البقرة
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ 34
آدم جنت میں
گذشتہ بحثیں جو انسان کے مقام و عظمت کے بارے میں تھیں ان کے ساتھ قرآن نے ایک اور فصل بیان کی ہے ۔ پہلے کہتا ہے : یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے لئے سجدہ وخضوع کرو ( و اذ قلنا للمائکة اسجدو الادم ) ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جس نے انکار کیا اور تکبر اختیار کیا ( فسجدو الا ابلیس ابی واستکبر ) اس نے تکبر کیا اور اسی تکبر ونافرمانی کی وجہ سے کافروں میں داخل ہو گیا ( وکان من الکافرین )
پہلے پہل یوں لگتا ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا مرحلہ فرشتوں کے امتحان اور تعلیم اسماء کے بعد آیا لیکن قرآن کی دوسری آیات میں غور کرنے سے یہ موضوع آفرینش انسان اور اس کی خلقت کی تکمیل کے ساتھ ہے اور ملائکہ کے امتحان سے پہلے در پیش ہوا۔
سورہ حجریہ ۲۹ میں ہے :
فاذاسویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعو الہ سجدین
جب خلقت آدم کو منظم کرلوں اور اپنی روح میں سے (ایک شائستہ روح جومیری مخلو ق ہے )اس میں پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ کرو
یہی مفہوم سورہ ص آیہ۷۲ میں بھی ہے (۱)
اس موضوع کی شاہد یہ بات بھی ہے کہ اگرسجدہ کا حکم مقام ِآدم کے واضح ہونے کے بعد ہوتاتو ملائکہ کے لئے زیادہ افتخار کاباعث نہ ہوتا چو نکہ اس وقت تو آ دم کاافتخار سب پر واضح ہوچکاتھا ۔
بہر حال مندرجہ بالاآیت انسانی شرافت اور ا سکی عظمت مقام کی زندہ اور واضح گواہ ہے کہ اسکی تکمیل خلقت کے بعدتمام ملائکہ کوحکم ملتا ہے کہ اس عظیم مخلولق کے سامنے سر تسلیم خم کرو ۔ واقعا وہ شخص جو مقام خلافت الہٰی اور زمین پر خدا کی نمائندگی کا منصب حاصل کرے ،تمام تر تکامل وکمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوںکی پرورش کاذمہ دار ہو جن میں انبیاء اور خصوصاََپیامبر اسلام اور ان کے جانشین شامل ہوں ،ایسا انسان ہر قسم کے احترام کے لائق ہے ۔
ہم اس انسان کا کتنا احترام کر تے ہیں اور اس کے سامنے جھکتے ہیں جو علم کے چند فارمولے جانتا ہو ۔تو پھر وہ پہلا انسان جو جہان ہستی کی بھر پور معلومات رکھتا تھا اس کے ساتھ کیا کچھ ہونا چا ہیے تھا ۔
(۱) ابلیس نے مخالفت کیوں کی :
ہم جانتے ہیں کہ لفظ ”شیطان “ اسم جنس ہے جس میں پہلا شیطان اور دیگر تمام شیطان شامل ہیں لیکن ابلیس مخصوص نام ہے اور یہ اسی شیطان کی طرف اشارہ ہے جس نے آدم کو ورغلایا تھا وہ صریح آیات قرآن کے مطابق ملائکہ کی نوع سے نہیں تھا صرف ان کی صفوں میں رہتا تھا وہ گروہ جن میں سے تھا جو ایک مادی مخلوق ہے ۔
سورہ کہف آیہ ۵۰ میں ہے :
فسجدو الا ابلیس ط کان من الجن
ابلیس کے سوا سب سجدے میں گرپڑے (اور ) یہ گروہ جن میں سے تھا ۔
اس مخالفت کا سبب کبر وغرور اور خاص تعصب تھا جو اس کی فکر پر مسلط تھا ۔وہ یہ سوچتا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں لہٰذا اسے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیئے بلکہ آدم کو سجدہ کرنا چاہیئے او ر اسے مسجود ہونا چاہیئے تھا ۔ اس تفصیل سورہ اعراف کی آیہ ۱۲ کے ذیل میں آئے گی (2)
