البقرة

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ 86

عہد و پیمان کا ذکر

گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کا ذکر تو کہیں آیاہے لیکن اس بارے میں تفصیل بیان نہیں ہوئی لیکن محل بحث آیت میں اس عہد و پیمان کی شقوں کا ذکر کیا گیاہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تمام کی تمام ان امور میں سے ہیں جنہیں ادیان الہی کے ثابت شدہ احکام کا نام دینا چاہئے کیونکہ تمام آسمانی ادیان میں یہ پیمان اورا حکام موجود ہیں۔ ان آیات میں قرآن یہودیوں کو شدید سرزنش کررہاہے کہ تم نے اس پیمان کو کیوں توڑدیا۔ قرآن انہیں یہ پیمان توڑنے کی پاداش میں اس جہان کی رسوائی اور اس جہان کے شدید عذاب سے ڈرا رہاہے۔

یہ پیمان جس کے بنی اسرائیل خود شاہد تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے ان امور پر مشتمل ہے۔

۱۔ اس وقت کو یاد کر و جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدائے یکتا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور کسی بت کے سامنے سر تعظیم نہیں  جھکاؤگے ( و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ

۲۔ ماں باپ سے نیکی کروگے (وبالوالدین احسانا

۳۔ اپنے رشتہ داروں یتیموں اور مدد طلب کرنے والے محتاجوں سے بھی نیکی کروگے ( و ذی القربی و الیتمی و المساکین

۴۔ اجتماعی طور پر لوگوں کے ساتھ تمہارا سلوک اچھا ہوگا اور لوگوں سے  اچھے پیرائے میں بات کروگے (و قولوا للناس حسنا

۵۔ نماز قائم کروگے اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہوگے (و اقیموا الصلاة

۶۔ زکوة ادا کرنے اور محروم لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کروگے( واتوالزکوة)۔

لیکن تم میں سے مختصر سے گروہ کے علاوہ سب نے اپنے عہد سے منہ ہوڑلیا اور اپنے پیمان کو ایفا کرنے سے روگردانی کی (ثم تولیقم الا قلیلا منکم و انتم معرضون

۷۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم سے ہم نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کاخون نہیںبہاؤگے (و اخذنا میثاقکم اد تسفکون دماء کم

۸۔ ایک دوسرے کو اپنی بستیوں سے باہر نہیں نکا لوگے ( و لا تخرجون انفسکم من دیارکم

۹۔ اگر کوئی شخص تم میں سے جنگ کے دوران قید ہوجائے تو سب اس کی آزادی کے لئے مدد کروگے فدیہ دو گے اور اسے آزاد کراؤگے (پیمان کا یہ مفہوم)   (افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض) سے حاصل کیا گیاہے جو بعد میں آئے گا)۔

پھر تم نے ان سب شرائط کا اقرار کیا اور اس پیمان پر خود گواہ ہوئے (ثم اقررتم و انتم تشہدون

لیکن تم نے ان میں سے بہت ہی شرائط کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ تم وہی تھے جو ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ان کی زمین سے نکال دیتے تھے (ثم انتم ھولاء تقتلون انفسکم و تخرجون ) اور تعجب کی بات یہ کہ فدیہ دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں تم تورات کے حکم اور پیمان الہی سے سند حاصل کرتے تھے۔ کیا کتاب الہی کے بعض احکامات پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر اختیار کرتے  ہو  ( َفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ)یہ جو تم احکام الہی میں تبعیض و تفریق ر وا سمجھے ہو اس کی جزا  اس جہا ن کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ( فَمَا جَزَاءُ (۱)مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا)اور قیامت کے دن ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف پلٹیں گے (یوم القیامة یردون الی اشد العذاب ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کی کلیات و جزئیات کو بڑی باریکی سے شمار کیا ہے اور اس کے مطابق تمہیں بدلادے گا۔

محل بحث آیت کے آخر میں ان کے ان اعمال کا اصلی سبب بیان کیاہے جو خلاف حقیقت ہیں۔ فرمایا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی ہے (اولئک الذین اشتروا الحیوہ الدنیا بالاخرہ) اسی بنا ء پر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی اور کوئی ان کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوگا(فَلاَیُخَفَّفُ عَنْہُمْ الْعَذَابُ وَلاَہُمْ یُنصَرُونَ(

آیات کا تاریخی پر منظر: 

