البقرة
ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ ۖ فَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ 64
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر عمل کرنے کے عہد و پیمان اور پھر ان کی طرف سے اس پیمان کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
کہا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم سے عہد وپیمان لیا ۔( و اذ اخذنا میثاقکم ) اور کوہ طور کو تمہارے سروں پر مسلط کردیا ہے ( ورفعنا فوقکم الطور ) اور تمہیں کہا گیا ہے کہ جو آیات الہٰی تمہیں دی گئی ہیں انہیں قدرت و قوت سے تھامو ( خذ و ا ما اٰتینٰکم بقوة ) اور اس میں جو کچھ ہے اسے غور و فکر سے دل میں یاد رکھو اور اس پر عمل کرو ) تاکہ پرہیزگار ہوجاؤ ( و اذ کرو ا مافیہ لعلکم تتقون ) ۔
لیکن تم نے اپنے عہد وپیمان کو طاق نسیاں کردیا اور اس واقعے کے بعد روگرداں ہوگئے ( ثم تولیتم من بعد ذٰلک ) اور اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا و تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے ۔
(۱) عہد و پیمان سے مراد :
یہاں عہد اپیمان سے مراد مقصود وہی ہے جس پر اس سورہ کی چالیسویں آیت میں بحث ہوچکی ہے اور آیت ۸۳ اور ۸۴ میں بھی شامل ہوگی ۔
اس عہد و پیمان میں یہ چیز یں شامل تھیں : پروردگار کی توحید پر ایمان رکھنا ، ماں باپ ، عزیز و اقارب ، یتیم اور حاجتمند وں سے نیکی کرنا اور خونریزی سے پرہیز کرنا ۔یہ کلی طور پر ان صحیح عقائد اور خدا ئی پروگراموں کے بارے میں عہد وپیمان تھا جن کا تورات میں ذکر کیا گیا تھا ۔
سورہ مائدہ کی آیت ۱۲ سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا نے یہودیوں سے عہد وپیمان لیا کہ وہ تمام انبیاء پر ایمان رکھیں گے اور ان کی کمک کریں گے اور راہ خدا میں صدقہ اور خرچ کریں گے نیز اس آیت کے آخر میں ضمانت دی گئی ہے کہ اس عہد پر عمل کریں گے تو اہل بہشت میں سے ہوجائیں گے ۔
(۲) کوہ طور ان کے سروں پر مسلط کرنے سے کیا مقصود تھا :
عظیم اسلامی مفسر مرحوم طبرسی ، ابن زید کا قول اس طرح نقل کرتے ہیں :
جس وقت حضرت موسی کوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ تورات لائے تو اپنی قوم کو بتایا کہ میں آسمانی کتاب لے کر آیا ہوں جو دینی احکام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے ۔ یہ وہ احکام ہیں جنہیں خدا نے تمہارے لئے عملی پروگرام قطع قر دیا ہے ۔ اسے لے کر اس کے احکام پر عمل کرو ۔ اس بہانے سے کہ یہ ان کے لئے مشکل احکام ہیں ۔ یہودی نافرمانی اور سر کشی پر تل گئے۔ خدا نے بھی فرشتوں کو مامور کیا کہ وہ کوہ طور کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ان کے سروں پر لاکر کھڑا کر دیں ۔ اسی اثناء میں حضرت موسٰی نے انہیں خبر دی کہ عہد وپیمان باندھ لو ، احکام خدا پر عمل کرو ، سرکشی و بغاوت سے توبہ کرو تو تم سے عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاک ہوجاؤ گے ۔ اس پر انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ۔ تو رات کو قبول کیا اور خدا کے حضور سجدہ کیا ۔ جب کہ ہر لحظہ وہ کوہ طور کے اپنے سروں پر گرنے کے منتطر تھے لیکن با لآ خر ان کی توبہ کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل گیا ۔
یہی مضمون سورہ بقرہ آیة ۹۳ میں سورہ نساء آیہ ۱۵۴ میں اور سورہ اعراف آیہ ۱۷۱ میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔
” یہ نکتہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوہ طور کے بنی اسرائیل کے سروں پر مسلط ہونے کی کیفیت کے سلسلے میں مفسرین کی ایک جماعت کا اعتقاد ہے کہ حکم خداسے کوہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ گیا اور سائبان کی طرح ان کے سروں پر مسلط ہوگیا ۔( اعراف ۔ ۱۷۱ ۱
جب کہ بعض دوسرے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ میں سخت قسم کا زلزلہ آ یا ، پہاڑ اس طرح لرزنے اور حرکت کرنے لگا کہ جو لوگ پہاڑ کے دامن میں تھے انہوں نے پہاڑ کے ایک حصے کا سایہ اپنے سروں پر واضح طور پر دیکھا ، ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی وقت وہ ان کے سروں پر آگرے گا لیکن خدا کے لطف وکرم سے زلزلہ رک گیا اور پہار اپنی جگہ پو قائم ہوگیا ۔ ۲
یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ پہاڑ کا ایک بہت بڑا ٹکڑا زلزلے اور شدید بجلی کے زیر اثر اپنی جگہ سے اکھڑ کر ان کے سروں کے اوپر سے بحکم خدا اس طرح گزرا ہو کہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر دیکھا ہو اور یہ خیال کیا ہو کہ وہ ان پر گرنا چاہتا ہے لیکن یہ عذاب ان سے ٹل گیا اور وہ ٹکڑا کہیں دور جاکر گرا
(۳) کیا اس عہد وپیمان میں جبر کا پہلو ہے :
اس سوال کے جواب میں بعض کہتے ہیں کہ ان کے سروں پر پہاڑ کا مسلط ہونا ڈرانے اور دھمکانے کے طور پر تھا نہ کہ جبر واضطرار کے طور پر ورنہ جبر عہد وپیمان کی تو کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔
لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ سرکش اور باغی افراد کو تہدید و سزا کے ذریعہ حق کے سامنے جھکایا جائے ۔ یہ تہدید اور سختی وقتی طور پر ہے ان کے غرور کو توڑدے گی ۔ انہیں صحیح غور وفکر پر ابھارے گی اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختیار سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگے ۔
بہر حال یہ پیمان زیادہ تر عملی پہلوؤں سے مربوط تھا ورنہ عقائد کو تو جبر واکراہ سے نہیں بدلا جاسکتا ۔
(۴) کوہ طور :
طور سے مراد یہاں اسم ِ جنس ہے یا یہ مخصوص پہاڑ ہے ۔ اس سلسلے میں دو تفسیریں موجود ہیں ۔
بعض کہتے ہیں کہ طور اسی مشہور پہاڑ کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر وحی نازل ہوئی ۔
لیکن بعض کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ طورلغوی معنی کے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے ۔ یہ وہی چیز ہے جسے سورہ اعراف کی آیہ ۱۷۱ میں ” جبل “ سے تعبیر کیا گیا ہے :
و اذ نتقنا الجبل فوقھم
(۵) خذوا ما اتیناکم بقوة کا مفہوم : اس جملے کی تفسیر میں امام صادق سے منقول ہے کہ آنجناب سے لوگوں نے پوچھا :
قوة الابدان او قوة القلب
قوت و طاقت آیات الہٰی تھامنے سے مراد قوت جسمانی ہے یا قوت معنوی ۔
امام نے جواب دیا :
فیھا جمیعا
جسمانی و معنوی سب طاقتیں مراد ہیں 3۔
یہ حکم تمام آسمانی ادیان کے پیرو کاروں کے لئے ہے کہ ہر زمانے میں ان تعلیمات کی حفاظت و اجراء کے لئے مادی و روحانی دونوں قوتوں اور توانائیوں کے ساتھ تیار رہیں ۔
۱ ۔ مجمع البیان اور بعض دیگر تفاسیر ۔
۲ -ا لمنار زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
3 تفسیر المیزان زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ محاسن برقی ۔