شیطان کے کفر کی علت بھی یہی تھی کہ اس نے خدا وندے عالم کے حکیمانہ حکم کو نارواسمجھا ۔ نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اس نے نافرمانی کی بلکہ اعتقادکی نظر سے بھی معترض ہوا اور خود بینی و خود خواہی نے یوں ایک عمر کے ایمان و عبادت کے ماحصل کو برباد کردیا اور اس کے خرمن ہستی میں آگ لگا دی ۔ کبر و غرور کے آثار بداس سے بھی زیادہ ہیں ۔
کان من الکافرین کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پہلے ہی میرِ ملائکہ اور فرمان خدا کی اطاعت سے اپنا حساب الگ کرچکا تھا اور اس کے سر میں استکبار کی فکر پرورش پارہی تھی اور شاید وہ خود سے کہتا تھا کہ اگر مجھے آدم کو سجدہ اور خضوع کرنے کا حکم دیا گیا تو میں قطعاََ اطاعت نہیں کروں گا ۔ ممکن ہے جملہ ماکنتم تکتمون (جو کچھ تم چھپاتے تھے ) اسی طرف اشارہ ہو ۔ تفسیر قمی میں جو حدیث امام حسن عسکری سے روایت کی گئی ہے اس میں بھی یہی معنی بیان ہوا ہے (3)
(۲)سجدہ خدا کے لئے تھا یا آدم کے لئے :
اس میں کوئی شک نہیں کہ ”سجدہ “ جس کا معنی عبادت وپرستش ہے صرف خدا کے لئے ہے کیونکہ عالم میں خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور توحید عبادت کے معنی یہی ہیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں لہذا اس میں شک و شبہ نہیں کہ ملائکہ نے آدم کے لئے سجدہٴ عبادت نہیں کیا بلکہ یہ سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن اس عجیب وغریب مخلوق کی وجہ سے یا یہ کہ سجدہ آدم کے لئے تھا لیکن وہ خضوع و تعظیم کا سجدہ تھا نہ کہ عبادت و پرستش کا ۔
کتاب عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ الرضا سے اسی طرح روایت ہے :
کان سجودھم للہ تعالی عبودیة ولادم اکرام و طاعة لکوننا فی صلبہ ۔
فرشتوں کا سجدہ ایک طرف سے خدا کی عبادت تھا اور دوسری طرف آدم کا اکرام و احترام ۔ کیونکہ ہم صلب آدم میں موجود تھے ( 4)
بہر حال اس واقعہ اور فرشتوں کے امتحا ن کے بعد آدم اور اس کی بیوی کو حکم دیا گیا کہ وہ بہشت میں سکونت اختیار کریں ۔
چنانچہ قرآن کہتا ہے : ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور اس کی فراواں نعمتون میں سے جو چاہو کھاؤ ( وقلنا یا آ ٰدم اسکن انت وزوجک الجنة وکلا منھا رغدا َحیث شئتما( 5)
لیکن اس مخصوص درخت کے نزدیک نہ جانا ۔ ورنہ ظالمون میں سے ہو جاؤ گی ( ولا تقربا ھٰذہ الشجرة فتکونا من الظالمین )
آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم زندگی گزارنے کے لئے اسی عام زمین پر پیدا ہوئے تھے لیکن ابتدا میں خدا وندے عالم نے انہیں بہشت میں سکونت دی جو اسی جہان کا ایک سر سبز وشاداب اور نعمتوں سے مالا مال باغ تھا ۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں آدم نے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی ۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ آدم زمین میں زندگی گزارنے سے آشنائی نہیں رکھتے تھے اور بغیر کسی تمہید کے زحمات و تکالیف اٹھانا ان کے لئے مشکل تھا اور زمین میں زندگی