البقرة
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ 39
خدا کی طرف آدم کی بازگشت
وسوسہ ٴ ابلیس اور آدم کے جنت سے نکلنے کے حکم جیسے و اقعات کے بعدآدم متوجہ ہوئے کہ واقعاََ انہوںنے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اس اطمینان بخش اور نعمتوں سے مالامال جنت سے شیطانی فریب کی وجہ سے نکلنا پڑ ااور اب زحمت اور مشقت سے بھری ہوئی زمین میں رہیں گے ۔اس وقت آدم اپنی غلطی کی تلافی کی فکر میں پڑے اور مکمل جا ن ودل سے پروردگار کی طرف متوجہ ہوئے ا یسی توجہ جو ندامت وحسرت کاایک پہاڑ ساتھ لئے ہوئے تھی ۔اس وقت خداکا لطف وکرم بھی ان کی مدد کے لئے آگے بڑھا اور جیسا کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں کہتا ہے : آدم نے اپنے پرور دگار سے کچھ کلمات حاصل کئے جو بہت موٴ ثر اور انقلاب خیز ان کے ساتھ توبہ کی اور خدا نے بھی ان کی توبہ قبول کرلی(فتلقیٰ آدم من ربہ کلمات فتاب علیہ ) کیونکہ وہ تواب اور رحیم ہے
” توبہ“کے اصلی معنی ہیں ”باز گشت “اور قر آن کی زبان میں گناہ سے واپسی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔یہ اس صورت میں ہے جب توبہ کا لفظ کسی شخص گنہگار کے لئے استعمال کیا جائے لیکن کبھی کبھی یہ لفظ اللہ کی طرف بھی منسوب ہوتاہے وہاں اس کا مفہو م ہے رحمت کی طرف بازگشت ،یعنی وہ رحمت جو ارتکاب گناہ کی وجہ سے بندے سے سلب کرلی گئی تھی ۔اب اطاعت وبندگی کے راستے کی طرف اس کی واپسی کی وجہ سے اسے لوٹا دی جاتی ہے ا سی لئے خدا کے لئے تواب (بہت زیادہ رحمت کی طرف لوٹنے والا )کا لفظ استعمال کیا جا تا ہے ۔
بہ الفاط دیگر توبہ خدا اور بندے کے درمیان ایک لفظ مشترک ہے ۔جب یہ صفت بندوں کے لئے ہو تو اس کامفہو م ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف پلٹتے ہیں کیونکہ ہر گنا ہ کرنے والا در اصل اپنے پر وردگار سے بھا گتا ہے اور پھر جب وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔گناہ کے وقت خدا بھی ان سے منہ موڑ لیتا ہے اور جب یہ صفت خد اکے لئے استعمال ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ ا پنے لطف ، ورحمت اور محبت کی نظر ان کی طرف لوٹادیتا ہے (۱)
یہ صحیح ہے کہ حضرت آدم نے حقیقت میں کوئی فعل حرا انجام نہیں دیاتھا لیکن یہی ترک ِاولی ٰان کے لئے نافرمانی شمار ہوتا ہے ۔وہ حضرت فوراََاپنی کیفیت وحالت کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے پروردگار کی طرف پلٹے ۔
”کلمات“سے کیا مراد ہے ،اس کے بارے میں اس بحث کے اختتام پر گفتگو کریں گے۔
بہر حال جو کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ ہوا اور با وجودیکہ آدم کی تو بہ قبو ل ہوگئی لیکن اس کا اثر وضعی یعنی زمین کی طرف اتر نایہ متغیر نہ ہوا ۔جیسا کہ مندر جہ بالا آیا ت کہتی ہیں :ہم نے ان سے کہا کہ تم سب (آدم وحوا )زمین کی طرف اتر جاوٴ ۔جب تمہیں ہماری طرف سے ہدایت پہنچے اس وقت جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے لئے خوف ہے نہ وہ غمگین ہو ں گے (وقلنا اھبطوامنھا جمیعاِِ فاما یا تینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای ولا خوف علیھم فلا ھم یحزنون )۔
لیکن جو لوگ کافر ہو گئے اور انہونے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے (والذین کفرواوکذبوا باٰیاٰتنااولٰئک اصحاب النارھم فیھا خٰلدون)
(۱)خدانے جو کلما ت آدم پر القا کئے وہ کیا تھے :
توبہ کے لئے جو کلمات خدا نے آدم کو تعلیم فرمائے تھے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان ا ختلا ف ہے
مشہور ہے کہ وہ جملے یہ تھے جو سورہ اعراف آیہ ۲۳ میں ہیں:
قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنالنکونن من الخاسرین
ان دونو ں نے کہا خدایا!ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ا گر تو نے ہمیںنہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم زیاکاروں اور خسارے میں رہنے والو ں میں سے ہو جائیں گے ۔
بعض کہتے ہیں کلمات سے مراد یہ دعا وزاری تھی :
