البقرة

۞ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ 60

بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے

 اس آیت میں بنی اسرائیل پر کی گئی ایک اور نعمت کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے ( اس خشک اورجلانے والے بیابان میں جس وقت بنی اسرائیل پانی کی وجہ سے سخت تنگی میں مبتلا تھے ) پانی کی درخواست کی و اذ استسقیٰ موسی ٰ لقومہ ) تو خدا نے اس درخواست کو قبول کیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو ( فقلنا اضرب بعصاک الحجر ) اس پر اچانک پانی ابلنے لگا اور پانی کے بارہ چشمے زور و شور سے جاری ہوگئے فانفجرت منہ اثنتا عشرة عینا
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے تو ایک چشمہ ایک قبیلہ کی طرف جھک جاتا تھا جس پر بنی اسرائیل کے لوگوں اور قبیلوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا ، قد علم کل اناس مشربھم
یہ پتھر کس قسم کا تھا حضرت موسیٰ کس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانی اس میں سے کیسے جاری ہوجاتا تھا ۔ اس سلسلے میںبہت کچھ گفتگو کی گئی ہے جوکچھ قرآن اس بارے میں کہتا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ موسیٰ نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پتھر ایک کو ہستانی علاقہ کے ایک حصے میں واقع تھا جو اس بیابا ن کی طرف جھکا ہوا تھا سورہ اعراف آیہ ۱۶۰ کی تعبیر ” انجست “ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتداء میں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلا اور بعد میں زیادہ ہو گیا ۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا ہر قبیلہ ، ان کے جانور جو ان کے ساتھ تھے اور وہ کھیتی جو انہوں نے احتما لاََ اس بیابا ن کے ایک حصے میں تیار کی تھی سب اس سے سیراب ہوگئے ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوہستانی علاقہ میں پتھر کے ایک حصہ سے پانی جاری ہوا البتہ یہ مسلم ہے کہ یہ سب معجزے سے رونما ہوا ۔
خدا نے موسیٰ سے کہا : قوم کے آگے آگے رہو اور اسرائیل کے بعض بزرگوں کو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا ہاتھ میں لے کر روانہ ہوجاؤ میں وہاں تمہارے سامنے کوہ حوریب پر کھڑا ہو جاؤں گا اور اسے پتھر پر مارو اس سے پانی جاری ہوجائے گا ۔ تاکہ قوم پی لے اور موسیٰ نے اسرائیل کے مشائخ اور بزرگوں کے سامنے ایسا ی کیا ۱
بہر حال ایک طرف خدا وندعا لم نے ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور دوسری طرف ان پر فراواں پانی عطا کیا اور ان سے فرمایا :
خدا کی دی ہوئی روزی سے کھاؤ پیو لیکن زمین میں خرابی اور فساد نہ کرو ( کلو و اشربو من رزق اللہ ولا تعثوا فی الارض مفسدین
گویا یہ آیت انہیں متوجہ کرتی ہے کہ کم از کم ان عظیم نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پرضدی پن ، ستمگری انبیاء کو ایذا رسانی اور بہانہ سازی ترک کردو ۔

تعثوا“اور مفسدین میں فرق :

تعثوا “کا مادہ ” عثی “ ( بروزن ) مسی ہے ) جس کے معنی ہیں شدید فساد ۔ البتہ یہ لفظ زیادہ تر اخلاقی اور روحانی مفاسد کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ مادہ ”عیث “ جو معنی کے طور پر اس کے مشابہ ہے زیاد ہ تر حسی مفاسد کے لئے بولا جاتا ہے ۔ لہذا ” لاتعثوا “ کے معنی بھی ” مفسدین“ کے ہیں لیکن تاکید اور زیادہ شدت کے ساتھ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ پورا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ فساد ابتدا میں ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور پھیلاؤ آجاتا ہے اور اس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ ٹھیک وہی چیز ہے جو لفظ ” تعثو ا “ سے معلوم ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ” مفسدین“ فساد انگیز پرو گرام کے آغاز کی طرف اور ” تعثو ا“ اس کے دوام اور استمرار اور اسے وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے ۔

 بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات :

بعض لوگ جو منطق اعجاز سے واقف نہیں وہ اتنے پانی اور اتنے چشموں کے ایک پتھر سے ابلنے اور جاری ہونے کو بعید شمار کرتے ہیں حالانکہ اس قسم کے مسائل جن کا اہم تر حصہ معجزات انبیاء پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم ا سے اپنے مقام پر بیان کر چکے ہیں ۔ کوئی امر محال یا علت و معلول کے قانون میں کوئی استثناء نہیں ہے بلکہ یہ صرف خارق عادت چیز ہے یعنی اس علت و معلول کے خلاف ہے جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ عالم ہستی اور نظام علت ومعلول کو پیدا کرنے والا اس پر حاکم ہے نہ کہ اس کا محکوم ۔ خود ہماری روز مرہ کی زندگی میں موجودہ علت و معلول کے نظام کے استثنائی واقعا ت تھو ڑ ے نہیں ہیں 2۔

 انفجرت  اور انبجست  میں فرق:

 زیر بحث آیت میں ” انفجرت “ استعمال ہوا ہے جب کہ سورہ اعراف آیہ ۱۶ میں اس کی جگہ ” انبجست “ آیا ہے پہلے کا معنی ہے پانی کا سخت بہاؤ اور دوسرے کا معنی ہیں تھوڑا تھوڑا اور آرام سے جاری ہونا ۔، ممکن ہے دوسری آیت اس پانی کے جاری ہونے کے ابتدائی مرحلہ کی طرف اشارہ ہو تاکہ پریشانی کا سبب نہ بنے اور بنی اسرائیل اسے اپنے کنٹرول میں کر سکیں اور ” انفجرت “ اس کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہو جس سے مراد تیز بہاؤ ہے ۔
کتاب مفردات راغب میں آیا ہے کہ ” انبجاس “ وہاں بولا جاتا ہے جہاں پانی چھوٹے سے سوراخ سے نکل رہا ہو اور انفجار اس وقت کہتے ہیں جب پانی وسیع جگہ سے باہر آرہا ہو جو کچھ ہم کہ چکے ہیں یہ تعبیر اس سے پوری طرح ساز گا ر ہے ۔


۱ فصل ۱۷ سفر خروج ، جملہ ۵ و ۶ ۔
2 زیادہ وضاحت کے لئے کتاب ” رہبران بزرگ “ کی طرف رجوع فرمائیں ۔