گزارنے کے لئے یہاں کے کردار رفتار کی کیفیت سے آگاہی ضروری تھی لہذا مختصر مدت کے لئے بہشت کے اندر ضروری تعلیمات حاصل کرلیں کیونکہ زمین کی زندگی پروگراموں تکلیفوں اور ذمہ داریوں سے معمور ہے جس کا انجام صحیح سعادت ،تکامل اور بقائے نعمت کا سبب ہے اور ان سے رو گردانی کرنا رنج و مصیبت کا باعث ہے اور یہ پہچان لیں کہ اگر چہ انہیں آزاد پیدا کیا گیا ہے لیکن یہ مطلق و لا محدود آزادی نہیں ہے کہ جو کچھ چاہیں انجام دیں بلکہ انہیں چاہئے کہ زمین کی کچھ چیزوں سے چشم پوشی کریں ۔ نیز یہ جان لینا بھی تھا کہ اگر خطا و لغزش دامن گیر ہو تو ایسا نہیں کہ سعادت و خوش بختی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے بلکہ انہیں پلٹ کر دوبارہ عہد وپیمان کرنا چاہیئے کہ وہ حکم خدا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیں گے تاکہ دوبارہ نعمات الہٰی سے مستفید ہو سکیں ۔ یہ بھی تھا کہ وہ اس ماحول میں رہ کر کچھ پختہ ہوجائیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیں اور زمین میں زندگی گزارنے کی کیفیت سے آشنا ہوجائیں ۔ یقینایہ سلسلہء تعلیمات ضروری تھا تاکہ وہ اسے یاد رکھیں اور اس تیاری کے ساتھ روئے زمین پر قدم رکھیں ۔
یہ ایسے مطالب تھے کہ حضرت آدم اور ان کی اولاد آئندہ زندگی میں ان کی محتاج تھی لہذا باوجودیکہ آدم کو زمین کی خلافت کے لئے پیدا کیا گیا تھا ایک مدت تک بہشت میں قیام کرتے رہے اور انہیں کئی ایک حکم دیے جاتے ہیں شاید یہ سب تمرین و تعلیم کے پہلو سے تھا ۔
اس مقام پر آدم نے اس فرمان الٰہی کو دیکھا جس میں آپ کو ایک درخت کے بارے میں منع کیا گیا تھا ۔ ادھر شیطان نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے سے باز نہ آئے گا ۔ وہ وسوسے پیدا کرنے میں مشغول ہوگیا۔ جیسا کہ باقی آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم کو اطمینان دلایا کہ اگر اس درخت سے کچھ کھالیں تو وہ اور ان کی بیوی فرشتے بن جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں (6)
بالآ خر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا اور جس بہشت میں وہ رہتے تھے اس سے باہر نکال دیا ۔ قرآن کے الفاظ میں :
فازلھما الشیطٰن عنھا فاخرجھما مما کانا فیہ (7)
اس بہشت سے جو اطمینان و آسائش کا مرکز تھی اور رنج و غم سے دور تھی شیطان کے دھوکے میں آکر نکالے گئے ۔
جیسا کہ قرآن کہتا ہے : وقلنا اھبطو بعضکم لبعض عدو
اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ زمین پر اتر آؤ جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوجاؤ گے ( آدم و حوا ایک طرف اور شیطان ایک طرف )۔
مزید فرمایا گیا کہ تمہارے لئے ایک مدت معین تک زمین میں قرار گاہ ہے جہاں سے تم نفع اندوز ہوسکتے ہو ( ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین ) یہ وہ مقام تھا کہ آدم متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور بہشت کے آرام دہ اور نعمتوں سے مالا مال ماحول سے وسوسے کے سامنے سر جھکانے کے نتیجے میں باہر نکالے جا رہے ہیں اور اب زحمت و مشقت کے ماحول میں جا کر رہیں گے ۔یہ صحیح ہے کہ آدم نبی تھے اور گناہ سے معصوم تھے لیکن جیسا کہ ہم آئندہ چل کر بتائیں گے کہ کسی پیغمبر سے جب ترک اولی سرزد ہوجاتا ہے تو خدا وندے عالم اس سے اس طرح سخت گیری کرتا ہے جیسے کسی عام انسان سے گناہ سرزد ہو ۔
اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف متوجہ رہنا چاہیئے کہ اگر چہ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہی جنت تھی جو نیک اور پاک لوگوں کی وعدہ گاہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ بہشت نہ تھی بلکہ زمین سر سبز علاقوں میں نعمات سے مالا مال ایک روح پرور مقام تھا ۔ واضح ہے کہ آدم اس مقام کے علاوہ جو خدا نے گذشتہ آیات میں ان کے لئے بیان کیا ہے معرفت و تقوی کے لحاظ سے بھی بلند مقام پر فائز تھے ۔ وہ زمین میں خدا کے نمائندہ تھے ، وہ فرشتوں کے معلم تھے وہ عظیم ملائکہ الٰہی کے مسجود تھے اوریہ مسلم ہے کہ آدم ان امتیازات و خصوصیات کے ہوتے ہوئے گناہ نہیں کر سکتے تھے علاوہ ازیں ہمیں معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے اور ہر پیغمبر معصوم ہوتا ہے ۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم سے جو کچھ سرزد ہوا وہ کیا تھا ۔ یہاں تین تفاسیر موجود ہیں ۔ مندرجہ بالا آیات کے مطابق وجود آدم میں سب سے بڑا افتخار اور نقطہ قوت جس کی وجہ سے وہ مخلوق میں منتخب ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسجود ملائکہ ہے وہی ” علم الاسماء “ سے آگاہی اور حقائق اسرار خلقت و جہان ہستی سے واقفیت ہے ۔ یہ واضح ہے کہ آدم انہی علوم کے لئے پیدا کیے گئے تھے اور اولاد آدم اگر کمال حاصل کرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ علوم سے زیادہ استفادہ کرے ۔ اولاد آدم میں سے ہر ایک کا کمال و تکامل اسرار خلقت کی آگاہی سے سیدھی نسبت رکھتا ہے ۔ قرآن پوری صراحت سے آدم کے مقام کی عظمت ان چیزوں میں سمجھتا ہے لیکن توریت میں آدم کے بہشت سے باہر نکالے جانے کا جواز اور بہت بڑا گناہ بیان کیا گیا ہے وہ ان کی علم ودانش کی طرف توجہ اور نیک و بد جاننے کی خواہش ہے۔ لفط ”شیطان “مادہ ”شطن “سے ہے اور” شاطن “کے معنی ہیں ”خبیث وپست “اور شیطا ن وجود سرکش و متمرد کو کہاجاتا ہے چاہے وہ انسان ہو یاجن یاکوئی اور حرکت کر نے والی چیز۔رو ح شریر اور حق سے دور کو بھی شیطان کہتے ہیں جو حقیقت میں ایک قدر مشترک رکھتے ہیں یہ بھی جاننا چاہیئے کہ شیطان اسم عام (اسم جنس )ہے جب کہ ابلیس اسم خاص (علم )ہے بہت سے لوگ پو چھتے ہیں کہ شیطان جس کا کا م ہی گمرا ہی کر نا ہے آخر اسے کیو ں پیدا کیا گیا اور اس کے وجود کا فلسفہ کیاہے ۔اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں ۔(۱) آدم کس جنت میں تھے :
اول تو وہ بہشت جس کا وعدہ قیامت کے ساتھ ہے وہ ہمیشگی اور جاودانی نعمت ہے جس کے دوام کی نشاندہی بہت سی آیات میں کی گئی ہے اور اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں ۔
دوم یہ کہ غلط اور بے ایمان ابلیس کے لئے اس بہشت میں جانے کی کوئی راہ نہ تھی ۔ وہاں نہ وسوسہ شیطانی ہے اور نہ خدا کی نافرمانی ۔