 جیسا کہ مفسرین نے نقل کیاہے بنی قریظہ اور بنی نضیر جو یہود یوں کے دو گروہ تھے۔ ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی تا ہم دنیاوی منافع کی خاطر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے تھے۔ بنی نضیر، قبیلہ خزرج سے مل گئے تھے۔ جو مدینہ کے مشرکین کا قبیلہ تھا اور بنو قریظہ اوس کے ساتھ مل گئے تھے۔

ان دو قبیلوں کے در میان جو جنگیںہوتی تھیں ہر گروہ اپنے ہم پیمان قبیلے کی مدد کرتاتھا اور اس طرح دوسرے گروہ کے خلاف لڑتا اور جب جنگ کی آگ سرد پڑجاتی تو تمام یہودی جمع ہوجاتے اور ایک دوسرے سے اتحاد کرتے تا کہ فدیہ ادا کرے اپنے قیدیوں کو آزاد کرا لیں۔ اس عمل میں وہ تورات کے حکم اور قانون کو سند مانتے حالانکہ اوس و خزرج دونوں مشرک تھے اولا ان کی مدد کرناہی جائز نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہی قانون جو فتنہ کا حکم دیتاہے قتل کرنے سے بھی رد کتاہے ۔ یہودی دیگر ہٹ دھرم اور نادان قوموں کی طرح ایسے بہت سے اعمال انجام دیتے تھے جو ایک دوسرے کے ضد تھے۔

    قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام :

 یہ آیات اگرچہ بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو ہم ایسے کلی قوانین کے حامل ہیں جو تمام دنیا کی قوموں کے لئے ہیں۔ قوموں کی زندگی ، بقا ، کامیابی اور شکست کے عوامل ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ہر ملت کے بقا اور سربلندی اس میں ہے کہ وہ اپنا سہارا خدا کو قرار دے جو سب سے بڑی طاقت و قوت ہے اور ہر حالت میں اس سے مدد لے یہ ایسی قدرت پر بھر و سہ ہوگا جس کے لئے فنا ء و زوال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف اسی کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔ اس طرح انہیں کسی کا خوف اور وحشت نہ ہوگی۔ ظاہر ہے ایسی قدرت و طاقت عظیم خالق کائنات کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی ایسا سہارا فقط خدا ہے (َ لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ الله)

دوسری طرف قوموں کی بقاء اور ہمیشگی کے لئے افراد ملت کے ما بین خصوصی وابستگی ضروری ہے ، ایسا یوں ممکن ہے کہ ہر شخص اپنے ماں باپ سے جن زیادہ قریب کی وابستگی ہے، عزیز و اقارب سے جو وابستگی کے اعتبار سے ایک فاصلے پرہیں اور پھر معاشرے کے تمام افراد سے نیکی اور اچھائی کے ساتھ پیش آئے تا کہ سب ایک دوسرے کے دست و بازوبنیں ( وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی  وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا (

قوم کے کمزور و ناتواں افراد کی تقویت روحانی اور مادی طور پر اس ہمیشگی میں کافی حصہ رکھتی ہے اور اس طرح دشمن کے لئے کوئی کمزور جگہ باقی نہیں رہتی اور قوم میں کوئی فرد مشکلات اور سختی میں نہیں رہتا کہ وہ ان مشکلات کے نتیجے میں اپنے آپ کو دشمن کے دامن میں جا گرائے ( وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِین(

ہر قوم کے زندہ رہنے کے لئے مالی و اقتصادی بنیاد کا استحکام بھی بڑا حصہ ادا کرتاہے جو زکوة کی ادائیگی سے انجام پذیر ہوتاہے )َ وَآتُوا الزَّکَاة)

ایک طرف کامیابی کے لئے یہ امور ہیں اور دوسری طرف قوموں کی شکست اور بربادی کا راز اس وابستگی کے ٹوٹ جانے اور کشمکشوں اور اندرونی جنگ شروع ہونے میں ہے۔ وہ قوم جس میں داخلی جنگ شروع ہوجائے اور تفرقہ بازی کا پتھر اس میں پھینک دیاجائے، اس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں، ایک دوسرے کے مال اور زمین پر قبضہ جمانے پر تل جائیں ،۔


 

۱۔ جملہ (ما جزا) میں لفظ (ما) ممکن ہے نافیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ استفہامیہ ہو لیکن نتیجے کے طور پر ہر دو طرح سے کوئی فرق نہیں۔