البقرة

وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ 96

خود پسند گروہ

قرآن مجید کی مختلف آیات کے علاوہ بھے یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ اپنے آپ کو بلند نسل سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہی انسانی معاشرے کے منتخب پھول ہیں اور بہشت انہی کے لئے بنائی گئی ہے اور جہنم کی آگ ان سے زیادہ سر و کار نہیں رکھتی، وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں۔ خلاصہ یہ کہ (آنچہ خوباں ہمہ دارند انہا تنہا دارند یعنی تمام عالم کی اچھائیاں انہی میں جمع ہیں۔

ان کی یہ (خوشبودار، خود خواہی قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے، جن میں یہودیوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔

سورہ مائدہ کی آیت ۱۸ میں ہے:

 نَحْنُ اٴَبْنَاءُ اللهِ وَاٴَحِبَّاؤ

یعنی ۔ ہم خدا کے فرزند اور خاص دوست ہیں۔

سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۱ میں ہے:

وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی

یعنی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جاسکتا۔

سورہ بقرہ کی آیہ ۸۰ میں ہے:

وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اٴَیَّامًا مَعْدُودَةً َ

چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ ہمیں نہیں چھو سکتی۔

یہ موہوم خیالات ایک طرف تو انہیں ظلم و زیادتی اور گناہ و طغیان کی طرف مائل کرتے اور دوسری طرف تکبر، خود پسندی اور خود کو سب سے بلند سمجھنے کی دعوت دیتے۔

مندرجہ بالا آیات میں قرآن مجید انہیں دندان شکن جواب دیتاہے اور کہتا ہے: اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو کہ ) آخرت کا گھر خدا کے ہاں باقی لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے  مخصوص ہے تو پھر موت کی تمنا کرو اگر سچ کہتے ہو (۔ قُلْ إِنْ کَانَتْ لَکُمْ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین )۔ کیاتم مائل نہیں ہوکہ جوار رحمت خدا میں جاکر پناہ لو اور جنت کی بے شمار نعمتیں تمہارے اختیار میں ہوں۔ کیا تم اپنے محبوب کے دیکھنے کے آرزومند نہیں ہو۔

یہودی چاہتے تھے کہ وہ یہ بات کرکے مسلمانوں کو آزردہ خاطر کریں کہ بہشت تو یہودیوں کے لئے مخصوص ہے یا یہ کہ ہم تو دوزخ میں بس چند دن جلیں گے اور یا کہتے کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی ہوگا۔ قرآن نے ان کے اس جھوٹ سے پردہ اٹھایاہے۔ کیونکہ جب وہ دنیا کی زندگی کو کسی طرح ترک کرنے کو تیار نہیں تو یہی ان کے جھوٹے ہونے کی محکم دلیل ہے۔

واقعا اگر انسان کا دار آخرت کے بارے میں وہی ایمان ہو جو بزعم خود یہودیوں کا تھا تو وہ اس دنیا سے کیسے لو لگا سکتا ہے اور کیسے اس کے حصول کے لئے ہزاروں گناہوں کا مرتکب ہوسکتا ہے اور وہ موت سے یہاں تک کہ اپنے مقصد کی راہ میں بھی کیسے ڈرسکتاہے۔

بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتاہے۔ اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کی وجہ سے وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ( وَلَنْ یَتَمَنَّوْہُ اٴَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیہِمَْ)۔اور خدا ستمگاروں سے واقف ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِین

جی ہاں۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے اعمال ناموں میں کیسی سیاہیاں موجود ہیں۔ وہ اپنے قبیح اور سنگین گناہوں سے مطلع تھے۔ خدا بھی ان ظالموں کے اعمال سے آگاہ ہے۔ اسی لئے ان کے لئے آخرت کا گھر عذاب، سختی اور رسوائی کا گھر ہے اور اسی بناء پر وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے۔

محل بحث آیت مادی چیزوں کے متعلق ان کی شدید حرص کا تذکرہ یوں کرتی ہے: انہیں تم اس زندگی پر سب سے زیادہ حریص پاؤگے۔ (ولَتَجِدَنَّہُمْ اٴَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاة) ۔ یہاں تک کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر (   ٍوَمِنْ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا)۔ مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی میں حریص ، دنیا پر قبضہ کرنے میں حریص، سب کچھ اپنے لئے سمجھنے میں حریص یہاں تک یہ مشرکین سے بھی بڑھ کر حریص ہیں حالانکہ مشرکین کو  فطری طور پر مال جمع کرنے میں سب سے زیادہ حریص ہوناچاہئیے۔

ان میں سے ہر کوئی چاہتاہے کہ ہزار سال تک زندہ رہے (یَوَدُّ اٴَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اٴَلْفَ سَنَةٍ )۔ زیادہ ثروت جمع کرنے کے لئے یا سزا کے خوف سے۔

ہاں۔ وہ موت سے ڈرتے ہیں اور ہزارسالہ عمر کی تمنا کرتے ہیں لیکن یہ طولانی عمر بھی انہیں عذاب خدا سے نہیں بچاسکے گی  (وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنْ الْعَذَابِ اٴَنْ یُعَمڑ