سوم یہ کہ اہل بیت سے منقول روایات میں یہ موضوع صراحت سے نقل ہوا ہے ۔
ایک راوی کہتا ہے : میں نے امام صادق سے آدم کی بہشت کے متعلق سوال کیا ۔ امام نے جواب میں فرمایا :
جنة من جنات الدنیا یطلع فیھا الشمس والقمر ولو کان من جنان ا لاٰخرة ماخرج منھا ابداََ
دنیا کے باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر آفتاب و ماہتاب کی روشنی پڑتی تھی اگر آخرت کی جنتوں میں سے ہوتی تو کبھی بھی اس سے باہر نہ نکالے جاتے (8)
یہاں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آدم کے ہبوط و نزول سے مراد نزول مقام ہے نہ کہ نزول مکان یعنی اپنے اس بلند مقام اور سر سبز جنت سے نیچے آئے ۔
بعض لوگوں کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جنت کسی آسمانی کرہ میں تھی اگرچہ وہ ابدی جنت نہ تھی بعض اسلامی رو ایات میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جنت آسمان میں تھی لیکن ممکن ہے لفظ ”سماء “ (آسمان ) ان روایات میں مقام بلند کی طرف اشارہ ہو ۔
تاہم بے شمار شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنت آخرت والی جنت نہ تھی کیو نکہ وہ تو انسان کی سیر تکامل کی آخری منزل ہے اور یہ اس کے سفر کی ابتدا تھی اور اس کے اعمال اور پروگرام کی ابتدا تھی اور وہ جنتا ا س کے اعمال اور پروگرام کا نتیجہ ہے ۔
(۲) آدم کا گناہ کیا تھا :
(۱) آدم سے جو کچھ سرزد ہوا ترک اولی تھا ۔ دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت اور نسبت سے وہ گناہ تھا لیکن گناہ مطلق نہ تھا ۔ گناہ مطلق وہ گناہ ہوتا ہے جو کسی سے سرزد ہو اور اس کے لئے سزا ہے ( مثلا َشرک، کفر ،ظلم اور تجاوز وغیرہ ) اور نسبت کے اعتبار سے گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات بعض مباح اعمال بلکہ مستحب بھی بڑے لوگوں کے مقام کے لحاظ سے مناسب نہیں ۔ انہیں چاہیئے کہ وہ ان اعمال سے گریز کریں اور اہم کام بجالائیں ورنہ کہا جائے گا کہ کہ انہوں نے ترک اولی کیا ہے ۔ مثلاَ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کا کچھ حصہ حضور قلب سے ہوتا ہے اور کچھ بغیر اس کے ۔ یہ امر ہمارے مقام کے لئے تو مناسب ہے لیکن حضرت رسولخدا اور حضرت علی کے شایان شان نہیں ان کی ساری نمازخدا کے حضور میں ہونی چاہیئے اور اگر اس کے علاوہ کچھ ہو تو کسی فعل حرام کا ارتکاب تو نہیں تاہم ترک اولی ہے ۔
(!!)خدا کی نہی یہاں ”نہی ارشاد ی “ ہے جیسے ڈاکٹر کہتا ہے فلاں غذا کھاؤ ۔ورنہ بیمار پڑجاؤ گے ۔ خدا نے بھی آدم سے فرمایا کہ اگر اس درخت ممنوع سے کچھ کھالیا تو بہشت سے باہر جانا پڑے گا اور رنج و تکالیف میں مبتلا ہونا پڑے گا لہذا آدم نے حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ ”نہی ارشادی “ کی مخالفت کی ہے ۔
(!!!) جنت بنیادی طور پر جائے تکلیف نہ تھی بلکہ وہ آدم کے زمین کی طرف آنے کے لئے ایک آزمائش اور تیاری کا زمانہ تھا اور نہی صرف آزمائش کا پہلو رکھتی تھی(9)(۳) تورات سے معارف قرآن کا مقابلہ :
تورات فصل دوم سفر تکوین میں ہے :
