البقرة

وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَل لَّعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ 88

       قرآن کہتاہے:

ان آیات کے مخاطب تو بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ اپنے مفاہیم اور معیار کے اعتبار سے عمومیت کی حامل ہیں۔ اور دوسرے تمام لوگ بھی اس خطاب کا مصداق ہیں۔

قرآن کہتاہے: ہم نے موسی کو آسمانی کتاب  (تورات) دی ( و لقد اتینا موسی الکتاب) اور پھر مسلسل یکے بعد دیگرے انبیاء بھیجے ( وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِہِ بِالرُّسُل) ان پیغمبروں میں داود، سلیمان ، یوشع، زکریا اور یحیی شامل ہیں۔

اور عیسی بن مریم کو روشن دلائل دئیے اور روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کی  (ِ وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاٴَیَّدْنَاہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ

لیکن ان عظیم مرسلین نے ان اصلاحی پروگراموں کے با وجود جب بھی کوئی بات تمہارے خواہش نفس کے خلاف کہی تو تم نے ان کے مقابلے میں تکبر اختیار کیا اور تم نے ان کی فرمانبرداری نہیں کی (ِ اٴَفَکُلَّمَا جَائَکُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَتَہْوَی اٴَنفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُم(

یہ ہوا و ہوس کی حاکمیت تم پراس قدر غالب تھی کہ ان مرسلین میں سے کچھ کی تم نے تکذیب کی اور کچھ کو تو قتل ہی کردیا (ْ فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیقًا تَقْتُلُونَ

اگر تمہاری طرف سے یہ تکذیب اور جھٹلانا موثر ثابت ہوتا اور تمہارا مقصد اسی سے پورا ہوجاتا تو تم اسی پر اکتفاء کر لیتے اور خدا کے پیغمبروں کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگتے۔

گذشتہ آیات کی تفسیر میں (احکام الہی میں تبعیض کے ذیل میں ہم یہ حقیقت بیان کرچکے ہیں کہ ایمان کا معیار اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مواقع تو وہ ہیں جو میلان طبع اور خواہش نفس کے خلاف ہوں ورنہ تو ہر ہوا پرست اور بے ایمان بھی ان احکام کے سامنے ہم آہنگی اور تسلیم کا مظاہرہ کرتاہے جو اس کے میلان طبع اور فائدے کے مطابق ہیں۔

اس آیت سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتاہے کہ رہبران الہی اپنی تبلیغ رسالت کی راہ میں ہوا پرستوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے کیونکہ صحیح رہبری اس کے علاوہ کچھ اور ہی  نہیں اگر پیغمبر چاہیں کہ خود کو لوگوں کی آزادانہ ہوا و ہوس کے مطابق چلائیں تو پھر ان کا کام کے پیچھے لگنا ہوا نہ کہ رہبری کرنا۔

دل کے اندھے، بے ایمان لوگ ان خدائی رہبروں کی دعوت جس کا مقصد سعادت بشر کے علاوہ کچھ نہ تھا کا استقبال کرنے کہ بجائے اس قدر مزاحمت کرتے تھے کہ ان میں سے بعض کو قتل ہی کردیتے تھے۔

بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ لوگ دعوت انبیاء یا آپ کی دعوت کے جواب میں تمسخر اور مذاق کے طور پر کہتے ہیں ہمارے دل تو غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ان باتوں میں سے کچھ سمجھ نہیں پاتے  (وقالو قلوبنا غلف)

اور ہے ایسا ہی۔ کیونکہ خدانے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ا ور اسی بناء پردہ کسی بات کو سمجھ نہیں پاتے) اور ان میں بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں ( بَلْ لَعَنَہُمْ اللهُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیلًا مَا یُؤْمِنُون

ہوسکتاہے کہ اوپر والا جملہ ان یہودیوں کے بارے میں ہوجنہوں نے پیغمبران خدا کی تکذیب کی اانہیں قتل کیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان یہودیوں کے متعلق ہو جو پیغمبر خدا کے ہم عصر تھے۔