اللھم لاالٰہ الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی انک خیر الغافرین
اللہم لاالٰہ الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فارحمنی انک خیرالراحمین
اللہم لاالٰہ الا انت سبحنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم ۔
پرور دگارا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ومنزہ ہے میںتیری تعریف کرتا ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے کہ تو بہترین بخشنے والا ہے
خدایا !تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، توپاک ومنزہ ہے ،میں تیری تعریف کر تا ہوں ،میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ،تو مجھ پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کر نے والاہے
بارالٰہا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ومنزہ ہے میں تیری حمد کرتا ہوں ،میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اپنی رحمت کو میرے شامل حال قرار دے اور میری توبہ قبول کرلے کہ تواب ورحیم ہے ۔
امام محمد باقر سے منقول ایک روایت میں بھی یہ موضوع اسی طر ح وارد ہو اہے، 2
اسی قسم کی تعبیرات قرآن کی دوسری آیات میں حضرت یونس وموسی کے بارے میں بھی ہیں :
حضرت یونس خدا سے بخشش کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں
سبحٰنک انی کنت من الظالمین
خدایا !تو پاک ہے ،میں ان میںسے ہوں جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ۔(انبیاء ۔۸۷)
حضرت موسٰی کے بارے میں ہے :
قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ
انہو ں (حضرت موسٰی) نے عرض کیا :پروردگارا!میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے اور خدا نے انہیں بخش دیا (القصص۔۱۶)
کئی ایک روایا ت جو طرق اہل بیت سے منقول ہیں میں ہے کہ کلمات سے مراد خداکی بہترین مخلوق کے ناموں کی تعلیم تھی (یعنی محمد ،علی فاطمہ ،حسن ،حسین علیھم السلام اور آدم نے ان کلمات کے وسیلے سے درسگاہ الٰہی سے بخشش چاہی اور خدانے انہیں بخش دیا ۔
یہ تین قسم کی تفاسیر ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتیں کیونکہ ممکن ہے کہ حضرت آدم کو ان سب کلمات کی تعلیم دی گئی ہو تاکہ ان کلمات کی حقیقت اور باطنی گہر ائی پر غو ر کر نے سے آدم میں مکمل طور پر انقلاب روحانی پیدا ہو اور خدا انہیں اپنے لطف وہدایت سے نوازے ۔
(۲) لفظ اھبتوا کاتکرار کیوں:
زیر بحث اور ان سے پہلی آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ توبہ سے پہلے اوربعد بھی حضرت آدم اور ان کی زوجہ حوا کو خطاب ہوا کہ زمین کی طرف اتر جاوٴ ۔یہ تکرار آیا تا کید کے لئے ہے یا کسی اور مقصد کی طرف اشارہ ہے ۔اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے
لیکن ظاہر ہے کہ دوسری مرتبہ یہ لفظ اس واقعیت وحقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کہیں آدم یہ گمان نہ کریں کہ ان کی توبہ قبول ہو جانے کے بعد زمین کی طرف اتر نے کا حکم بھی واپس لے لیا گیا ہے بلکہ انہیں اس راستے کی طرف ہر حال میں جانا ہے یا اس لحاظ سے کہ در اصل وہ پیدا ہی اس مقصد کے لئے ہوئے تھے یاپھر اس نظر سے کہ یہ اترنااس عمل کا وضعی ہے اور یہ توبہ سے نہیں بدلا۔
(۳)”اھبتوا“ میں کون مخاطب ہیں
”اھبتوا“صیغہ جمع کے ساتھ آیا ہے جب کہ آدم وحوا جو اس گفتگو کے اصلی مخاطب ہیں وہ دو سے زیادہ نہیں ہیں لہٰذا انکے لئے تثنیہ کا صیغہ آنا چاہیئے تھا لیکن اس بناء پر جمع کا صیغہ آیا کہ آدم وحواکے زمین پر اتر نے کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی نسل کو بھی زمین میں رہنا تھا لہٰذا جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
(۱) یہی وجہ ہے کہ لفظ توبہ جب بندے کی طرف منسوب ہوتو لفظ ”الی “آتا ہے اور خدا کی طرف منسو ب ہو تو ”علی “آتا ہے ۔پہلی صورت میں ” تاب الیہ“اور دوسری صورت
میں ”تاب علیہ “کہا جا تا ہے (تفسیر کبیر اور تفسیر صافی زیر نظر آیت کے ذیل میں )
2- مجمع البیان ،آیات زیر بحث کے ذیل میں۔