” پس خدا وندے عالم نے آدم کو خاک ِ زمین سے صورت دی اور تسلیم حیات اس کے دماغ میں پھونکی اور آدم زندہ جان ہوگیا اور خدا وند خدا نے ہر خوشنما درخت اور جو کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اُگایا نیز شجر حیات کو وسط ِ باغ میں لگایا اور نیک و بد جاننے کے درخت کو اور خدا وند نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ باگ کے تمام درختوں سے تمہیں کھانے کا اختیار ہے لیکن” نیک و بد جاننے “کے درخت سے نہ کھانا جس دن تو اسے کھائے گا موت کا مستحق ہو جائے گا “
فصل سوم میں یوں آیا ہے:
”اور خدا وندکی آواز کو سناجو دن کو نسیم کے وقت باغ میں خراماں خر اماں چلتا تھا آدم اور اس کی بیوی اپنے آپ کو خداوند کے حضور سے باغ کے درختوں کے در میان چھپاتے تھے “
”اور خدا وند نے آدم کو آواز دی ۔اُسے کہا کہ تو کہا ں ہے ۔“
”اس نے جواب میں کہاکہ میں نے تیری آواز سنی اور میں ڈر گیا کیونکہ میں برہنہ ہوں اس وجہ سے چھپا بیٹھا ہو ں “
”خدا نے اس سے کہا :تجھے کس نے کہا کہ تو برہنہ ہے کیا جس درخت سے تمہیں نہ کھانے کے لئے کہا تھا تم نے کچھ کھایا “
”آدم نے کہا جو عورت تو نے مجھے میرے ساتھ رہنے کے لئے دی ہے اس نے اس د رخت سے مجھے دیا ہے جسے میں نے کھالیا ہے “۔
”اور خدا وند نے کہا آ دم تم تو ”نیک وبد جاننے “کی وجہ سے چونکہ ہم میں سے ایک ہوگیا ہے لہٰذا اب ایسا نہ ہو کہ اپنا ہاتھ دراز کرے اور ” درخت حیات “سے بھی کچھ لے لے اور کھا لے اور کھا کر ہمیشہ کے لئے زندہ رہے “۔
پس اس سبب سے خداوند نے با غ عدن سے نکال دیاتاکہ اس زمین میں جواس سے لے لی گئے تھی زراعت کرے “
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا یہ تکلیف وہ افسانہ جو آج تورات میں ایک تاریخی حیثیت سے موجود ہے اس کے مطابق آدم کو بہشت سے نکلنے اور ان کے عظیم گناہ کی اصلی علت وسبب علم دانش کی طرف ان کی توجہ اور نیک وبد سے آگاہی کے لئے ا ن کی تمنا ہے۔ چنانچہ ’ ’ شجرہٴ نیک وبد “کی طرف ہاتھ نہ پھیلاتے تو ابد تک جہالت میں باقی رہ جاتے یہاں تک وہ یہ بھی نہ جا نتے کہ برہنہ ہو ناقبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے اور ہمیشہ کے لئے بہشت میں باقی ر ہ جاتی ۔
اس لحاظ سے تو آدم کو اپنے کام پر پشیمان نہیں ہونا چاہیئے تھا کیونکہ ایسی جنت کو ہاتھ سے دینا جہاں رہنے کی شرط نیک وبد سے عدم آگاہی ہو ،اس کے مقابلے میں علم ودانش حاصل کرنا نفع مند تجارت ہے اس تجارت کے بعد آدم کیو ں حیران وپریشان ہوں۔
اس بنا ء پر تورا ت کایہ افسانہ ٹھیک قرآن کے مد مقابل قر ار پایا ہے جس کے نزدیک انسان کا مقام عظمت اور اس کی خلقت کا راز علم الاسماء سے آگاہ ہے ۔
اس کے علاوہ مذکورہ افسانے میں خداوند عالم اور مخلوقات کے بارے میں عجیب وغریب باتیں بیان کی گئیں ہیں ۔مثلاََ
(۱)خداکی طرف جھوٹ کی نسبت ۔۔۔ جیسے فصل دوم کا جملہ ۱۷:
”خدا وندخدانے کہا کہ اس درخت سے مت کھانا ورنہ مرجاوٴگے-۔“
حالانکہ انہوںنے مرنا نہیں تھا بلکہ داناوعقلمند ہوناتھا۔
(۱۱)خداوندعالم کی طرف بخل کی نسبت۔ جیسے فصل سوم کاجملہ ۲۲جس کے مطابق خدانہیں چاہتا تھاکہ آدم وحواعلم وحیات کے درخت سے کھائیں اور داناوعقل مند ہوجائیں نیز ابدی زندگی حاصل کریں۔