 آنحضرت کی گفتگو کے جواب میں وہ انتہائی ڈھٹالی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تا ہم یہ آیت ہر صورت میں اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان ہوا و ہوس کی پیروی کے زیر اثر اس طرح راندہ درگاہ خدا ہوجاتاہے اور اس کے دل پر ایسے پردے پڑجاتے ہیں کہ اس راستے میں اسے حقیقت بہت کم نظر آتی ہے۔

   مختلف زمانوں میں انبیاء کی پے در پے آمد:

 جیسا کہ کہا جاچکاہے جب ہواپرست اور بے ایمان لوگ انبیاء کی دعوت کو اپنی ہوا و ہوس اور نا جائز منافع ہم آہنگ نہیں پاتے تھے توان کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے خصوصا لوگ کچھ زمانہ گذرجانے کے بعد ان کی تعلیمات کو طاق نسیاں کردیتے۔ اس بناء پر ضروری تھا کہ یاد ہانی کے لئے خدا کی جانب سے یکے بعد دیگرے مرسلین آتے رہیں تا کہ ان کا مکتب اور پیغام پر انانہ ہونے پائے اور وہ دست فراموشی کے حوالے نہ ہوجائے۔

سورہ مومنوں آیہ ۴۴ میں ہے:

ثُمَّ اٴَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَی کُلَّ مَا جَاءَ اٴُمَّةً رَسُولُہَا کَذَّبُوہُ فَاٴَتْبَعْنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا)

پھرہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول کسی امت کے پاس آتا تو لوگ اس کی تکذیب کرتے (لیکن) ہم تو انہیں یکے بعد دیگرے بھیتے ہی رہتے تھے۔

نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں جہاں انبیاء کے بھیجنے کی غرض و غایت کی تشریح کی گئی ہے وہاں اس حقیقت کا تکرار کیا گیاہے:(فبعث فیہم رسلہ و واتر الیہم انبیائہ لیستا دوہم میثاق فطرتہ و یذکروہم منسی نعمتہ و یحتجوا علیہم بالتبلیغ و یثیروالہم و فائن العقول)۔

خدانے اپنے رسولوں کو ان کے طرف مبعوث کیا اور اپنے انبیاء کو ان کی طرف بھیجا تا کہ وہ لوگوں سے ان کے فطری عہد و پیمان کی ادائیگی کا مطالبہ کریں اور انہیں خدا کی فراموش شدہ نعمتیں یاد دلائیں اور انبیاء تبلیغات کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت کریں اور تا کہ عقول کے مخفی خزانے ان کی تعلیمات کے ذریعے آشکار ہوں۔

لہذا مختلف زمانوں اور صدیوں میں انبیاء خدا کے آنے کا مقصد خداکی نعمتوں کی یاددہانی کران پیمان فطرت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا اور گذشتہ انبیاء کی تبلیغات اور دعوتوں کی تجدید کرنا تھاتا کہ ان کی دعوتیں اور ان کے اصلاحی پروگرام متروک کے ذریعے آشکار ہوں۔

لہذا مختلف زمانوں اور صدیوں میں انبیاء خدا کے آنے کا مقصد خداکی نعمتوں کی یاد دہانی کرانا  پیمان فطرت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا اور گذشتہ انبیاء کی تبلیغات اور دعوتوں کی تجدید کرناتھا تا کہ ان کی دعوتیں اور ان کے اصلاحی پروگرام متروک اور فراموش نہ ہوجائیں۔

رہا یہ مسئلہ کہ پیغمبر اسلام کیونکہ خاتم انبیاء ہیں اور ان کے بعد نبی کی کیوں ضرورت نہیں تو اس پر انشاء اللہ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں بحث ہوگی۔

روح القدس کیاہے؟:

 بزرگ مفسرین روح القدس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کرتے ہیں ۔ ہم یہاں چند ایک درج کرتے ہیں:

۱۔   بعض کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد جبرائیل ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ خدانے جبرائیل کے ذریعے حضرت عیسی کی مدد کی۔

اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ ہے:

(قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق)

کہیئے ! روح القدس نے اسے تم پرحقیقت کے ساتھ نازل کیا۔

رہا یہ سوال کہ جبرائیل کو روح القدس کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں روحانیت کا پہلو چونکہ غالب ہے لہذا ان پر روح کا اطلاق بالکل طبیعی اور فطری ہے اور قدس اس فرشتے کے بہت زیادہ تقدس اور پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے۔