اگر وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا ان کے اعمال سے آگاہ نہیں ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ خدا ان کے اعمال کے بارے میں بصیر و بیناہے( وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ

ہزار سال عمر کی تمنا:

 توجہ رہے کہ ہزار سال  سے مر اد ہزار سال کا عدد نہیں بلکہ یہ طولانی عمر سے کنایہ ہے دوسرے لفظوں میں یہ عدد تکثیر ہے نہ کہ عدد تعداد۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہزار کا عدد اس زمانے میں عربوں کے نزدیک سب سے بڑا عدد تھا اور اس سے بڑے عدد کا ان کے پاس کوئی نام نہیں تھا لہذا سب سے بڑا مبالغہ یہی شمار ہوتاتھا۔

 )عَلَی حَیَاةٍ):

نکرہ کی صورت میں یہ تعبیر کچھ مفسرین کے بقول تحقیر کے لئے ہے یعنی انہوں نے دنیا کی زندگی سے دل وابستہ کر رکھاہے یہاں تک کہ اس جہان کی پست ترین زندگی کو بھی جو بدبختی  سے گزرے وہ آخرت کے گھر پر ترجیح دیتے ہیں۔

یہودیوں کی نسل پرستی:

 اس میں شک نہیں کہ بہت سی جنگوں اور خونریزیوں کا سرچشمہ نسل پرستی تھے خصوصا دنیا کی پہلی اور دوسری جنگ عظیم جو  تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی بتاہی اور آبادی کی ویرانی کا باعث ہوئیں اس میں آلمانیوں (نازیوں) کی نسل پرستی کے جنون سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔

اگر طے ہوجائے کہ دنیا کے نسل پرستوں کی صف بندی کی جائے یا فہرست مرتب کی جائے تو یہودی پہلی لائن میں ہوں گے۔

اس وقت بھی انہوں نے جو حکومت اسرائیل کے نام سے تشکیل دی ہے اسی نسلی تفاخر کی بنیاد پرہے اور اس کی تشکیل میں وہ کیسے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی بقاء کے لئے کیسی کیسی دہشت ناکیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔

حالت تو یہ ہے کہ دین موسوی کو بھی اپنی نسل میں محصور سمجھتے ہیں اور نسل یہود کے علاوہ کوئی یہودی مذہب قبول کرے تو یہ ان کیلیئے کوئی توجہ طلب بات نہیں اسی لئے تو وہ دیگر اقوام میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کرتے اسی وجہ سے وہ ساری دنیا میں نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے، ہیں کیونکہ دنیا کے لوگ ایسے اشخاص کو ہرگز پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنے نسلی امتیاز کے قائل ہوں ۔

اصولی طور پر نسل پرستی شرک کی ایک قسم ہے اسی لئے تو اسلام سختی سے اس کا مقابلہ کرتاہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتاہے جن کا امتیاز فقط تقوی و پرہیزگاری ہے۔

بہانہ ساز قوم:

آیت کی شان نزول دیکھنے سے دوبارہ اس بہانہ ساز قوم کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس نے پیغمبر معظم حضرت موسی کے زمانے سے لے کر آج تک یہی روش اختیار کر رکھی ہے اور ہر زمانے میں حق کے زیر بار آنے کے بجائے بہانے تلاش کئے ہیں۔

یہاں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بہانہ صرف یہ ہے کہ چونکہ جبرئیل آپ پر وحی لانے والا فرشتہ ہے جو خدا کے سخت احکام لاتاہے لہذا ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ہم اس کے دشمن ہیں اگر میکائیل ہوتا تو کوئی حرج نہ تھا اور آسان تھا کہ ہم ایمان لے آئیں۔

ان سے پوچھا جائے کہ کیا خدا کے فرشتے اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کیا اصولا وہ خواہش کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں؟ وہ تو قرآن کے مطابق ایسے

  لا یعصون اللہ ما امرھم یعنی۔ جو کچھ خدا حکم دیتاہے وہ وہی انجام دیتے ہیں۔ (تحریم ۔)

ان بہانہ سازیوں کا جواب زیر نظر آیات میں اس طرح دیتاہے : ان سے کہہ دو جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے وہ در حقیقت خدا کا دشمن ہے کیونکہ اس نے تو خدا کے حکم سے آپ کے دل پر قرآن نازل کیاہے (۔قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّہُ نَزَّلَہُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ الله

وہ قرآن جو گذشتہ آسمانی کتب کی تصدیق کرتاہے اور ان کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے (مصدقا لما بین یدیہ)۔ وہی جو مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے (و ہدے و بشری للمومنین

اس آیت میں در اصل اس گروہ کو تین واضح جواب دئیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ جبرئیل کوئی چیز اپنی طرف سے نہیں لاتا جو کچھ ہے (باذن اللہ) ہے۔

