البقرة

الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ 27

حقیقی زیاں کار

گذشتہ آیت کے آخر میں چونکہ فاسقین کے گمراہ ہونے سے متعلق گفتگو تھی لہذا اس آیت مین ان کی تین صفات بیان کرکے انہیں مکمل طور پر مشخص کردیا گیا ہے ۔ ذیل میں ان علامات وصفات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔
(۱) فاسق وہ ہیں جوخدا سے محکم عہد وپیمان باند ھ کر توڑ دیتے ہیں( الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ ا نسانوں نے خدا سے مختلف پیمان باند ھ رکھے ہےں ۔ توحید و خدا شناسی کا پیغام اور شیطان اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے کا پیمان ۔فاسق ان تمام پیمانوں کو توڑ دیتا ہے وہ فرمان حق سے سرتابی کرتا ہے اور شیطان اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرتا ہے۔
یہ پیمان کہاں اور کس طرح باندھا گیا تھا :یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پیمان تو دو طرفہ معاملہ ہے ہمیں بل کل یاد نہیں کہ ہم نے گذشتہ زمانے میں اس سلسلہ میں اپنے پروردگارسے کوئی عہد وپیمان کیا ہو۔
ایک نکتہ کی طرف متوجہ ہونے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ روح کی گہرائی اور سرشت انسا ن کے باطن میں ایک مخصوس شعور اور کچھ خاص قسم کی قوتیں پا ئی جاتیں ہیں جنکی ہدایت کے ذریعہ انسان سیدھی راہ اختیار کرسکتا ہے اور اسی ذریعہ سے وہ خواہش نفس کی پیروی سے بچتے ہوئے رہبران الہی کی دعوت کا مثبت جواب دے سکتا ہے اور خود کو اس دعوت سے ہم آہنگ کرسکتا ہے ۔
قرآن اس مخصوص فطرت کو عہد وپیمان الہی قرار دیتا ہے حقیقت میں یہ ایک تکوینی پیغام ہے نہ کہ تشریعی و قانونی ۔ قرآن کہتا ہے :الم عھد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان ج انہ لکم عدو مبین و ان اعبدونی ھذا صراط مستقیم
اے اولاد آدم ---- کیا ہم نے تم سے یہ عہد و پیمان نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا جو تمہارا واضح دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا جو سیدھا راستہ ہے (یسین ،۶۱۰۶۰)
واضح ہے کہ یہ اسی فطرت توحید و خدا شناسی کی طرف اشارہ ہے اور انسان میں راہ تکامل طے کرنے کا جو عشق ہے اس کی نشاندہی ہے ۔
اس بات کے لئے دوسرا شاہد وہ جملہ ہے جو نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں موجود ہے :
وبعث فیھم رسلہ وواتر الیہ ا نبیائہ یستادوہ میثاق فطرتہ:
خدا وند عالم نے یکے بعد دیگرے لوگوں کی طر ف ا پنے رسول بھیجے تاکہ ان سے یہ خواہش کریں کہ وہ اپنے فطری پیمان پر عمل کریں ۔
مزید واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے انسان کو ہر نعمت وافر دی ہے اور اس کے ساتھ عملی طور پر اس سے زبان آفرینش میں عہد وپیمان لیا ہے ۔ اسے آنکھ دی ہے تاکہ اس سے حقائق کو دیکھ سکیں کان دیا تاکہ حق کی آواز سن سکے اور اسی طرح دیگر نعمات ہیں ۔
