البقرة
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ ۚ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ 74
بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ
سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہم مختصر طور پر جو دیگر واقعات پڑھ چکے ہیں ان کے برعکس ان آیات میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ یہ واقعہ قرآن میں صرف ایک ہی دفعہ ذکر ہوا ہے ۔ علاوہ از ایں اس میں ایسے بہت سے نکات بھی نظر آتے ہیں جو بہت کچھ سکھاتے ہیں ۔ ان میں سے بنی اسرائیل کی بہانہ سازی اس ساری داستان میں واضح ہے نیز حضرت موسیٰ کی گفتگو سے ان کے ایمان کے درجات بھی ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ تمام چیزوں سے قطع نظر یہ واقعہ مسئلہ معاد وقیامت کی زندہ سند اور گواہ ہے ۔
پہلے ہم اس واقعے کی تشریح اور آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں بعد ازاں اس کے نکات کی طرف جائیں گے ۔
جیسا کہ اایات قرآن اور اقوال مفسرین سے ظاہر ہوتا ہے بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نامعلوم طور پر قتل ہوجاتا ہے اس کے قاتل کا کسی طرح پتہ نہیں چلتا بنی اسرائیل کے قبائل کے درمیان جھگرا اور نزاع شروع ہوجاتا ہے ۔ ان مین سے ہر ایک دوسرے قبیلے اور دیگر لوگون کو اس کاذمہ دار گردانتا ہے اور اپنے تئیں بری الذمہ قرار دیتا ہے ، جھگڑا ختم کرنے کے لئے مقدمہ حضرت موسیٰ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور لوگ آپ سے اس موقع پر مشکل کشائی کی درخواست کرتے ہیں اور اس کا حل چاہتے ہیں ۔ چونکہ عام اور معروف طریقوں سے اس فیصلے کا فیصلہ ممکن نہ تھا اور دوسری طرف اس کشمکش کے جاری رہنے سے ممکن تھا بنی اسرائیل میں ایک عطیم فتنہ کھڑا ہوجاتا لہذا جیسا کہ آپ ان آیات کی تفسیر میں پڑھیں گے حضرت موسیٰ پروردگار سے مدد لے کر اعجاز کے راستے اس مشکل کو حل کرتے ہیں ۱
قرآن نے فرمایا : یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا ( قاتل کو تلاش کرنے کے لئے ) پہلی گائے ( جو تمہیں مل جائے اس کو ذبح کرو ( و اذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یا مرکم ان تذبحو ا بقرة )
انہوں نے بطورتعجب کہا : میں خدا سے پناہ مانگتا ہوںکہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں ( قال اعوذ با اللہ ان اکون من الجٰھلین) ۔ یعنی استہزاء اور تمسخر کرنا نادان اور جاہل افراد کا کام ہے اور خدا کا رسول یقینا ایسا نہیں ہے ۔
اس کے بعد انہیں اطمینان ہوگیا کہ استہزاء و مذاق نہیں بلکہ سنجیدہ گفتگو ہے تو کہنے لگے : اب اگر ایسا ہی ہے تو اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمارے لیے مشخص و معین کردے کہ وہ گائے کس قسم کی ہو ( قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ) ”اپنے خدا سے کہو “ ان کے سوالات میں یہ جملہ بتکرار آیا ہے ۔ اس میں ایک طرح کا سوئے ادب یا سربستہ استہزاء و مذاق پایا جاتا ہے ۔یہ کیوں نہیں کہتے تھے ” ہمارے خدا سے دعا کیجئے “ کیا وہ حضرت موسیٰ کے خدا کو اپنے خدا سے جدا سمجھتے تھے ۔
بہر حال حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا : خدا فرماتا ہے ایسی گائے ہو جو نہ بوڑھی ہو او بے کار ہوچکی ہو اور نہ ہی جو ان بلکہ ان کے درمیان ہو ( قال انہ یقول انھا بقرة لا فارض ولا بکر عوان بین ذٰلک ) ۔ 2
