہوںیہاں تک کہ ایک آنے کے لئے بھی ۔
بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد اوپر سے بڑے ہونے کے لحاظ سے ہے “یعنی خدا وند عالم چھوٹی چیزوں کی مثالیں بھی دیتا ہے اور بڑی کی بھی ،مقتضائے حا ل کے مطابق ۔
پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔
اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے :رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ بات ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے(فاما الذین آمنوا فیعلمون انہ الحق من ربھم) وہ ایمان اور تقوی کی روشنی میں تعصب ، عناد اور حق سے کینہ پروری سے دور ہیں اور وہ حق کے چہرے کو پوری طور سے دیکھ سکتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی مثالوں کی منطق کا ادراک کرسکتے ہیں ۔
لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کا اس مثال سے کیا مقصد تھا جو تفرقہ اور اختلاف کا سبب بن گئی ایک گروہ کی اس وجہ سے ہدایت کی ہے اور دوسرے کے گمراہ کیا ہے ( و اما الذین کفروا فیقولون ماذا اراد اللہ بھٰذا مثلا یضل بہ کثیرا و یھدی بہ کثیرا ) ان کے نزدیک یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مثالیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے ہوتیں تو سب لوگ اسے قبول کرلیتے ۔
مگر خدا انہیں ایک مختصر اور دو ٹو ک جواب دیتا کہ وہ اس کے ذریعہ صرف فاسقوں اور گنہگاروں کو جو حق کے دشمن ہیں گمراہ کرتا ہے ( وما یضل بہ الاالفاسقین )
اس بناء پر یہ ساری گفتگوخدا کی ہے اور نور وہدایت ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے جو استفتاء کرے اب اگر یہ دلوں کے اندھے مخالفت اور ڈھٹائی پر اتر آئے ہیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان اور خسارہ ہے ورنہ ان آیات الہی میں کوئی نقص نہیں (۱)
 

(۱)حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت:

حقائق واضح کرنے اور مطالب کو دل نشیں بنانے کےلئے مختلف مثالیں پیش کی جاتی ہیں اور ان کی اثر آفرینی ناقابل انکار ہے۔
بعض اوقات ایک مثال کا تذکرہ راستے کو اتنا کم کردیتا ہے کہ زیادہ فلسفیانہ استدلال کی زحمت وتکلیف سے کہنے اور سننے والے دونوں کو نجات مل جاتی ہے۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیچیدہ علمی مطالب کو عمومی سطح تک عام اور وسیع کرنے کے لئے مناسب مثالوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔
ڈھٹائی پسند اور حیلہ ساز لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے مثال کی تاثیر کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
بہرحال معقول کو محسوس سے تشبیہ دینا مسائل علمی عقلی کو سمجھانے کے لئے ایک مو ثر طریقہ ہے ( البتہ جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں مثال مناسب ہونی چا ہیے ورنہ گمراہ کن ،اتنی ہی خطرناک اور مقصد سے دور کرنے والی ہوگی ) اسی بنا ء پر قرآن میں ہمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جن میں سے ہر ایک بہت پر کشش ، بہت میٹھی اور بہت تاثیر ہے کیونکہ تمام انسانوں ، ہر سطح کے افراد اور فکر ومعلومات کے لحاظ سے ہر درجہ کے لوگوں کے لئے یہ کتاب انتہائی فصیح و بلیغ ہے۔(2)

 

(۲)مچھر کی مثال کیوں :