(۱۱)خدا وند عالم کے لئے شریک کے وجود کا امکان ۔۔۔۔جیسے یہ جملہ :
آدم شجرِنیک وبد کھا نے کے بعد ہم(خداوٴں )میںسے ایک کی طرح ہوگیا ہے۔“
خدا کی طرف حسد کی نسبت ۔۔جیسے اس جملہ سے ظاہر ہے :
”خدا وند عالم نے ا س و علم ودانش کی وجہ سے جو آدم میں پیدا ہو گئی تھی اس پر رشک وحسد کیا ۔“
خد ا وند عالم کی طرف جسم کی نسبت ۔۔جیسے فصل سوم میں ہے ۔
”خدا وند صبح کے وقت بہشت کی سڑکوں پر خراماں خراماں چل رہاتھا “
خداوند عالم کی ان حوادث سے بے خبری جو اس کے قریب واقع ہوتے ہیں ۔۔جیسے جملہ ۹ میں ہے :
آواز دی اے آدم!کہاں ہو۔انہوں نے درختوں کے درمیان اپنے آپ کوخداوند کی آنکھ سے چھپارکھاتھا۔“ (10)
یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ جھوٹے افسانے پہلے تورات میں نہ تھے بعد میں ملادیئے گئے )(۴)قرآن میں شیطان سے کیا مراد ہے :
دوسرے لفظوں میں شیطان ہر موذی ،گمراہ ،باغی اور سرکش کو کہتے ہیں وہ ا نسان ہو یاغیر انسان لیکن ابلیس اس شیطان کانام ہے جس نے آدم کو ورغلایاتھا اور اس وقت بھی وہ اپنے لاوٴ لشکرکے ساتھ اولاد آدم کے شکار کے لئے کمین گاہ میں ہے ۔
قرآن میں اس لفظ کے استعمال کے مواقع سے معلو م ہو جاتا ہے کہ شیطان موذی و مضر چیز کو کہتے ہیں ۔جو راہ راست سے ہٹ چکاہو،جو دوسروں کو آزار پہنچانے کے درپے ہو ،اختلا ف اور تفرقہ پیدا کرنا جس کی کو شش ہو اور جو اختلاف وفساد کو ہوا دیتا ہو ،جیسا قرآن میں ہے :
انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوةوالبغضائ
شیطا ن چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی ، بغض اورکینہ پیدا کرے ۔ (مائدہ،۹۱)
اگر ہم دیکھیں گے کہ لفظ ”یرید “فعل مضارع کا صیغہ ہے اور استمرار اورتسلسل پر دلالت کرتا ہے تواس سے یہ معنی بھی پیدا ہوتے ہیں کہ یہ شیطان کاہمیشہ کاارادہ ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں لفظ شیطان کسی خاص موجود کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ مفسد اور شریر انسانوں تک کو شیطان کہا گیا ہے جیسے :وکذٰلک جعلنا لکل نبی ِِعدواََشیٰطین الانس والجن
اسی طرح ہر نبی کےلئے ہم نے انسانو ں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے ۔(انعام ،۱۱۲)
یہ جو ابلیس کو بھی شیطان کہا گیا ہے وہ اس کی شرارت اورفساد کے با عث ہے ۔
اس کے علاوہ بعض اوقات لفظ شیطان جراثیم کے لئے بھی استعمال کیا جا تا ہے مثلاَ۔ حضر ت امیرالموٴمنین فرماتے ہیں
لاتشرب الماء من ثلمةالاناء ولامن عروتہ فان الشیطان یعقد علی العروةوالثلمة۔
برتن کے ٹوٹے ہوئے حصے اور دستے کی جگہ سے پانی نہ پیو کیونکہ دستے کی جگہ اور ٹوٹے ہوئے حصے پر شیطان بیٹھا ہوتا ہے (11)
نیز امام صادق فرماتے ہیں :
ولایشرب من اذن الکوزولامن کسرہ فان کان فیہ فانہ مشرب الشیاطین۔
دستے اور کوزے کے ٹوٹے ہو ئے مقام سے پانی نہ پیو کیو نکہ یہ شیطان کے پینے کی جگہ ہے ۔(12)
رسول اسلام کا ارشاد ہے :
مونچھو ں کے بال بڑے نہ رکھو کیونکہ شیطان اسے اپنی زندگی کے لئے جائے امن سمجھتا ہے اور اس میں چھپ کر بیٹھتا ہے۔(13)