اس مقصد کے لئے کہ وہ اس سے زیادہ اس مسئلے کو طول نہ دیں اور بہانہ تراشی سے حکم ِ خدا میں تاخیر نہ کریں اپنے کلام کے آخر میں مزید کہا : جو تمہیں حکم دیا گیا ہے ( جتنی جلدی ہوسکے ) اسے انجام دو فافعلو ا ما توء مرون )۔لیکن انہوں نے پھر بھی زیادہ باتیں بنانے اور ڈھٹائی دکھانے سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور کہنے لگے : اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ( قالو ا ادع لنا ربک یبین لنا ما لونھا ) ۔
موسیٰ نے جواب میں کہا : وہ گائے ساری کی ساری زرد رنگ کی ہو جس کارنگ دیکھنے والوں کو بھلا لگے ( و قال انہ یقول انھا بقرة صفراء فاقع لونھا تسر النٰظرین ّ ۔ 3
خلاصہ یہ کہ وہ گائے مکمل طور پر خوش رنگ اور چمکیلی ہو ۔ ایسی دیدہ زیب کہ دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈال دے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پر اکتفاء نہ کیا اور اسی طرح ہر مرتبہ بہانہ جوئی سے کام لے کر اپنے آپ کو اور مشکل میں ڈالتے گئے۔ پھر کہنے لگے اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ گائے ( کام کرنے کے لحاظ سے ) کیسی ہونی چاہیئے،
(قالوا ادع لنا یبین لنا ماھی ) ۔ کیونکہ یہ گائے ہمارے لئے مبہم ہوگئی ہے ( ان البقرہ تشابہ علینا ) اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پالیں گے (و انا ان شاء اللہ لمھتدون )۔
حضرت موسیٰ نے پھر سے کہا : خدا فرماتا ہے وہ ایسی گائے ہو جو اتنی سدھائی ہوئی نہ ہو کہ زمین جوتے اور کھیتی سینچے ( قال انہ یقول انھا بقرة لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث ) ہر عیب سے پاک ہو ( مسلمة ) حتی کہ اس میں کسی قسم کا دوسرا رنگ نہ ہو ( لاشیة فیھا ) ۔
اب کہ بہانہ سازی کے لئے ان کے پاس کوئی سوال باقی نہ تھا ، جتنے سوالات وہ کر سکتے تھے سب ختم ہو گئے تو کہنے لگے : اب تو نے حق بات کہی ہے ( قالوا الان جئت بالحق )
پھر جس طرح ہوسکا انہوں نے وہ گائے مہیا کی اور اسے ذبح کیا لیکن در اصل وہ یہ کام کرنا نہ چاہتے تھے (( فذبحوھا و ما کادو یفعلون ))
اس واقعے کی جزئیات بیان کرنے کے بعد قرآن دوبارہ یہ تمام واقعہ بعد کی دو آیات میں مختصراََ بیان کرتا ہے :
یاد کرو اس وقت کو جب تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا پھر اس کے قاتل کے بارے میں جھگڑ نے لگے اور خدا نے ایک حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیاہے ) جس چیز کو تم چھپائے ہوئے تھے آشکار کردیا ( و اذقتلتم نفساََ فاد ارئتم فیھا واللہ مخرج ماکنتم تکتمون ) ۔پھر ہم نے کہا اس گائے کا ایک حصہ مقتول پر مارو ( تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے ( فقلنا اضربوہ ببعضھا ) 4 بیشک خدا اسی طرح مردون کو زندہ کرتا ہے ( کذٰلک یحی اللہ موتیٰ )۔
اور وہ تمہیں اپنی اس قسم کی آیات دکھاتا ہے تاکہ تم حقیقت کو پاسکو ( و یریکم آیاتہ لعلکم تعقلون )۔