بہانہ سازوں نے اگر چہ مچھر اور مکھی کے چھوٹے پن کو آیات قرآن سے استہزا اور اعتراضات کا ذریعہ بنا لیا ہے لیکن اگر ان میں انصاف ،ادراک اور شعور ہوتااور اس چھوٹے سے جانور کی ساخت اور بناوٹ پر غور وفکر کرتے تو سمجھ لیتے کہ اس کے بنانے میں باریک بینی اور عمدگی کی ایک دنیا صرف ہوئی ہے کہ جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے ۔امام جعفر صادق اس چھوٹے سے حیوان کی خلقت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :
خداوند عالم نے مچھر کی مثال دی ہے حالانکہ وہ جسامت کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے جسم میں وہ تمام آلات اور اعضاء وجوارح ہیں جو خشکی کے سب سے بڑے جانور کے جسم میں ہیں ۔ یعنی ہاتھی اور اس کے علاوہ بھی اس کے دو عضو( سینگ اور پر ) ہیں جو ہاتھی کے پاس نہیں ہیں ۔ خدا وند عالم یہ چاہتا ہے کہ مومنین کو اس مثال سے خلقت و آفرینش کی خوبی اور عمدگی بیان کرے ، یہ ظاہر ََا ِِا کمزور سا جانور جسے خدا نے ہاتھی کی طرح پیدا کیا ہے اس میں غور وفکر انسان کو پیدا کرنے والے کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
خصوصا اس کی سونڈجو ہاتھی کی سونڈ کی طرح ہے اندر سے خالی ہے اور وہ مخصوص قوت سے خون کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔اس کی یہ ٹونٹی دنیا کی عمدہ ترین سرنگ ہے اور اس کے اندرونی سوراخ بہت باریک ہے ۔
خدا نے مچھر کو قوت جذب ودفع اور ہاضمے کی قوت دی ہے ۔ اسی طرح اسے مناسب طور پر ہاتھ، پاؤں اور کان دیئے ہیں ،اسے پر دیئے ہیں تاکہ غذا کی تلاش کرسکے اور پر اس تیزی سے اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں کہ آنکھ سے ان کی یہ حرکت دیکھی نہیں جاسکتی ۔ یہ جانور اتنا حساس ہے کہ صرف کسی چیز کے اٹھنے سے خطرہ محسوس کرلیتا ہے اور بڑی تیزی سے اپنے آپ کو خطرے کی جگہ سے دور لے جاتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑے سے بڑے جانور کو عاجز کردیتا ہے ۔
حضرت امیر المومنین علی کا اس سلسلہ میں ایک عجیب وغریب خطبہ نہج البلاغہ میں ہے۔آپ نے فرمایا :
اگر دنیا جہاں کے سب زندہ موجودات جمع ہوجائیں اور باہم مل کے کوشش کریں کہ ایک مچھر بنالیں تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے بلکہ اس جاندار کی خلقت کے اسرار پر ان کی عقلیں دنگ ر ہ جا ئیں گی۔ ان کے قویٰ عاجز آجائیں گے اور وہ تھک کر انجام کو پہنچ جائیں گے ۔ تلاش بسیار کے بعد با لا ٓخر شکست خوردہ ہوکر اعتراف کریں گے کہ وہ مچھر کی خلقت کے معاملے میں عاجز ہیں اور اپنے عجز کا اقرار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے نابود کرنے سے بھی عاجز ہے ۔(3)

 

(۳)خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی :


گذشتہ آیت کا ظاہری مفہوم ممکن ہے یہ شک پیدا کرے کہ ہدیت اور گمراہی میں جبر کا پہلو ہے اور اس کا دارومدار خدا کی چاہت پر ہے جب کہ اس آیت کا آخری جملہ اس حقیقت کو آشکا ر کرتا ہے کہ ہدا یت وضلالت کا سرچشمہ ا نسان کے اپنے اعمال ہیں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کے اعمال وکردار کے ہمیشہ خاص نتا ئج وثمرات ہو تے ہیں ان میں سے اگر عمل نیک ہو تو اس کا نتیجہ روشن ضمیری ،توفیق الہی،خداکی طرف سے ہدایت اور بہترانجام کارہے ۔
سورہ انفال کی آیت ۲۹اس بات کی گواہ ہے ۔ارشاد ہے:
یاایھاالذین امنوا ان تتقوااللہ یجعل لکم فرقاناََ
اے ایمان والو !اگر پرہیز گاری کو اپنا لو تو خدا تمہیں تمیز حق وباطل اور روشن ضمیر ی عطاکرے گا۔
اور اگر انسان برے کاموں کے پیچھے لگا رہے تو اس کے دل کی تیر گی اور بڑھ جائے گی اور وہ گناہ کی طرف اس کارجحان زیادہ ہو گا بلکہ بعض اوقات انکار خدا تک پہنچ جائے گا ۔
اس کی شاہد سورہ رو م کی آیت ۱۰ ہے جس میں فرمایا ہے:
ثم کان عاقبةالذین اساٰء والسوایٰ ان اکذب بٰایٰات اللہ وکانوا بھا یستھزؤن ہ
برے انجام دینے والے اس مقام پر جا پہنچے ہیں کہ اب آیات الہی کا مذاق اڑانے لگے ہیں ۔
ایک اور آیت میں ہے۔
فلما زاغو ازاغ اللہ قلوبھم
جب حق سے پھر گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا (صف ۵۰)
زیر بحث آیت بھی اسی مفہوم کی شاہد ہے کہ جب وہ فرماتا ہے وما یضل بہ الاالفٰسقین یعنی خدا فاسقین ہی کو گمراہ کرتا ہے ۔
اس بنا ء پراچھے یا برے راستے کا انتخاب پہلے ہی سے خود ہمارے اختیار میں ہے ا س حقیقت کو ہر شخص کا وجدان قبول کرتا ہے ۔انتخا ب کے بعد اس کے قہری نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مختصر یہ کہ قرآن کے مطابق ہدایت وضلالت اچھے یا برے راستے کے جبری اختیار کا نام نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات شہادت دیتی ہیں کہ ہدایت کے معنی ہیں سعادت کے وسائل فراہم ہونا اور ضلالت کا مطلب ہے مساعد حالات کا ختم ہو جانا ،لیکن اس میں جبر کا پہلونہیں ہے اور یہ اسباب کا فراہم کرنا ( جس کا نام ہمارے نزدیک توفیق ہے ) یا اسباب ختم کردینا (جسے ہم سلب توفیق کہتے ہیں ) انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ۔
اس حقیقت کو ہم ایک سادہ سی مثال سے پیش کر سکتے ہےں ۔ جب انسان کسی گرنے کی جگہ یا کسی خطرناک بڑی نہر سے گذرتا ہے تو وہ جتنا اپنے آپ کو نہر سے قریب تر کرتا ہے اس کے پاؤں کی جگہ زیادہ پھسلنے والی ہوتی ہے ایسے میں گرنے کا احتما ل زیادہ اور نجات پانے کا کم ہو جاتا ہے اور انسان جتنا اپنے آپ کو اس سے دور رکھے گا اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ زیادہ محکم اور اطمینان بخش ہوگی اور گرنے کا احتمال کم ہوگا ، ان میں سے ایک کا نام ہدایت اور دوسرے کا ضلالت ہے ۔ اس گفتگو سے ان لوگوں کی بات کا جواب پورے طور پر واضح ہو جائے گا جو آیات ہدایت و ضلالت پر اعتراض کرتے ہیں ۔
 

(۴) فاسقین

:فاسقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عبودیت وبندگی کے دستور سے پاؤں باہر نکالیں کیونکہ اصل لغت میں فسق گٹھلی کے کھجور سے باہر نکلنے کو کہتے ہیں ۔اس کے معنی کو وسعت دے کر ان لوگوں کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے جو خدا کی بندگی کی شاہراہ سے الگ ہوجاتے ہو جائیں ۔

 



(1ٍ) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جملہ یضل بہ کثیراخدا کا کلام ہے نہ کہ کفار کا ۔اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان مثالوں کا کیا مقصد ہے ان کے جواب میں خدا فرماتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہدایت کرے اور بہت سوں کو گمراہ کردے فاسقین کے علاوہ کوئی گمراہ نہیں ہوتا (لیکن پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے)
(2)انسانی زندگی میں مثال کی تاثیر کس قدر ہے اس سلسلے میں سورہ رعد کی اایہ ۱۷ میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے جسے تفسیر نمونہ کی جلد دہم میں ماحظہ کیجیئے ۔
(3) نہج البلاغہ۱۸۶