۲۔   کچھ دوسرے مفسرین کا عقیدہ ہے کہ روح القدس وہی ایک غیبی طاقت ہے جو حضرت عیسی کی تائید کرتی تھی اور اس مخفی خدائی طاقت سے وہ مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرتے تھے البتہ یہ غیبی طاقت ضعیف تر صورت میں تمام مومنین میں درجات ایمان کے تفاوت کے حساب سے موجود ہے۔ اور یہ وہی خدائی امداد ہے جو انسان کو اطاعات اور مشکل کاموں کی انجام دہی میںمدد  دیتی ہے اور گناہوں سے باز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث میں ایک شاعر اہلبیت کے بارے میں ہے کہ جب وہ امام کے سامنے اشعار پڑھ چکاتو آپ نے فرمایا:

انما  نفث روح القدس علی لسانک

روح القدس نے تیری زبان پر دم کیاہے اور جو کچھ تونے کہاہے اسی کی مدد سے ہے

۳۔ بعض مفسرین نے روح القدس کا معنی انجیل بیان کیاہے۔

ان میں سے پہلی دو تفاسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں۔

  روح القدس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ :

 قاموس کتاب مقدس میں ہے:

روح القدس تیسرا القنوم۔ اقانیم ثلاثہ الہیہ میں سے شمار ہوتا ہے اور اسے روح کہتے ہیں کیونکہ وہ مبدع اور مخترع حیات ہے اور مقدس اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے مخصوص کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مومنین کے دلوں کی تقدیس کرتاہے۔ حضرت مسیح اور خداسے اسے جو وابستگی ہے اس بناء پر اسے روح اللہ اور روح المسیح بھی کہتے ہیں۔

اس کتاب میں ایک اور احتمال بھی آیاہے اور وہ یہ ہے:

وہ روح القدس جو ہمیں تسلی دیتاہے ۔ وہ وہی ہے جو ہمیشہ ہمیں سچائی، ایمان اور اطاعت کے قبول و ادراک کی ترغیب دیتاہے اور وہی ہے جو گناہ و خطاء میں مرجانے والے لوگوں کو زندہ کرتاہے اور انہیں پاک و منزہ کرکے حضرت واجب الوجود کی عظمت و بزرگی کے لائق بناتاہے۔

جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اس کتاب مقدس قاموس کی عبارت میں دو معانی کی طرف اشارہ ہواہے:

(۱)    ایک یہ کہ روح القدس تین خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ عقیدہ تثلیث کے مطابق ہے اور یہ وہ مشرکانہ عقیدہ ہے جسے ہم ہر لحاظ مردود سمجھتے ہیں۔

(۲)  دوسرا     مفہوم اوپر بیان کی گئیں تین تفاسیر میں سے دوسری سے ملتا جلتاہے۔

) بے خبر اور غلاف میں لپٹے دل:

 مدینہ کے یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغات کا پوری کوشش سے مقابلہ کرتے اور آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے اور جب بھی آپ کے بار دعوت سے بچنے کا کوئی بہا نہ ملتا اس سے پورا فائدہ اٹھاتے اس آیت میں ان کی ایک گفتگو کی طرف اشارہ کیاگیاہے وہ کہتے تھے ہمارے دل پردے اور غلاف میں لپٹے ہیں۔ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ بات وہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے لیکن قرآن کہتاہے: بات یہی ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں کیونکہ کفر و نفاق کے باعث ان کے دل بے خبری، ظلمت، گناہ اور کفر کے پردوں میں لپیٹے جاچکے ہیں اور خدانے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیاہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت کم ایمان لاتے ہیں۔

سورہ نساء آیہ ۱۵۵ میں بھی یہی مفہوم مذکور ہے:

وَقَوْلِہِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا

اور ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہیں اس لئے تمہاری بات سمجھ نہیں پاتے لیکن یہ تو اس بناء پرہے کہ خدانے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہذا ان میں سے چند ایک کے علاوہ ایمان نہیں لائیں گے۔