البقرة

أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ 77

شان ِنزول
بعض مفسرین مندرجہ بالا آخری دو آیات کے شان ِ نزول کے سلسلے میں امام باقر سے اس طرح نقل کرتے ہیں :
یہودیوں کے ایک گروہ کے لوگ جو حقیقت کے دشمن نہ تھے ۔ جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے تو جو تورات میں پیغمبر اسلام کی صفات کے متعلق آیا تھا انہیں سنادیتے تھے ۔ یہودیوں کے بڑے لوگ اس سے آگاہ ہوئے اور انہیں منع کیااور کہا کہ محمد کی وہ صفات جو تورات میں آئی ہیں تم انہیں ان کے سامنے بیان نہ کرو کہ کہیں خدا کے سامنے ان کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ بن جائیں ۔ یہ آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا گیا
تفسیر الثقلین ، ج اول ص ۸۸

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ان آیات میں خدا بنی اسرائیل کا واقعہ چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کر رہا ہے اور ایک سبق آموز نتیجہ پیش کرتا ہے ۔
کہتا ہے : تم کس طرح یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ قوم تم پر ( یعنی تمہارے دین کے احکامات پر ) ایمان لے آئے گی ۔ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ خدا کی باتیں سننے ، سمجھنے اور ادراک کرنے کے بعد ان میں تحریف کردیتا ہے ۔ جب کہ ان لوگوں کو علم و اطلاع بھی ہے ( افتطمعون ان یومنو ا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلٰم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ ھم یعلمون
اگر تم دیکھتے ہو کہ یہ قرآن کے زندہ بیانات اور پیغمبر اسلام کے اعجاز کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو اسے اہمیت نہ دو کیونکہ یہ انہی لوگوں کی اولاد ہیں جو قوم کے منتخب افراد کی حیثیت سے موسیٰ بن عمران کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے ، انہوں نے خدا کی باتیں سنی تھیں اور اس کے احکام کو سمجھا تھا لیکن ان میں سے بعض جب لوٹ کر آئے تو کلام ِ خدا میں تحریف کردی ۔
قد کان فریق منھم “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب تحریف کرنے والے نہ تھے ۔ پھر بھی یہ اس بات کے لئے کافی تعداد تھی کہ پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں کے عناد و دشمنی پر تعجب نہ کیا جائے ۔
اسباب النزول میں ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ جب کوہ طور سے واپس آیا تو لوگوں سے کہنے لگا کہ ہم نے خود سنا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہمارے فرامین کو جتنا بجالاسکتے ہو انجام دو اور جنہیں بجا نہیں لاسکتے انہیں چھوڑ دو ۔
بہر حال ابتداء میں یہ توقع بجا تھی کہ قوم یہود دوسرے سے پہلے اسلام کی آواز پر لبیک کہے گی کیونکہ ( مشرکین کے برخلاف ) وہ لوگ اہل کتاب تھے ۔ علاوہ از ایں انہوں نے رسول اسلام کی صفات بھی اپنی کتاب میں پڑھی تھیں لیکن قرآن کہتا ہے ان کے ماضی پر نظر کرتے ہوئے ان سے توقع کا محل نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی گروہ کی صفات اور مزاج کی کجروی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ حق سے انتہائی قرب کے باوجود اس سے دور رہے ۔
بعد کی اایت اس حیلہ گر اور منافق گروہ کے متعلق ایک اور حقیقت کی نقاب کشائی کرتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے : ان میں سے پاک دل لوگ جب مومنین سے ملاقات کرتے ہیں تو اظہار ایمان کرتے ہیں ( اور پیغمبر کی وہ صفات جو ان کی کتب میں موجود ہیں ان کی خبر دیتے ہیں ) ( و اذا لقوا لذین اٰمنوا قالوا اٰمنا ) لیکن علیحدگی اور خلوت میں ان سے ایک گروہ کہتا ہے تم ان مطالب کو جو خدا نے تورات میں تمہارے لئے بیان کئے ہیں مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو ( و اذا خلا بعضھم الی بعض قالوا اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم )کہ کہیں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہارے خلاف ان سے استدلال کریں ، کیا تم یہ سمجھتے نہیں ( لیحاجوکم بہ عند ربکم ط افلا تعقلون
اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کی ابتداء یہودی منافقین کے سلسلے میں گفتگو کر رہی ہو ، جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا دم بھرتے ہیں اور تنہائی میں انکا ر کردیتے ہیں یہاں تک کہ یہودیوں میں سے پاک دل لوگوں کو بھی سر زنش کرتے ہیں کہ تم نے کتب مقدس کے اسرار سے مسلمانوں کو کیوں آگاہ کیا ہے ۔
بہر حال یہ پہلی آیت کے بیان کی تائید کرتی ہے یعنی جس گروہ کے ذہنوں پر ایسے خیالات کا قبضہ ہے ان سے ایمان کی اتنی توقع نہ رکھا کرو۔
فتح اللہ علیکم “ سے مراد ممکن ہے خدا کا وہ فرمان و حکم ہو جو بنی اسرائیل کے پاس تھا اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کے لئے نئی شریعت سے متعلق خبروں کے دروازں کے کھلنے کی طرف اشارہ ہو ۔
اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اس منافق گروہ کا اللہ کے بارے میں ایمان اس قدر کمزور تھا کہ وہ اسے ایک مادی انسان کی طرح سمجھتے تھے اور تصور کرتے تھے کہ اگر کوئی حقیقت مسلمانوں سے چھپالیں تو وہ خدا سے بھی چھپی رہے گی لہذا بعد کی اایت صراحت سے کہتی ہے : کیا یہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے ( ولا یعلمون ان اللہ یعلم مایسرون وما یعلنون ) ۔


۱۔ مجمع البیان میں زیر نظر آیت کے ذیل میں اجمالی طور پر یہ شان نزول بیان کی گئی ہے اور تفصیلی طور پر دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں بیان کی گئی ہے ۔