زیر بحث آیات میں سے آخری میںبنی اسرائیل کی قساوت اور سنگدلی کو بیان کیا گیا ہے : ان تمام واقعات کے بعد اور اس قسم کے آیا ت و معجزات دیکھنے کے باوجود تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہیں اور اس سے بھی زیادہ( ثم قست قلوبکم من بعد ذٰلک فھی کا لحجارة او اشد قسوة ) کیونکہ کچھ پتھر تو ایسے ہیں جن میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور ان سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں ( و ان من الحجارة لما یتفجر منہ الانھار ) یا پھر بعض وہ ہیں جن میں شگاف پڑ جاتا ہے اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکنے لگتے ہیں ( و ان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء ) اور کبھی ان میں سے کچھ پتھر ( پہاڑ کی بلندی سے ) خوفِ خدا کے باعث گر پڑتے ہیں ( و ان منھا لما یھبط من خشیة اللہ ) لیکن تمہارے دل تو ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ ان سے علم و عواطف کا سر چشمہ مارتا ہے نہ محبت کے قطرات ٹپکتے ہیں اور نہ ہی یہ کبھی خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں ۔
آخر ی جملے میں ہے : جو کچھ تم انجام دے رہے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے ( و ما اللہ بغافل عما تعملون ) ۔
یہ در اصل اس گروہ بنی اسرائیل اور ان کے خطوط پر چلنے والے تمام لوگوں کے لئے تہدید ہے ۔
( ۱) زیادہ اور غیر مناسب سوالات :
اس میں شک نہیں کہ سوالات مشکلات کے حل کی کلید ہیں اور جہل و نادانی کو دور کرنے کا نسخہ ہیں لیکن ہر چیز کی طرح اگر یہ بھی حد سے تجاوز کر جائیں یا بے موقع کئے جائیں تو کجروی کی علامت ہیں اور نقصان دہ ہیں جیسے اس داستان میں ہم اس کو نمونہ دیکھ رہے ہیں ۔
بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ ایک گائے ذبح کریں ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر اس گائے کی قید یا خاص شرط ہوتی توخدا ئے حکیم و دانا جب انہیں حکم دے رہا تھا اسی وقت بیان کردیتا لہذا معلوم ہوا کہ اس حکم کو بجالانے کےلئے اور شرط نہ تھی اسی لئے لفظ ” بقرة “ اس مقام پر نکرہ کی شکل میں ہے لیکن وہ اس مسلمہ بنیاد سے بے پرواہ ہوکر طرح طرح کے سوالات کرنے لگے ۔ شاید وہ یہ چاہتے ہوں کہ حقیقت مشتبہ ہوجائے اورقا تل کا پتہ نہ چل سکے اور یہ اختلاف اسی طرح بنی ا سرائیل میں رہے ، اور قرآن کا یہ جملہ ” فذبحوھا وما کادو یفعلون “ بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی ” انہوں نے گائے ذبح کر تو دی لیکن وہ چاہتے نہ تھے کہ یہ کام انجام پائے “۔
اس داستان کے سلسلے کی آیت ۷۲ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک گروہ قاتل کو جانتا تھا اور اصل واقعے سے مطلع تھا ۔ شاید یہ قتل ان کے سوچنے سمجھنے منصوبے کے مطابق کیا گیا تھا کیونکہ اس آیت میں ہے ” واللہ مخرج ما کنتم تکتنون “ یعنی تم جسے چھپاتے ہو خدا اسے آشکار کردے گا “۔
ان سب سے قطع نظر ہٹ دھرم اور خواد پسند قسم کے لوگ باتیں بنایا کرتے ہیں اور زیادہ سولات کرتے ہیں اور ہر چیز کے لئے بہانہ سازی کیا کرتے ہیں ۔ قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ اصولی طور پر وہ خدا کے متعلق معرفت رکھتے تھے اور نہ ہی حضرت موسی ٰ کے مقام کو سمجھتے تھے اسی لئے تو ان سب سوالوں کے بعد یہ کہنے لگے ” اٰلان جئت بالحق “ یعنی اب تم حق بات لائے ہو گویا اس سے پہلے جو کچھ تھا باطل تھا ۔
بہر حال انہوں نے جتنے سوالات کئے خدا نے ان کی ذمہ داری کو اتنا ہی سخت تر کر دیا کیونکہ ایسے لوگ اسی قسم کے بدلے کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اسی لئے روایات میں ہے کہ جس مقام پرخدا نے خاموشی اختیار کی ہے وہاں پوچھ گچھ اور سوال نہ کرو کیونکہ اس میں ضرو ر کوئی حکمت ہوگی ۔ اسی بناء امام علی بن موسی ٰ الرضا سے روایت ہے:
