البقرة

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ أَن يَكْفُرُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَن يُنَزِّلَ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ ۚ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ 90

شان نزول

زیر نظر آیت کے بارے میں امام صادق(ع) سے روایت ہے:

یہودیوں نے اپنی کتب میں دیکھ رکھاتھا کہ پیغمبر اسلام کا مقام ہجرت (عیر) اور احد کی پہاڑیوں کے در میان ہوگا۔ (یہ دونوں پہاڑ مدینہ کے ا ردگردہیں) یہودی اپنے علاقے چھوڑ کر رسول کی ہجرت کی سرزمین کی تلاش میں نکلے اس دوران وہ (حداد) نامی پہاڑ تک پہنچے اور کہنے لگے (حداد)یہی احد  ہے۔ وہیں سے وہ منتشر ہوگئے۔ ہر گروہ نے ایک جگہ کو اپنا مسکن بنالیا۔ کچھ سرزمین (تیما) ہیں جابسے بعض (فدک) میں قیام پذیر ہوئے اور  کچھ (خیبر)میں رہنے لگے۔ (کچھ مدت بعد) تیما کے رہنے والوں نے اپنے دوسرے بھائیوں سے ملنا چاہا۔ اس اثنا میں ایک عرب وہاں سے گذرا۔ اس سے انہوں نے سواریاں کرائے پرلیں۔ عرب کہنے لگا میں تمہیں (عیر) اور (احد) کی پہاڑیوں میں سے لے جاوں گا۔ اس سے کہنے لگے جب ان دو پہاڑوں کے در میان پہنچو تو ہمیں آگاہ کرنا۔ وہ عرب جب سرزمین مدینہ میں پہنچا تو اس نے انہیں بتایا کہ یہ جگہ ہی کوہ عیر اور کوہ احد کے در میان ہے۔ پھر اس نے اشارے سے بتایا کہ یہ (عیر) ہے اور یہ (احد) ہے۔ یہودی اس کی سواریوں سے اتر پڑے اور کہنے لگے ہم اپنے مقصد تک آپہنچے ہیں۔ اب ہمیں تیری سواریوں کی ضرورت نہیں، اب تو جہاں جانا چاہے جاسکتاہے۔

اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کو خط لکھا کہ ہم نے وہ زمین تلاش کرلی ہے تم بھی ہماری طرح کوچ کرو۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم چونکہ یہاں سکونت اختیار کرچکے ہیں۔ گھربار اور مال و منال کا اہتمام کرچکے ہیں اور یہاں سے اس سرزمین کا کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں۔ جس وقت پیغمبر موعود ہجرت کرکے آئیں گے ہم بھی تمہارے پاس آجائیں گے۔

وہ سرزمین مدینہ ہی میں رہے اور بہت مال و دولت جمع کرلی یہ خبر (تبع) نامی ایک بادشاہ کو پہنچی۔ اس نے آکر ان سے جنگ کی یہودی اپنے قلعوں میں قلوبند ہوگئے۔اس نے ان سب کا محاصرہ کرلیا۔ پھر نہیں امان دے دی۔ وہ بادشاہ کے پاس آئے۔ (تبع) نے کہا مجھے یہ سرزمین پسند آئی ہے اور میں یہاں رہنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے جواب میں کہا:  ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سرزمین ایک پیغمبر کا مقام ہجرت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص بادشاہ کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا۔ تبع کہنے لگا کہ میں اپنے خاندان میں سے کچھ لوگ یہاں چھوڑدیتاہوں تا کہ جب وہ پیغمبر آئے یہ اس کی مدد کریں۔ لہذا اس نے دو مشہور قبائل (اوس) اور (خزرج) کو یہاں ٹھرا دیا۔ جب ان قبیلوں نے خوب مال و دولت جمع کرلیا۔ تو یہودیوں کے مال پرتجاوز کرنے لگے۔ یہودی ان سے کہا کرتے تھے جب محمد مبعوث ہوں گے تو تمیں ہمارے علاقے سے نکال دیں گے۔

