البقرة
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا ۖ قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ اهْبِطُوا مِصْرًا فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ ۗ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ۗ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ 61
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے بنی اسرائیل کو نوازا تھا ۔ زیر نظر آیت میں ان عظیم نعمتوں پر ان کے کفران اور ناشکر گزاری کی حالت کو منعکس کیا گیا ہے ۔ اس میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ کس قسم کے ہٹ دھرم لوگ تھے ۔ شاید تاریک دنیا میں ایسی کوئی مثال نہ ملے گی کہ کچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہٰی ہو لیکن انہون نے اس طرح سے اس مقابلے میں ناشکر گزاری اور نافرمانی کی ہو ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا اے موسٰی ہم سے ہر گز یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی غذا پر قناعت کرلیں ( من و سلویٰ کتنی ہی اچھی اور لذیز غذا ہو ہم مختلف قسم کی غذا چاہتے ہیں ) ( و اذ قلتم یٰموسٰی لن نصبر علی طعام واحد ) لہذا خدا سے خواہش کرو کہ وہ زمین سے جو کچھ اگایا کرتا ہے ہمارے لئے بھی اگائے سبزیوں میں سے ، ککڑی ، لہسن ، مسور اور پیاز ( فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلھا و قثائھا و فومھا و عدسھا وبصلھا لیکن موسٰی نے ان سے کہا : کیا تم بہتر کے بجائے پست غذا پسند کرتے ہو ( قال اتستبدلون الذی ھو ادنیٰ با الذی ھو خیر ) جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس بیابان سے نکلو اور کسی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے ( اھبطو امصرا فان لکم ما سئالتم )
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ خد انے ان کی پیشانی پر ذلت و فقر کی مہر لگا دی ( و ضربت علیھم الذلة و المسکنة ) اور وہ دوبارہ غضب الہٰی میں گرفتارہوگئے ( و با ؤا بغضب من اللہ )۔
یہ اس لئے ہوا کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے ( ذٰلک بانھم کانوا یکفرون بایات اللہ ویقتلون النبیین بغیر الحق ) یہ سب اس لئے تھا کہ وہ گناہ ، سر کشی اور تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے ( ذٰلک بما عصوا و کانو ا یعتدون ) ۔
یہاں مصری سے کون سی جگہ مراد ہے
بعض مفسرین کا نظریہ ہے لفظ مصر اس آیت میں اپنے کلی مفہوم کی طرف اشارہ ہے یعنی تم ا س و قت بیابان میں ایک خودسازی کے اور آزمائشی پروگرام میں شریک تھے ۔یہا ں قسم قسم کی غذائیں نہیں ہیں لہذا شہروں میں جاوٴ ،وہا ں چلو پھرو وہا ں ہر چیز موجو د ہے لیکن یہ خود سازی اور اصلاحی پروگرام وہا ں نہیں ہے ۔وہ اس کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کبھی شہر مصر کی طرف جا نے کا تقاضا کیااور نہ کبھی اس کی طرف واپش گئے ۔ ۱
بعض دوسر ے مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ تمہارا اس بیا بان میں رہنا اور ا س ایک قسم کی غذا سے استفادہ کرنا تمہا ری کمزوری ،ناتوانی اور زبوں حالی کی وجہ سے ہے ۔تم طاقتور بنو ،دشمنو ں کے ساتھ جنگ کرو ،شام کے شہر اور سر زمین مقدس ان سے چھین لوتاکہ تمہیں تمام چیز یں میسر آسکیں ۲
اس آیت کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ مراد وہی ملک مصر ہے یعنی اگر تم ایک قسم کی غذا سے اس بیا با ن میں تم فائد ہ اٹھاتے ہو تو اس کے بدلے تمہا رے پاس ایمان ہے اور تم خود آزاد اورمختار ہو اور اگر یہ چیزیں نہیں چاہتے تو پلٹ جا وٴ اور دوبارہ فرعونیوں یا ان جیسے لوگوں کے غلام اور قیدی بن جاوٴتاکہ ان کے دستر خوان سے بچی ہو ئی قسم قسم کی غذ ائیں کھا سکو تم شکم سیری اور کھا نے کے پیچھے لگے ہوئے ہو یہ نہیں سوچتے کہ اس وقت تم غلام اور قیدی تھے اورآج آزاد اور سر بلند ہو۔اب اگر حقیقت میں تم کچھ چیزوں سے محروم بھی ہو تو یہ آزادی کی قیمت ہے جو ادا کررہے ہو ۳
لیکن اس سلسلے میں پہلی تفسیرہی سب سے زیادہ مناسب ہے ۔اس دلیل کی بناء پر جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں
کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں :
اس میں شک نہیں کہ نت نئی چیز کی خواہش انسان کی زندگی کے لوازمات اور خصوصیات میں سے ہے یہ بات انسانی زندگی کا حصہ ہے وہا ں ا یک قسم کی غذا سے اکتاجاتا ہے لہذا یہ کوئی غلط نہیں پھر آخر بنی اسرائیل کیوں تنو ع کی درخواست پر لائق سر زنش قرار پائے ۔
اس سوال کا جواب ایک نکتے کے ذکر سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی میںکھانا ،سونا ،شہوت اورطرح طرح کی لذتیں بنیادی چیز نہیں ہیںایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ ان امو ر کی طرف توجہ انسان کو اس کی اصل غرض اور اولین مقصد سے دور کر دیتی ہے جو در اصل ایمان ، پاکیزگی ، تقوی اور اصلاح ذات ہے یہ وہ مقام ہے جہا ں پر انسان ان تمام چیزوں کو ٹھوکر مار دیتا ہے ۔نت نئی چیز کی خواہش در حقیقت کل کے اور آج کے استعمار گر وں کا ایک بہت بڑا جال ہے اورخصوصا آج کے زمانے میں اس تنوع طلبی سے استفادہ کیا جارتا ہے اورانسان کو قسم قسم کی غذاوٴں ،لباس ،سواری اورمکان کی خواہش کا اسیر بنا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بالکل بھو ل جاتا ہے اور ان چیزوں کی قید کا طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے ۔
کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا:
اس میں شک نہیں مختلف سبز یوں کی غذا جس کا بنی اسرائیل حضرت موسی ٰ سے تقاضا کرتے تھے انتہائی قیمتی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف ایک پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیئے کیا یہ درست ہے کہ ا نسا ن مختلف قسم کی غذاوٴں کو حا صل کر نے کے لئے اپنے آپ کو قیدی بنالے ۔جب کہ ایک قول کے مطابق ”من “ایک پہا ڑ ی شہد ہے یا شہد کی طرح کی ایک طاقت بخش اور مفید میٹھی چیز ہے یہ ایک مفید ترین اور طاقت سے بھر پور غذا ہے ۔اس میں تازہ گوشت میں موجو د پروٹین کے اجزا ء بھی ایک خاص پرندے سلویٰ کی صورت میں موجود تھے بلکہ وہ کئی جہت سے عام طور پر موجود پروٹین کے اجزاء سے بہترتھے کیو نکہ” من“کا ہضم ہونا بہت آسا ن ہے جب کہ سلویٰ کے ہضم کے لئے معدے کو تھکا دینے والی فعالیت کی ضرورت ہے۔ 4
اس ضمن میں متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ ”فوم “جو بنی ا سرائیل کے تقاضوںمیں سے ہے بعض نے اس کے معنی گندم اور بعض نے لہسن بیان کئے ہیں البتہ ا ن میںسے ہر ایک خصوصی امتیا ز رکھتا تھا لیکن بعض کا نظریہ ہے کہ گندم زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعید ہے کہ انہوںنے ایسی غذا طلب کی ہو جس میں گندم نہ ہو ۔ 5
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر کیوں ثبت کی گئی مندر جہ بالا آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ دو لحاظ سے ذلت وخواری میں گرفتا ر ہوئے ۔ایک تو ہے ان کاکفر اختیار کرنا ۔ احکام خدا کی خلاف ورزی کرنا اور توحید سے شر ک کی طرف منحرف ہونا اور دوسرا یہ کہ وہ حق والوں اور خدا کے بھیجے ہوئے نمائند وں کو قتل کرتے تھے یہ سنگدلی ،قساوت اورقوانین الٰہی بلکہ نوع انسانی میں موجود تمام قوانین سے بے ا عتنائی د لیل ہے جب کہ آج بھی یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس وہ قوانین وضاحت کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہی ان کی ذلت اور بدبختی کا سبب ہے ۔ 6 ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر
یہودیو ں کی سرنوشت اور ان کی زلت آمیز زندگی کے بارے میں اورہ آل عمران آیہ۱۱۲کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کریں گے 7
۱ علاوہ ازیں لفظ ”مصر “کی تنوین اس کے نکرہ ہو نے کی دلیل ہے لہذا اس دسے شہر مصر مراد نہیں ہو سکتا
۲ تفسیر المنار ،آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔
۳ تفسیر فی ضلال4قرآن بر فراز قرون واعصار ، ص۱۱۲
5تفسیر قرطبی ،زیر بحث ،آیت کے ذیل میں ۔
6 - اس وقت جب کہ ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں لبنان کی اسلامی سرزمین یہودیو ں کی ووحشت انگیزیوں اور برباد کن مظالم کی ضد میں ہے ،ہزاروں عورتیں ، بچے ،بوڑھے اور جوان یہا ں تک کہ ہسپتالوں بیما ر درد انگیز طریقے سے جا م شہادت نوسش کرچکے ہیں اوران کی لاشیں زمین پر پڑیں ہیں البتہ اس سنگدلی کاکفارہ انہیں عنقریب اسی دنیا میں ادا کرنا پڑے گا
7- تفسیر نمونہ ، ج ۳۔