البقرة

يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونِ 40

خدا کی نعمتوں کو یاد کرو

زمین پر خلافت آدم کی داستان ۔ملائکہ کی طرف سے ان کی تعظیم کا واقعہ ،آدم کا عہدوپیما ن الٰہی کو بھول جانے کا ذکر اور پھر ان کی توبہ کا تذکرہ یہ سب کچھ ہم گذشتہ آیا ت میں پڑھ چکے ہیں ۔
اس و اقعے سے یہ حقیقت و اضح ہوئی کہ اس دنیا میں ہمیشہ دو مختلف طاقتیں ،حق و باطل ایک دوسرے سے بر سر پیکا ر ہیں جس شخص نے شیطان کی پیروی کی اس نے باطل کی راہ کو انتخاب کیا جس کا انجام ہے جنت اور جہنم سے دوری اور رنج وتکلیف میں مبتلا ہو نااوراس کے بعد پشیمانی ہے ۔اس کے خلاف جو فرمان خداوندی کی راہ پر چلتا رہا اور اس نے شیاطین اور باطل پرستوں کے وسوسوں کی پرواہ نہ کی وہ پا ک وپاکیزہ اور رنج وغم سے آسودہ زندگی بسرکرے گا ۔  بنی اسرئیل نے فر عونیوں کے چنگل سے نجات پائی ، زمین میں خلیفہ ہوئے پھر پیمان الٰہی کو بھو ل گئے اور دوبارہ رنج وبد بختی میں پھنس گئے چونکہ یہ واقعہ حضر ت آدم کے واقعے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اسی اصل کی ایک فرع شمار ہو تا ہے لہٰذ اخداوند عالم زیر بحث اور اسکے بعد دسویں آیت میں بنی اسرائل کے مختلف نشیب وفراز اور ان کی سر نوشت بیان کرتا ہے تاکہ وہ ترتیبی درس جو سر نوشت آدم سے شروع ہو اتھاان مباحث میں مکمل ہوجائے ۔ بنی اسرایل کی طرف ا س طرح ر وئے سخن ہے :اے بنی اسرائیل !ہماری ان نعمتون کو یاد کروجو ہم نے تمہیں بخشی ہیں اورمجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تاکہ میں بھی تم سے کئے ہوئے عہد سے وفا کروں اور صرف مجھ سے ڈرو(یابنی اسرائیل اذکروانعمتی التی انعمت علیکم واوفوبعہدی اوف بعہدکم وایای فارھبون
در حقیقت یہ تین دستور او راحکا م کی (خداکی عظیم نعمتوں کو یاد کرنا ،عہد پرور دگار کو پورا کرنااور اس کی نافرمانی سے ڈرنا )خدا کے تمام پروگر ا موں کی تشکیل کرتے ہیں ۔
اس کی نعمتوں کو یاد کرنا ۔انسا ن کو اس کی معرفت کی دعوت دیتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس ابھار تا ہے اس کے بعد اس نکتے کی طرف توجہ کی یہ نعمتیں بغیر کسی شر ط و قید کے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ خدانے عہد وپیمان لیا ہے یہ انسا ن اس کی الٰہی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتاہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ انسان ذمہ داری کی راہ میں کسی شخص یا ہستی سے نہ ڈرے ۔یہ سبب بنتا ہے کہ انسان اس راستے کی تمام رکا وٹوں کو دور کر دے اور اپنی ذمہ داریوں اور عہد وپیمان کو پوراکرے کیونکہ اس راستے کی اہم رکاوٹوں میں سے ایک بلا وجہ اِس سے اور اس سے ڈرنا ہے خصوصا بنی سرئیل جو سالہاسال تک فرعون کے زیر تسلط رہے تھے ۔خوف ان کے بدن کا جزء بن چکا تھا۔
 

(۱) یہودی مدینہ میں :