دوسرا یہ کہ گذشتہ کتب میں سے صداقت اور روشنی کی نشانیاں اس میں موجود ہیں کیونکہ یہ انہی نشانیوں کے مطابق ہے (مصدق لما بین یدیہ) یعنی اس کا کوئی جواز نہیں کہ تم تورات پر تو ایمان لے آؤلیکن قرآن سے کفر و اختیار کرو جو تورات کی نشانیوں کے مطابق ہے۔

خلاصہ یہ کہ ان کے مضامین ہم آہنگ ہیں اور یہ بات قرآن کی سچائی کی ترجمان ہے اور یہ قرآن مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے۔

اگلی آیت مین یہی مضمون مزید تاکید و تہدید کے ساتھ بیان ہواہے۔ فرماتاہے: جو شخص خدا، فرشتوں، خدا کے پیغمبروں، جبرئیل  اور میکائیل کا دشمن ہے۔ خدا اس کا دشمن ہے کہ خدا کافروں کا دشمن ہے

(مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلَّہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیلَ وَمِیکَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِین

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں تشکیک و تفاوت نہیں ہے جو اللہ، فرشتے، خدا کے رسول، جبرئیل و میکائیل بلکہ کسی فرشتے کا دشمن ہے اور جوان میں تشکیک و تفاوت کا قائل ہے پر وردگار اس کا دشمن ہے۔

بہ الفاظ دیگر احکام الہی جو نوع انسانی کے لئے سودمند اور تکامل بخش ہیں خدا کی طر ف سے فرشتوں کے ذریعے پیغمبروں پر نازل ہوتے ہیں اب اگر ذمہ داریاں مختلف ہوں تو تقسیم کارکے فرق کو تضاد کار تو نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سب ایک ہی راہ مستقیم پرہیں لہذا ان میں سے کسی ایک کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ یہودی اور دیگر منکرین قرآن یہ جان لیں کہ انہوں نے جبرئیل، دیگر ملائکہ اور پیغمبروں کی دشمنی اختیار کرکے ایک بڑے طاقت ور کی دشمنی مول لی ہے۔ قرآن کہتاہے جو ان سے دشمنی رکھے خدائے بزرگ اس کا دشمن ہے کہ بے شک خدا کافروں کا دشمن ہے۔

رہی (قلب) کی بحث۔ کہ قرآن میں اس سے کیا مراد ہے تو یہ اسی سورہ کی آیت ، کے ذیل میں آچکے ہے۔

جبرئیل و میکائیل

جبرئیل کا نام تین مرتبہ اور میکائیلل کا نام ایک مرتبہ اسی مقام پر آیاہے۔ انہی آیات سے اجمالا معلوم ہوتاہے کہ دونوں فرشتے بزرگ اور مقرب الہی ہیں۔ مسلمانوں کی عمومی تحریروں میں جبریل (ہمزہ کے ساتھ اور میکال (ہمزہ) اور (یا) کے ساتھ آتاہے لیکن متن قرآن میں جبریل اور میکال ہے۔

ایک گروہ کا نظریہ سے کہ جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل جبرئیل ہے جس کا معنی ہے مرد خدا یا (قوت خدا) (جبر کا معنی قوت یا مرد ہے اورئیل کا معنی خداہے(

محل بحث آیات کے مطابق جبرئیل پیغمبر کے لئے وحی کا قاصد تھا اور آپ کے قلب مبارک پر قرآن نازل کرنے والاتھا جب کہ سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ کے مطابق روح القدس وحی لا تا تھا اور سورہ شعراء ، آیہ ۱۹۱ میں ہے کہ روح الامین تدریجا قرآن پیغمبر اکرم پر لاتارہا لیکن جیسا کہ مفسرین نے تصریح کی  ہے ر وح القدس اور روح الامین سے مراد جبرئیل ہی ہیں۔ ہمارے  پیش نظر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق جبرئیل مختلف شکلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوتے رہے اور مدینہ میں جبرئیل زیادہ تر وحی قلبی کی شکل میں آنحضرت کے سامنے ظاہر ہوتے تھے جو ایک خوبصورت جوان تھا۔

سورہ نجم سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر اکرم نے جبرئیل کو دو مرتبہ (اس کی اصل شکل میں) دیکھا ہے۔

اسلامی کتب میں جن چار فرشتوں کا عموما مقرب بارگاہ الہی شمار کیاگیاہے وہ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں۔ جن میں سے جبرئیل بلند مرتبہ ہیں۔

یہودیوں کی کتب میں بھی جبرئیل اور میکائیل کے متعلق گفتگو ہوئی سے۔ منجملہ ان کی کتاب دانیال میں جبرائیل کو شیطانوں کے سر براہ کو مغلوب کرنے والا اور میکائیل کو قوم اسرائیل کا حامی کہا گیا ہے لیکن بعض کے بقول کوئی ایسی چیز جو جبرئیل کی یہودیوں سے دشمنی پر دلالت کرے دسترس میں نہیں آئی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یہودیوں کا جبرئیل سے اظہار دشمنی ایک بہانہ تھا تا کہ اس کے ذریعے اسلام قبول کرنے سے بچ جائیں یہا ں تک کہ ان کی مذہبی کتب میں بھی اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