اگر انہوں نے ابتداء ہی میں کوئی گائے منتخب کرلی ہوتی اور اسے ذبح کردیتے تو کافی تھا ۔
ولکن شدداوفشد اللہ علیھم
لیکن انہوں نے سختی کی تو خدا نے بھی سخت رویہ اختیار کیا ۔ 5
(۲) یہ تمام اوصاف کس لئے تھے :
جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں ابتداء میں بنی اسرائیل کی ذمہ داری مطلق تھی اور اس میں کوئی قید و شرط نہ تھی لیکن ان کی شدت اور ذمہ داری ادا کرنے میں پس و پیش نے ان کے لئے حکم کو بدل دیا اور زیادہ سخت ہوگیا 6
لیکن اس کے باوجود یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں جو شرائط اور قیود لگائی گئیں وہ انسانی برادری کی اجتماعی زندگی کی کسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوں ۔ گویا قرآن اس نکتے کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ کہ ایک ایسی حیات بخش صورت کی ضرورت ہے جو ذلول نہ ہو یعنی بلا شرط تسلیم ہو اور قید و شرط کی وجہ سے بوجھل ، اسیر اور زبردست نہ ہو اور یو نہی اس میں مختلف رنگ بھی نظر نہیں آنے چاہئیں بلکہ یک رنگ اور خالص ہو ۔
جو لوگ رہبری اور معاشرے کو زندہ کرنے کے لئے اٹھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مردہ افکار کو زندہ کیا جائے انہیں دوسروں کا مطیع نہیں ہونا چاہئے ۔ مال و ثروت ، فقر و تونگری ، طاقت اور افرادی قوت یہ چیز یں ان کے مقصد پر اثر انداز نہ ہوں ۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز ان کے دل میں جاگزیں نہ ہو ۔ وہ صرف حق کے لئے سرتسلیم خم کریں ۔ وہ دین و آئین کے پا بند ہوں ۔ ان کے وجود پر خدائی رنگ کے علا وہ کوئی رنگ اثر پزیر نہ ہو ۔ ایسے ہی لوگ اضطراب اور تشویش کے بغیر لوگوں کے کام آسکتے ہیں لیکن اگر دل دنیا کی طرف مائل ہو اور دنیا کا غلام ہو ۔ اس پر مادیت رنگ چڑھ گیا ہو اور اس رنگ کی وجہ سے وہ عیب دار ہوجائے تو ایسا شخص اس عیب اور نقص کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کرسکتا اور نہ حیات بخش صورت پیدا کرسکتا ہے۔
قتل کا سبب کیا تھا :
تواریخ ا ور تفاسیرسے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کا سبب مال تھا یا شادی ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک ثروت مند شخص تھا ۔ جس کے پاس بے پناہ دولت تھی ۔ اس د ولت کا وارث اس کے چچا زاد بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا ۔وہ دولت مند کافی عمر رسید ہ ہوچکا تھا ۔ اس کے چچا زاد بھائی نے بہت انتظار کیا کہ دنیا سے چلا جائے تاکہ اس کا وارث بن سکے لیکن اس کا انتظار بے نتیجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم کردینے کا تہیہ کرلیا اور بالآخر اسے تنہائی میں پاکر قتل کردیا اور اس کی لاش سڑک پر رکھ دی اور گریہ و زاری کرنے لگا اور حضرت موسیٰ کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا کہ بعض لوگوں نے میرے چچا زاد بھائی کو قتل کردیا ہے ۔