جب حضرت محمد مبعوث ہوئے تو اوس اور خزرج آپ پر ایمان لے آئے جو انصار مشہور ہوئے مگر یہودیوں نے آپ  کا  انکار کیا۔ آیت ( وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا)  کا یہی مفہوم ہے۔

وہی لوگ جو خاص عشق و محبت کی وجہ سے ، رسول اللہ پرایمان لانے کے لئے آئے تھے جو اوس و خزرج کے مقابلے میںفخر کرتے تھے کہ ایک رسول مبعوث ہوگا اور ہم اس کے یار و مددگار ہوں گے۔ جب رسول اللہ کی ہجرت ہوئی اور آپ نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، وہی قرآن جو تورات کی تصدیق کرتاتھا، تو وہ اس سے کفر کرنے لگے

 ان آیات میں بھی یہودیوں اور

ان آیات میں بھی یہودیوں اور ان کی زندگی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے یہ لوگ رسول خدا پر ایمان لانے کے شوق اور دل بستگی کے ساتھ مدینہ میں آکر سکونت پذیر ہوئے تھے۔ تورات میں پیغمبر کی نشانیوں کو دیکھتے تھے اور بے چینی سے آپ کے ظہور کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن جب خدا کیطرف سے ان کے پاس کتاب (قرآن) آئی جو ان علامتوں کے مطابق تھی جو یہودیوں کے پاس تھیں حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس پیغمبر کے ظہور کی خوشخبری دیتے تھے اور پیغمبر کے ظہور کے ذریعے دشمنوں پر فتح پانے کے امید لگائے بیٹھے تھے اور جب کہ وہ کتاب اور پیغمبر کو پہلے سے پہچانتے تھے پھر بھی اس سے کفر اختیار کر بیٹھے (وَلَمَّا جَائَہُمْ کِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَہُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَہُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِہ) کافروں پرخدا کی لعنت ہو (ِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِینَ)

 بعض اوقات انسان کسی حقیقت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتاہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر جب اسے اپنے ذاتی فائدے کے خلاف پاتاہے تو ہوا و ہوس کے نتیجے میں اسے ٹھوکر مار دیتاہے اور اسے چھوڑدیتاہے بلکہ کبھی تو اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجاتاہے۔

لیکن یہودیوں نے تو انتہائی خسارے کا سودا کیا۔ جو لوگ پیغمبر موعود کی پیروی کے لئے اپنے علاقے کو چھوڑکر، بہت سی مشکلات جھیل کر سرزمین مدینہ میں سکونت پذیرہوئے تھے تا کہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں ، جب موقع آیا تو منکرین اور کافرین کی صف میں کھڑے ہوگئے لہذا اس مقام پر قرآن کہتاہے: کیسی بری قیمت پر انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کیا (ِبئْسَمَا اشْتَرَوْا بِہِ اٴَنفُسَہُمْ

وہ حسد کی بناء پر اس چیزسے کافر ہوگئے جو خدانے نازل کی تھی ۔ انہیں اعتراض تھا کہ کیوں خدا اپنے فضل سے جس شخص پرچاہتا ہے اپنی آیات نازل کردیتاہے(اٴَنْ یَکْفُرُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ بَغْیًا اٴَنْ یُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِہِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِہِ(

گویا اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر موعود بنی اسرائیل میں سے اور خود انہی میں سے ہوگا لیکن جب کسی اور پر قرآن نازل ہوا تو انہیں تکلیف پہنچی اور وہ سنخ پا ہوگئے۔

آیت کے آخر میں ارشاد ہے :  لہذا خدا کے غضب نے یکے بعد دیگر ے انہیں گھیر لیا اور کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے( فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُہِین

(!)  خسارے کا سودا

 در حقیقت یہودیوں نے ایک خسارے کا سود کیاتھا۔ کیونکہ ابتدا میں وہ اسلام اور اسلام کے پیغمبر موعود کے داعی تھے۔ یہاں تک کہ تمام مشکلات جھیل کر مدینہ کی زندگی انہوں نے اسی مقصد کے لئے انتخاب کی تھی۔ لیکن پیغمبر خدا کے ظہور کے بعد صرف اس بناء پر کہ آپ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں یا آپ کی وجہ سے ان کے ذاتی منافع خطرے میں پڑگئے تھے، وہ آپ کے کافر و منکر ہوگئے اور یہ بہت زیادہ خسارے اور نقصان کا معاملہ ہے کہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد کود پہنچے بلکہ اپنی تمام قوتیں اور طاقتیں صرف کرکے اس کے بر عکس حاصل کرے اور خدا کا غضب اور ناراضی بھی الگ اٹھانی پڑی۔

حضرت امیر المومنین کے ارشادات میں ہے:

لیس لانفسکم ثمن الا الجنہ فلا تبیعوھا الابھا۔

تمہارے نفسوں کی قیمت جنت کے علاوہ اور کوئی چیز ہوسکتی لہذا  اپنے نفسوں کو اس کے علاوہ کسی چیز کے بدلے نہ بیچو

مگر یہودی اس گراں بہا سرمائے کو مفت میںگنوا بیٹھے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ سودا ان کے اصل و جود کا بیان کیا گیاہے یعنی جو حق و حقیقت سے منکر و کافر ہیں وہ اپنی حقیقت ہاتھ سے کھو بیٹھے ہیں۔ کیونکہ کفر کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے وجود کی قیمت بالکل گر جاتی ہے گویا اپنی شخصیت گنوا بیٹھے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان غلاموں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنا وجودبیچ کراسے دوسرے کی قید میں دے دیا ہو بیشک وہ ہوا و ہوس کے قیدی اور شیطان کے بندے ہیں۔

لفظ (اشتروا) اگر چہ عموما خرید نے کے معنی میں استعمال ہوتاہے لیکن کبھی بیچنے کے معنی میں بھی آتا ہی جیسا کہ لغت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ بیچنے ہی کے معنی میں ہے لہذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنا وجود مال و متاع کی طرح بیچاہے اور اس کے بدلے غضب پروردگار یا کفر و حسد خریدا ہے

 فباء بغضب علی غضب: 

 بنی اسرائیل جب صحرائے سینا میں سرگرداں تھے اس عالم کی سرگذشت کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے قرآن کہتاہے: و با ء و بغضب من اللہ (وہ غضب خدا کی طرف پلٹے) اس کے بعد مزید کہتا ہے : یہ  خدا کا غضب ان پر انبیاء کے قتل اور آیات خدا سے کفر کی وجہ سے تھا۔

سورہ آل عمران آیہ ۱۱۲ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی آیات الہی سے کفر اور قتل انبیاء کی وجہ سے غضب الہی کا شکار ہوئے یہ پہلا غضب ہے جو انہیں دامن گیر ہوا۔

ان کے باقی ماندہ افراد نے: پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد ان سے اپنے بڑوں والی روشں ہی جاری رکھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے آئین کے خلاف تھے بلکہ ان کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ان کے اسی طرز عمل کی وجہ سے ایک نئے غضب نے انہیں گھیر لیا اسی لئے فرمایا: فباء و بغضب علی غضب۔

در اصل لفظ (باء و) کا معنی ہے وہ لوٹے اور انہوں نے سکوت اختیار کیا اور یہ کنایہ ہے استحقاق پیدا کرنے سے ۔ یعنی انہوں نے غضب پروردگار کو اپنے لئے منزل و مکان کی طرح انتخاب کیا۔

یہ سرکش و باغی گروہ حضرت موسی کے قیام سے پہلے اور پیغمبر اسلام کے ظہور سے قبل دونوں مواقع پر ایسے قیام کے سختی سے طرفدار تھے لیکن دونوں قیاموں کے رو بہ عمل ہونے کے بعد وہ اپنے عقیدے سے پھر گئے ارو یکے بعد دیگرے اپنی جان کے بدلے غضب خدا خرید لیا۔