اس سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے ایک معنی نقصان دہ اور مضر جراثیم بھی ہیں لیکن واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں لفظ شیطان تمام مقامات پر اس معنی میں ہو بلکہ غرض یہ ہے کہ شیطان کے مختلف معانی ہیں ۔ان روشن وواضح مصادیق میں سے ایک ابلیس ،اس کا لشکر اور اس کے اعوان ومددگا ر بھی ہیں اور اس کا دوسرا مصداق مفسد ،حق سے منحر ف کر نے و الے انسا ن ہیں اور بعض اوقات اذیت دینے والے جراثیم کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے (اس میں خوب غور کیجئے )(۵)خدا نے شیطان کو کیو ں پیدا کیا ہے :
اول تو خدانے شیطان کو شیطان نہیںپیدا کیا یہی وجہ ہے سالہاسال تک وہ ملائکہ کا ہم نشین رہا اور پاک فطرت پر رہا لیکن پھر اس نے اپنی آز اد ی سے غلط فائد ہ اٹھا یااور بغاوت وسرکشی کی بنیا د ر کھی لہٰذ ا وہ ابتداء میں پاک وپاکیزہ پیدا کیاگیا اس کی کجروی اس کی اپنی خواہش پر ہوئی ۔
دوم یہ کہ نظام خلقت کو دیکھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صاحبان ایمان اور وہ لوگ جو راہ حق پر گامزن رہنا چاہتے ہیں ان کے لئے نہ صرف یہ کہ شیطان کا وجود مضر اور نقصان دہ نہیں بلکہ ان کی پیش رفت اور تکامل کاذریعہ ہے ۔کیو نکہ ترقی اور کمال ہمیشہ متضاد چیزوں کے درمیان ہی صورت پذیر ہو تے ہیں ۔
زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب تک انسا ن طاقت ور دشمن کے مقابلے میں کھڑا نہ ہوکبھی بھی اپنی قوت واستعداد اور مہارت کو پیش نہیں کرسکتا اور نہ اسے کا م میںلا سکتا ہے یہی طا قت ور دشمن کا وجود انسان کے زیادہ تحرک اور جنبش کا سبب بنتا ہے اوراس کے نتیجے میں اسے ترقی اور کمال نصیب ہو تا ہے
معاصرین میںسے ایک بہت بڑا فلسفی “ٹو آئن بی “کہتاہے
”دنیا میںکو ئی رو شن تمدن اس وقت تک پیدانہیں ہوا جب تک کو ئی ملت کسی خارجی طاقت کے حملے کا شکار نہیں ہوئی ۔اس حملے اور یلغا ر کے مقابلے میں وہ اپنی مہارت اور ااستعداد کو بروئے کار لائی اور پھر کسی درخشاں تمدن کی د ا غ بیل پڑی ۔“
(۱)آلوسی نے روح العانی میں اور رازی نے تفسیر کبیر میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
(2) تفسیر نمونہ ،سورہٴاعراف کیآیہ ۱۲کی تفسیر سے رجوع کیجئے
(3) تفسیرالمیزان ، ج ۱ ، ص ۱۲۶۔
(4) نور الثقلین ، جلد ۱، ص ۵۸
(5) رغد ”بروزن ”صمد“ ہے جس کے معنی ہیں فراواں ، وسیع اور گوارا ”حیث شئتما “اشارہ ہے ہر جگہ اور ہر قسم کے میوے کی طرف۔
(6) سورہ اعراف آیہ ۲۰ ،۲۱
(7)ضمیر” عنہا“ کے مرجع میں دو احتمال ہیں ! یہ جنت کے لئے ہو اس صورت میں ”مما کانا فیہ “ کا جملہ و مرتبہ کے لئے ہو تو معنی یہ ہوگا کہ شیطان نے ان کے دلوں کو جنت میں پھسلایا اور جس مقام کے وہ حامل تھے اس سے باہر نکالا ۲ یہ مرجع ” شجرہ “ ہو یعنی شیطان نے اس درخت ممنوع کی وجہ سے انہیں پھسلایا اور جس بہشت میں وہ تھے اس سے باہر نکالا ۔
(8) نور الثقلین جلد ۱ ، ص ۶۲ بحوالہ کتاب کافی(9) مزید وضاحت کے لئے جلد ۴ ،سورہ اعراف ۱۹ تا ۲۲ اور جلد ۷ آیات ۱۲۱ اور اس کے بعد کی طرف رجوع کریں ۔
(10)کتاب“قرآنوآخرین پیامبر“ ص ۱۲۷تا۱۳۲(11) و (12) و (13)کافی جل