بعض دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ قتل کا سبب یہ تھا کہ اپنے چچا زاد بھائی کو قتل کرنے والے نے اس سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس نے یہ درخواست رد کردی اور لڑکی کو بنی اسرائیل کے ایک پاکباز جوان سے بیاہ دیا ۔ شکست خوردہ چچا زاد نے لڑکی کے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا اور چھپ کر اسے قتل کردیا ۔ اور حضرت موسی ٰ کے پاس شکایت لے کر آیا کہ اس کا چچا زاد بھائی قتل ہوگیا اور اس کے قاتل کو تلاش کیا جائے ۔
چونکہ قرآن کا طریق کار ہے کہ گذشتہ واقعات کو ہمہ گیر حیثیت سے اور قاعدہ کلیہ کے طور پر تربیتی نقطہ نظر سے بیان کرے لہذا ضمناََ یہ بھی ممکن ہے اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ مفاسدہ کا سر چشمہ اور قتل و غارت کی وجہ دو موضوعات ہوتے ہیں ایک ثروت و دولت اور دوسرا بے قید جنسی خواہشات ۔
(۴) اس داستان کے عبرت خیز نکات :
یہ عجیب داستان خدا کی ہر چیز پر لامتناہی قدرت کی دلیل کے علاوہ مسئلہ معاد پر بھی دلالت کرتی ہے ۔ اسی لئے آیہ ۷۳ میں ہے : ”کذٰلک یحی اللہ الموتیٰ “یعنی اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ یہ مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے ۔ ” ویریکم آیاتہ “ وہ اپنی آیات تمہیں دکھاتا ہے “ پروردگار کی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے علاوہ یہ آیت اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ اگر خدا کسی گروہ پر غضبناک ہوتا ہے تو ایسا بغیر وجہ اور دلیل کے نہیں ہوتا کیونکہ اس واقعے میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے سامنے جو باتیں کرتے تھے وہ نہ صرف حضرت کے ساتھ انتہائی جسارت آمیز سلوک تھا بلکہ خداتعالی کی مقدس بارگاہ کے لحاظ سے بھی بے ادبی اور جسارت تھی ۔
ابتداء میں کہتے ہیں ” کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو “ گویا خدا کے عظیم پیغمبر کو مذاق کا الزام دے رہے تھے ۔ بعض اوقات کہتے ” اپنے خدا سے خواہش کرو “ تو کیا موسیٰ کا خدا ان کے خدا کے علاوہ کوئی اور تھا ۔ جب کہ حضرت موسیٰ انہیں صراحت سے کہ چکے تھے کہ ” خدا نے تمہیں حکم دیا ہے “ ایک جگہ کہتے ہیں ” اگر اس سوال کا جواب دے دو تو ہم ہدایت حاصل کرلیں گے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا بیان نا مکمل اور گمراہی کا سبب ہے اور آخر میں کہتے ہیں ” اب حق بات لے آئے ہو ۔
یہ سب باتیں ان کی جہالت ، نادانی ، خود خواہی اور ہٹ دھرمی پر دلالت کرتی ہیں ۔
علاوہ از ایں یہ داستان ہمیں درس دیتی ہے کہ ہمیں سخت گیر نہیں ہونا چاہیئے تاکہ خدا بھی ہم پر سختی نہ کرے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ شاید گائے کو ذبح کرنے کے لئے اس سے منتخب کیا گیا ہو کہ بچی کھچی گاؤ پرستی اور بت پرستی کی فکر ان کے دماغ سے نکل جائے ۔
باپ سے نیکی
اس موقع پر مفسرین بیان کرتے ہیں کہ( اس قسم کی گائے اس علاقے میں ایک ہی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اسے بہت مہنگے داموں خریدا ۔ کہتے ہیں اس گائے کا مالک ایک انتہائی نیک آدمی تھا جو اپنے باپ کا بہت احترام کرتا تھا ۔ ایک دن جب اس کا باپ سویا ہوا تھا اسے ایک نہایت نفع بخش معاملہ پیش آیا ، صنداق کی چابی اس کے باپ کے پاس تھی لیکن اس خیال سے کہ تکلیف اور بے آرامی نہ ہو اس نے اسے بیدار نہ کیا لہذا اس معاملے سے صرف نظر کرلیا ۔ بعض مفسرین کے نزدیک بیچنے والا ایک جنس ستر ہزار میں اس شرط پر بیچنے کو تیار تھا کہ قیمت فوراََ ادا کی جائے اور قیمت کی ادائیگی اس بات پر موقوف تھی کہ خریدنے کے لئے اپنے باپ کو بیدار کرکے صندوقوں کی چابیاں اس سے حاصل کرے ۔وہ ستر ہزار میںخریدنے کو تیار رتھا لیکن کہتا تھا کہ قیمت باپ کے بیدار ہونے پر ہی دوں گا ۔خلاصہ یہ کہ سودا نہ ہوسکا ۔ خدا وند عالم نے اس نقصان اور کمی کو اس طرح پورا کیا کہ اس جوان کے لئے گائے کی فروخت کا یہ نفع بخش موقع فراہم کیا ۔
بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ باپ بیدار ہوا تو اسے واقعے سے آگاہی ہوئی ۔ اس نیکی کی وجہ سے اس نے وہ گائے اپنے بیٹے کو بخش دی اس طرح اسے وہ بے پناہ نفع میسر آیا ۱
تفسیر الثقلین ، ج اول ، ص ۸۸
رسول اسلام اس موقع پر فرماتے ہیں ۔
انظرو الی البر ما بلغ باھلہ
نیکی کو دیکھو وہ نیکو کاروں سے کیا کرتی ہے
۱ ۔ اس طرف توجہ ضروری ہے کہ موجودہ تورات کی فصل ۲۱ سفر تثنیہ میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ موجود ہے البتہ موجودہ تورات میں جو کچھ ہے وہ ایک حکم کی صورت میں ہے جب کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ ایک واقعے کی صورت میں ہے ۔ بہر حال فصل ۲۱ میں پہلے جملے سے لے کر نویں جملے تک کی عبادت کچھ یوں ہے : اگر کسی مقتول کو ایسی زمین میں جو خدا وندے عالم نے تجھے میراث دی ہے۔ صحرا میں پڑا دیکھو اور معلوم نہ ہوسکے کہ اس کا قاتل کون ہے ۔ اس وقت تیرے مشائخ اور قاضی باہر جاکر ان شہروں کے فاصلے کی پیمائش کریں جو مقتول کے ارد گرد ہیں اور وہی شہر مقرر ہے جو مقتول کے زیادہ قریب ہے ۔
اس شہر کے مشائخ ہی اس گائے کو درہ ناہموار میں ایسی جگہ لے جائیں جہاں کوئی کھیتی باڑی نہ ہوئی ہو ۔ وہی درہ کے دروازے پر گائے کی گردن کاٹ دیں ۔ بنی لیوی کے کاہن حضرات نزدیک آئیں ۔ خدا وند تیرے خدا نے انہیں منتخب کیا ہے تاکہ وہ اس کی خدمت کریں اور خدا کے نام کے ساتھ دعائے خیر کریں اور نزاع اور جھگڑے کا فییصلہ ان کے حکم کے مطابق ہو اور وہ شہر جو قتل کے نزدیک ہے اس کے تمام مشائخ اپنے ہاتھ اس گائے پر دھو ئیں جو درہ کے دروازے پر ذبح ہوئی ہے اور بآواز کہیں کہ یہ خون ہمارے ہاتھوں نے نہیں بہایا اور ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا ۔ اے خدا وند ! : اپنی قوم اسرائیل کو کہ جسے دوبارہ تو نے خرید کیا ہے بخش دے اور اپنی قوم اسرائیل کو ناحق سے منسوب نہ کر اور وہ خون ان کے لئے معاف ہوجائے ۔ اس طریقہ سے خون ناحق اپنے درمیان سے رفع کرے گا ۔ کیونکہ خدا وند کی نظر میں وہی درست ہے جسے تو عمل میں لائے گا ( عہد قدیم مطبوعہ ۱۸۷۸2۔ ” فارض “ کے متعلق راغب مفردات میں کہتا ہے کہ یہ سن رسید ہ گائے کے معنی میں ہے ۔ لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ایسی بوڑھی جس سے بچہ نہ ہو سکے اور ”عوان “ کا معنی ہے درمیانی ۔
3 ”فاقع “ کا معنی ہے خالص ، ایک جیسا زرد رنگ ۔
4 ۔ بقرة آیہ ۶۹ تا ۷۳ ،
5 المیزان زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔
6۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے نسخ حکم مصالح کے پیش نظر جائز ہے اور شریعت موسیٰ میں نسخ احکام ہوتا تھا ۔ یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ کبھی سخت حکم سزا کے لئے بھی ہوتا ہے ۔اس سلسلے کی دیگر بحثیں اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں ۔
7 ۔ تفسیر ابن کثیر ، ج اول