البقرة

بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ 81

بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے

اس مقام پر قرآن یہودیوں کے بے بنیاد دعووں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے مغرور کر رکھا تھا اور جو ان کی کجرویوں کا سر چشمہ تھا ۔ قرآن نے یہاں اس کا جواب دیا ہے ۔
پہلے فرماتا ہے : وہ کہتے ہیں جہنم کی آگ چند روز کے سوا ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی ( وقالو ا لن تمسناالنار الا ایاما معدودة  ) ۔
کہیئے : کیا خدا نے تم سے کوئی عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ خدا جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا یا پھر بغیر جانے کسی چیز کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو ( قل اتخذتم عند اللہ عھدا فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون ) ۔ملت یہود کو اپنے بارے میں نسلی برتری کا زعم تھا اور یہ قوم سمجھتی تھی کہ جو وہ ہے وہی ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں سے جو گنہگار ہیں انہیں فقط چند دن عذاب ہوگا اس کے بعد انہیں ہمیشہ کی جنت ملے گی ۔ یہ ان کی خود خواہی و خود پرستی کی واضح دلیل ہے ۔
یہ امتیاز طلبی کسی بھی منطق کی رو سے روا نہیں اور بارگاہ الہٰی میں اعمال پر جزا و سزا کے سلسلے میں تما م انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ یہودیوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا جس کی بنا ء پر ان کے لئے جزا وسزا کے کلی قانون میں استثناء ہوجائے ۔بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک منطقی بیان کے ذریعہ اس غلط خیال کو باطل کردیتی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : تمہاری یہ گفتگو دو صورتوں میں سے ایک کی مظہر ہے یا تو اس سلسلے میں خدا کی طرف سے کوئی خاص عہد وپیمان ہوا ہے جب کہ ایسا پیمان تم سے ہوا نہیں یا پھر تم جھوٹ بولتے ہو اور خدا پر تہمت لگاتے ہو ۔
بعد کی اایت ایک کلی و عمومی قانون بیان کرتی ہے جو ہر لحاظ سے عقلی و منطقی بھی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ہاں وہ لوگ جو کسب گناہ کریں اور آثار گناہ ان کے سارے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ( بلی من کسب سیئة و احاطت بہ خطیئتہ فا ٰوٰلئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون ) ۔ یہ ایک کلی قانون ہے کسی قوم وملت اور کسی گروہ و جمعیت کے گنہگار وں میں اور دیگر انسانوں میں موجود گنہ گاروں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔رہے پرہیز گار مومنین تو ان کے بارے میں بھی ایک کلی قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے ۔ وہ اہل بہشت ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ وہیں رہیں گے (و الذین اٰمنو ا وعملواالصالحات اوٰ لئک اصحٰب الجنة ھم فیھا خٰلدون

(۱) غلط کمائی :

کسب اور اکتساب کا معنی ہے جان بوجھ کر ، اپنے اختیار سے کوئی چیز حاصل کرنا ۔ اس لحاظ سے” بلی من کسب سیئة “ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو علم ، ارادہ اور اختیار سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور ” کسب “ شاید اس لئے ہے کہ سر سری نظر میں گنہ گار گناہ کو اپنے نفع میں اور اس کے ترک کرنے کو اپنے نقصان میں سمجھتا ہے ۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں چند آیات کے بعد اشارہ ہوگا جہاں فرمایا گیا ہے :
انہوں نے آخرت کو اس دینا کی زندگی کے لئے بیچ ڈالا اور ان کی سزا میں کسی قسم کی تخفیف نہیں ہے ۔

 آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے :

 لفظ خطیئہ بہت سے مواقع پر ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر سرزد نہ ہوئے ہوں لیکن محل بحث آیت میں گناہ کبیرہ کے معنی میں آیا ۱ ہے یا اس سے مراد ہے اثار گناہ ۲ جو انسان کے دل و جان پر مسلط ہوجاتے ہیں ۔
بہر حال احاطہ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس قدر گناہوں میں ڈوب جائے کہ اپنے لئے ایک ایسا قید خانہ بنالے جس کے سوراخ بند ہوں ۔
اس کی توضیح یوں ہے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ابتدا ء میں ایک عمل ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک حالت و کیفیت میں بدل جاتا ہے اس کا دوام و تسلسل ملکہ و عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب وہ شدید ترین ہوجاتا ہے تو انسان کا وجود گناہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ یہ وہ حالت ہے جب کسی قسم کا پند و نصیحت ، موعظہ اور رہنماؤں کی رہنمائی اس کے وجود پر اثر انداز نہیں ہوتی اور حقیقت میں اپنے ہاتھوں اپنی یہ حالت بناتا ہے ۔ ایسے اشخاص ان کیڑوں کی مانند ہیں جو اپنے گرد جال تن لیتے ہیں جو انہیں قیدی بنا کر بالآخر ان کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔
واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہمیشہ جہنم میں رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔
کچھ آیات ہیں جن کے مطابق خدا صرف مشرکین کو نہیں بخشے گا لیکن غیر مشرک قابل بخشش ہیں مثلاََ :
ان اللہ لا یغفران یشرک بہ و یغفر مادون ذٰلک لمن یشاٰء  نساء ۔ ۴۸
ایسی آیا ت اور زیر بحث آیات جن میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کا تذکرہ ہے اگر ان دونوں طرح کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسطرح کے گنہگار آخر کار گوہر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وہ مشرک و بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں ۔

 نسل پرستی کی ممانعت :

زیر بحث آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کی روح جو آج کی دنیا میں بھی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ ہے اس زمانے میں یہودیوں میں موجود تھی اور وہ اپنے لئے بہت سے خیالی امتیازات کے قائل تھے ۔ کتنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی سال گذرنے کے باوجود ابھی تک یہ نفسیاتی بیماری ان میں موجود ہے اور در حقیقت غاصب اسرائیلی حکومت کی پیدائش کا سبب بھی یہی نسل پرستی ہے ۔
یہودی نہ صرف دنیا میں اپنی برتری کے قائل ہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ نسل امتیاز آخرت میں بھی ان کی مددکرے گا اور ان کے گنہگار لوگ دوسری قوموں کے گنہ گاروں کے بر عکس صرف تھوڑی سی مدت کے لئے خفیف سی سزا پائیں گے ۔
انہی غلط خیالات نے انہی طرح طرح کے جرائم ، بد بختیوں اور سیہ کاریوں میں مبتلا کیے رکھا ہے ۔ 3


۱ ۔ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی ، آیہ کے ذیل میں ۔
۲۔ تفسیر المیزان ، آیہ مذکورہ کے زیل میں ۔
3 سورہ نساء آیہ ۱۳۲ کے ذیل میں بھی چھوٹے امتیا زات کی بحث تفسیر نمونہ جلد ۲ میں آئے گی ۔