جب انسان اپنی فطرت کے مطابق عمل پیرا نہ ہو یا خدا داد قوتوں کا غلط استعمال کرے تو گویا اس نے عہد وپیمان خدا کو توڑ دیا ۔فاسق تمام کے تمام یا ان میں سے بعض فطری پیمانوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں ۔
(۲) اس کے بعد قرآن فاسقین کی دوسری علامت کی نشاندہی یوں فرماتا ہے : جو تعلق خدا سے قائم رکھنے کو کہا ہے وہ انہیں منقطع کردیتے ہیں ( ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل
بہت سے مفسرین نے اگرچہ اس آیت کو قطع رحمی اور عزیزداری کے رشتے کو منقطع کرنے سے مخصو ص سمجھا ہے لیکن مفہوم آیت پر گہرا غور نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے معنی زیادہ وسعت اور زیادہ عمومیت رکھتے ہےں جس کی بنا پر قطع رحم اس کا ایک مصداق ہے کیونکہ آیت کہتی ہے کہ فاسقین ان رشتوں اور تعلقات کو منقطع کردیتے ہیں جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے اب یہ پیوند ، رشتہ داری کے ناتے اور دوستی کے ناتے ، معاشرے کے ناتے ، خدائی رہبروں سے ربط و پیوند اور خدا سے رابطہ سب پر محیط ہیں لہذا آیت کو قطع رحمی اور رشتہ داری کے رابطوں کو روند نے کے معنی میں منحصر نہیں کرنا چاہیئے۔
یہی وجہ ہے کہ مفسرین کے نزدیک اس آیت سے مراد انبیاء وموٴمنین سے رابطہ منقطع کرنا ہے،بعض کے نزدیک اس کامفہو م انبیا ء اور اآسمانی کتابوں سے رابطہ قطع کر نا ہے کیونکہ خدانے ان سے رابطہ استوار رکھنے کا حکم دیا ہے واضح ہے کہ یہ تفسیریں بھی آیت کے مفہوم کا جز ہیں
بعض روایت میں”ماامراللہ بہ ان یوصل “کی تفسیر امیرالموٴمنین اور اہلبیت سے مربوط کی گئی ہے ۔(۱)
(۳)فاسقین کی ایک اورعلامت زمین میں فساد پیدا کرنا ہے جس کی آخری مرحلے میں نشان دہی کی گئی ہے ۔وہ زمین میں فساد پیدا کر تے ہیں (ویفسدون فی الارض
یہ واضح ہے کہ جنہوں نے خداکو بھلادیا ہے ،اس کی اطاعت سے رخ موڑلیا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے رحم اور شفقت کا برتاوٴ نہیں کرتے وہ دوسروں سے کیسا معاملہ کریں گے۔وہ اپنے مقصد براری ،اپنی لذتوں اورذاتی فائدوں کی فکرمیں رہیں گے ۔معاشرے کی حالت کچھ بھی ہو انہیں کوئی فرق ن نہیں پڑتا ان کا ہدف تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی جائے ۔اس ہدف وغرض تک پہونچنے کے لئے وہ کسی بھی غلطی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ واضح ہے کہ اس طرز فکروعمل سے معاشرے میں کیسے کیسے فسادات پیدا ہوتے ہیں ہیں ۔
زیرے بحث آیت کے آخر میں ہے کہ یہی لوگ زیاں کار اور خسارہ اٹھانے والے ہیں (اولئک ھم ا لخاسرون)۔واقعاََایسا ہی ہے ۔اس سے تدبیر کیا خسارہ ہو گاکہ وہ تمام مادی اور روحانی سرمایہ جس سے انسان بڑے بڑے اعزاز اور سعادتیںحاصل کرسکتا ہے ۔اسے اپنی فناونابودی ،بدبختی اورسیاہ کاری کی راہ میںخرچ کر دے اور جو لوگ مفہوم فسق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اطاعت کے مرکز سے خارج ہوگئے ہیں ان کی قسمت میں اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔

 

 

(۱)اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت :

گذ شتہ آیت اگرچہ تمام خدائی ناتوں کے احترام کے متعلق گفتگو کرتی ہے لیکن بلا شک وتردد رشتہ داری کاناتا اور تعلق اس کا واضح اور روشن مصداق ہے ۔
اسلام صلہ ٴرحمی ، عزیزوں کی مددو حمایت اور ان سے محبت کر نے کی بہت زیادہ احمیت کا قا ئل ہے او ر قطع رحمی اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے رابطہ منقطع کر نے کو سختی سے منع کر تا ہے ۔
صلہ ٴ رحمی کی اتنی اہمیت ہے کہ رسول اکرم فرماتے ہیں۔
صلةالرحم تعمرالدیار وتزیدفی الاعماروان کان اھلھاغیراخیار
رشتہ داروں سے صلہ رحمی شہروں کی آبادی کاباعث ہے اور زندگیاں اس سے بڑھتی ہیں اگر چہ صلہ رحمی کرنے والے لوگ اچھے نہ ہوں۔(2)
امام صادق کے ارشاد میںسے ہے ؛
صل رحمک ولوبشربةمن ماء وافضل مایوصل بہ الرحم کف الاذی عنھا
رشتہ داری کی گرہ اور نا تے کو مضبوط کرو چاہے پانی کے ایک گھونٹ سے ہوسکے اور ان کی خدمت کابہترین طریقہ یہ ہے کہ (کم ازکم )تم سے انہیںکوئی تکلیف واذیت نہ پہنچے۔(3)
قطع رحمی کی قباحت اور گناہ اس قدر ہے کہ امام سجاد نے اپنے فرزندکو نصیحت کی کہ وہ پانچ گروہوں کی صحبت سے پرہیز کریں اور ان پانچ گروہوں میںسے ایک قطع رحمی کرنے والے ہیں:
وایاک ومصاحبةالقاطع لرحمہ فانی وجدتہ ملعونافی کتابااللہ
قطع رحمی کر نے والے کی معاشرے سے پر ہیزکرو کیونکہ قرآن نے ا سے ملعون اور خدا کی رحمت سے دور قرار دیا ہے (4)
سورہ محمدآیہ ۲۲،۲۳ میں ارشاد ہے:
فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوافی الارض وتقطعواارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ۔
پس اسکے سوا تم سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اقتدار تمہا ر ے ہاتھ آجائے تو زمین میں فساد برپا کردو اور قطع رحمی کرو ۔ایسے ہی لوگ خداکی لعنت کے سزاوار ہیں۔
خلاصہ یہ کہ قر آن میں قطع رحمی کرنے والو ں اور رشتے داری کے پیوندکوتوڑنے والوں کے لئے سخت احکامات ہیں اور احادیث اسلامی بھی ان کی شدید مزمت کر تی ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ خدا کی بارگاہ میںسب سے زیادہ مغضو ب کون ساعمل ہے تو آپ نے جواب میں فرمایا خداسے شرک کرناپوچھا ا س کے بعد کون سا عمل زیادہ باعث غضب الہی ہے تو فرمایا:قطع رحمی۔(5)
اسلام نے جو رشتہ داری کی اس قدر حفاظت ونگہداری کی تاکید کی ہے اس کی وجہ یہ ہے ایک عظیم معاشر ے کا استحکام ترقی ، تکامل اور اسے عظیم تر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کام چھوٹی اکائیوں سے شروع کیا جائے یہ عظمت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے درکار ہویا روحانی و اخلاق لحاظ سے ،جب چھوٹی سے چھوٹی اکائیوں میں پیش رفت اورخود بخود اصلاح پزیر ہو جا ئیگا۔
اسلام نے مسلمانو ں کی عظمت کے لئے اس روش سے پورے طور پر فائدہ اٹھایا ہے ۔اس نے اکائیو ں کی اصلاح کاحکم دیا ہے اور عموماََ لوگ ان کی مدد ،اعانت اور انہیں عظمت بخشنے سے روگردانی نہیںکرتے کیونکہ ایسے افراد کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کی نصیحت کرتا ہے جن کا خون ان کے رگ وریشہ میں گردش کررہا ہے اور جو ایک خاندان کے ارکان ہیں۔واضح ہے کہ جب رشتہ داری کے چھوٹے گروپ کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو بڑا گروپ بھی عظمت حاصل کر ے گا اور ہر لحاظ سے قوی ہو گا ،وہ حدیث جس میں ہے کہ ”صلہ رحمی شہروں کی آباد ی کا باعث ہے “غالباََ اسی طرف اشارہ کرتی ہے

(۲)جوڑنے کے بجائے توڑنا :

یہ قابل غور ہے کہ آیت کی تعبیر میں اس طرح ہے کہ خدانے جس چیز کو جوڑ نے کا حکم دیا ہے فاسق اسے توڑتے ہیں ۔یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا قطع کرنا وصل سے پہلے ممکن ہے ؟جواب میں ہم کہتے ہیں کہ وصل سے مقصد ان رو ا بط کو جاری رکھناہے جو خد ا وند عالم نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان یا بندوں میں سے ایک دوسرے کے درمیان طبعی طور پرا ور فطری طور پر قائم کئے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں خدا نے حکم دیا ہے کہ ان فطری اور طبعی رابطوں کی محافظت وپاسداری کی جائے لیکن گنہ گار انہیں قطع کردیتے ہیں(اس پر خصوصی غور کیجئے )
 


(۱) نورالثقلین ،جلد ،۵۴(مزید توضیح کے سلسلے میں نیز انروایات کے لئے جو ان ہیوندوںکے مفہوم کی وسعت سے متعلق ہیں اسی تفسیر (نمونہ)میں سورہٴرعد کی آیہ۲۱ کے ذیل
میںملاحظہ کیجئے)
 2- سفینةالبحار،جلد ۱،ص۵۱۴
3- سفینة البحار ،جلد ۱ ،ص۵۱۴
(4)سفینة البحار ،جلد ۱ ص۵۱۶ (مادہ رحم )
(5)سفینة البحار (مادہٴ رحم )