یہ بات قابل غور ہے کہ بعض مئورخین ِ قرآن کی تصریح یہ ہے کہ سورہ بقرہ پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ۔ اس کا اہم حصہ یہودیوں کے بارے میں ہے کیونکہ اہل کتا ب کے پیروکاروں کی زیادہ مشہور جماعت وہاں پر یہودیوں ہی کی تھی ۔ وہ ظہور پیغمبر سے پہلے اپنی مذہبی کتب کی روشنی میں اس قسم کے ظہور کے منتظر تھے اور دوسرں کو بھی اس کی بشارت دیتے تھے ۔ اقتصادی حالت بھی ان کی بہت ااچھی تھی خلاصہ یہ کہ مدینہ میں ان کا گہرا اثر ورسوخ تھا ۔
جب اسلام کا ظہور ہوا تو اسلام ان کے غیر شرعی منافع کے راستون کو بند کرتا تھا اور ان کے غلط رویوں او ر خود سری کو روکتا تھا ۔ان میں اکثر نے نہ صرف یہ اکہ اسلا م کی دعوت کو قبول کیا بلکہ علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر اس کے خلا ف صف آراء ہوگئے ۔چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اسلام سے ان کا یہ مقابلہ ابھی تک جاری ہے ۔
مندرجہ بالا اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں اورسخت ترین سر زنشوں کے تیر یہودیو ں پر چلائے گئے اور ان کی تاریخ کے حساس حصو ں کو اس باریکی کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ جس نے ان کو ہلاکررکھ دیا ان میںسے جو بھی تھو ڑی سی حق جوئی کی روح رکھتا تھا وہ بیدار ہو کر اسلام کی طرف آگیا علاوہ ازیں مسلمانوں کے لئے بھی یہ ایک ترتیبی درس تھا ۔
انشاء اللہ آنے والی آیات میں آپ بنی اسرائیل کے نشیب وفرازپڑھیں گے جس میں ان کافرعون کے چنگل سے نجات پانا ،دریا کا شق ہونا،فرعون اور فرعونیون کا غرق ہو نا ،کوہِ طور حضرت موسی ٰکی وعدہ گاہ ،حضرت موسیٰ کی غیبت کے زمانے میںبنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی ،خونی توبہ کاحکم ،خداکی مخصوص نعمتو ں کاان پر نزول اور اس کے دیگر واقعات جن میں سے ہرایک واقعہ اپنے اندر ایک یا کئی عبر تناک درس لئے ہو ئے ہے ۔
 

(۲)یہودیوں سے خدا کے بارہ معاہدے:

 جس طرح آیات قر آنی سے ظاہرہوتا ہے :وہ معاہد ے یہ تھے :ایک اکیلئے خدا کی عبادت کرنا،ماں باپ ،عزیز واقارب ،یتیموں اور مدد طلب کرنے والوں سے نیکی کر نا ،لوگو ں سے اچھا سلوک کرنا ،نماز قائم کرنا ،زکوٰةدینا اور اذ یت وآزاری اور خون ریزی سے دور رہنا ۔
اس با ت کی شاہد اسی سورہ کی آیت ۸۳ اور ۸۴ ہے ۔
واذاخذنامیثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الااللہ وباالٰولدین احسان وذی القربی ٰوالیتٰمی ٰوالمساکین وقولوا للناس حسناواقیموالصلٰوة واٰتوالزکٰوة۔۔۔واذااخذنامیثا قکم لا تسفکون دماء کم ولاتخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقرتم وانتم تشہدون
در اصل یہ دو آیات د س معاہدو ں کی نشان دہی کرتی ہیں جو خدا نے یہودیوں سے کئے تھے اورسو رہ مائدہ کی آیت ۱۲ جو یہ ہے :
ولقد اخذاللہ میثاق بنی اسرائیل ۔۔۔۔۔وقال اللہ انی معکم  لئن اقمتم الصلٰوة واٰتیتم الزکٰوةواٰمنتم برسلی وعزرتموھم۔
اس میںسے دوسرے عہد وپیمان جن میں انبیاء پر ایمان لانا اور انہیں تقویت پہنچانا شامل ہیں ظاہر ہو تے ہیں ۔
اس سے واضح ہو تا ہے کہ انہو ں نے خدا کی بڑی بڑ ی نعمتیں کچھ معاہدو ں کی بنیا د پر حاصل کی تھیں اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ان معاہدوں کے وفادار ہوگے تو تمہیں جنت کے با غوں میں بھی جگہ دی جا ئے گی جس کی نہریں اس کے قصروں اور درختوں کے نیچے جا ری ہوں گی :
لادخلنکم جنا ت تجری من تحتھا الانھٰر
بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے آخر کار یہ عہد وپیمان پاؤں تلے روند ڈالے اور اب اس زمانے میں بھی اپنی پیمان شکنی جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ منتشر و پرو گندہ ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھا تے پھرتے ہیں اور جب تک ان کی یہ پیمان شکنیاں جاری رہیں گی ، ان کی یہ کیفیت بھی جاری رہے گی یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ دوسروں کی پناہ میں نشو نما پارہے ہیں تو یہ ہرگز ان کی کامیابی کی دلیل نہیں اور ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ جس دن اسلام کے غیور بیٹے اور قومی رجحانات و میلانات سے دور ہو کر صرف قرآن کے سائے میں اٹھ کھڑاے ہوئے وہ اس شور اور ہنگامے کو ختم کرکے رکھ دیں گے۔
 

(۴) خدا بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا :

 خدا کی نعمتیں کبھی قید اور شرط کے بغیر نہیں ہوتیں اور ہر نعمت کے پہلو میں ایک ذمہ دار ی اور شرط پنہاں ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں :
اوف بعھدکم سے مراد یہ ہے کہ اپنے عہد کو پورا کروں گا اور تمہیں جنت میں لے جاؤں گا ۔ ۱
اس حدیث کے ایک حصے میں ولایت علی پر ایمان لانا بھی اس عہد کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کے عہد وپیمان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ انبیاء خدا کی رسالت پر ایمان لائیں گے اور ان کو تقویت پہنچائیں گے ۔
ہم جانتے ہیں کہ ان کے جانشینوں کو بھی ماننا اسی مسئلہ رہبری و ولایت کا ضمیمہ ہے جو ہر زمانے میں اس کی مناسبت سے تحقیق پذیر ہوتا رہا ہے ۔ حضرت مو سیٰ کے زمانے میں اس منصب پر فائز خود حضرت موسیٰ تھے ۔ اور نبی اکرم کے زمانے میں خود آنحضرت ہی تھے اور بعد والے زمانے میں حضرت علی ۔
ضمنی طور پر جملہ ایای فارھبون ( صرف میری سزا سے ڈرو ) اس امر کی تاکید ہے کہ خدا سے ایفائے عہد اور اطاعت ِ احکام کی راہ میں میں کسی چیز اور کسی شخص سے خوف و وحشت نہیں ہونی چاہیئے ۔ لفظ ایای فارھبون سے مقدم ہے سے یہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔
 

(۵) حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل کیوں کہتے ہیں :

 حضرت یعقوب جو حضرت یوسف کے والد تھے ان کا ایک نام ” اسرائیل “ بھی ہے ۔حضرت یعقوب نے اپنا یہ نام کیوں رکھا تھا ۔ اس سلسلہ میں غیر مسلم مئورخین نے ایسی باتیں لکھی ہیں جو خرافات کا پلندہ ہیں جیسے ” کتاب مقدس “ میں لکھا ہے :
”اسرائیل کا معنی وہ شخص ہے جو خدا پر غالب اور کامیاب ہو گیا ہو “
وہ مزید لکھتا ہے :
” یہ لفط یعقوب بن اسحاق کا لقب ہے جنہیں خدا کے فرشتوں نے کشتی لڑتے وقت یہ لقب ملا تھا “
اسی کتاب میں یہ لفظ یعقوب کے نیچے لکھا ہے :
” جب انہوں نے اپنے اثبات و استقا مت ایمان کو ظاہر کیا تو خدا وند نے اس کا نام بدل کر اسرائیل رکھ دیا اور وعدہ کیا کہ وہ عوام کے گروہوں کے باپ ہوں گے ۔ خلاصہ یہ کہ وہ انتہائی کمال کے ساتھ اس دنیا سے گئے اور دنیا کے کسی بادشاہ کی طرح دفن نہ ہوئے اور اسم یعقوب و اسرائیل ان کی پوری قوم کے لئے بولا جاتا ہے “
لفظ ”اسرائیل “ کے ذیل میں لکھتاہے :
اس نام کے بہت سے موارد ہیں چنانچہ کبھی اس سے مراد نسل اسرائیل و نسل یعقوب بھی ہوتی ہے۔ ۱
علماء اسلام اس سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں مثلاََ مشہور طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں :
”اسرائیل وہی فرزند اسحاق بن ابراہیم ہیں “
وہ لکھتے ہیں :’
’اس ، کے معنی عبد ، اور ئیل ، کے معنی ، اللہ ، لہذا ، اسرائیل ، کے معنی ، عبداللہ ، یعنی اللہ کا بندہ “
واضح ہے کہ اسرائیل کی فرشتوں سے کشتی لڑنے کی داستان جیسے کہ تحر یف شدہ تورات میں اب بھی موجود ہے ایک خود ساختہ اور بچگانہ کہانی ہے جو آسمانی کتاب کی شان سے بعید ہے اور یہی داستان موجودہ تورات کے تحریف شدہ ہونے کی دلیل و مدرک ہے۔


۱ نورالثقلین ج ،۱ ص۷۲