آل عمران

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الم 1

شان نزول

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اسِّی سے کچھ زیادہ آیات نجران کے عیسائی نمائندوں کے بارے میں ہیں جنہیں اسلام کے بارے میں تحقیق کے لیے بھیجا گیا تھا ۔
وہ ساٹھ افراد تھے ، ان میں سے جو نجران کے اشراف اور معزین شمار ہوتے تھے ۔ ان چودہ میں سے تین سردار تھے وہاں کے عیسائی اپنے کاموں اور مشکلات میں انہی تین سے رجوع کرتے تھے ۔ ان میں سے ایک عاقب تھا جسے عبد المسیح بھی کہتے تھے ، وہ اپنی قوم کا امیر اور رئےس بھی شمار ہوتا تھا ، اس کی قوم کبھی اس کے نظر یے اور رائے کی مخالفت نہیں کرتی تھی دوسرے کا نام سید اسے ایہم ب ھی کہتے تھے خاطر تواضع اور سفر کے انتظامی امور کی سر پرستی بھی کرتا تھا اور عیسائیوں کے لیے بہت قابل اعتماد تھا تیسرا شخص ابو حارثہ تھا جو عالم تھا اور نہایت بااثر تھا عیسائیوں نے کئی ایک گرجے اس کے نام سے بنوارکھتے تھے ، اسے تمام مذہبی مسیحی کتب یاد تھیں ۔
ساٹھ افرادکا یہ گروہ قبیلہ بنی کعب کے لباس میں مدینہ آیا اور مسجد نبوی میں پہنچا ۔ اس وقت نبی اکرم مسلمانوں کے ہمراہ نماز عصر ادا فرماچکے تھے ۔ ان ساٹھ افراد کے خوبصورت زرق بر ق اور پر کشش لباس پہن رکھے تھے ، ایک صحابی نے بقول : ہم نے کبھی کوئی نمائندہ ایسے بنے ٹھنے نہیں دیکھے تھے ۔۱
۱یمن کے شمالی کوہستان میں ایک مقام صنعاء ہے ،صنعاء ے دس منزل دور قبیلہ ہمدان کی زمینیں تھیں ۔ جاہل؛یت کے زمانے میں اس قبیلے کا ایک بت تھا ۔ اس کا نام اس قبیلہ نے ” یعوق “ رکھا تھا ۔ اس قبیلے کی بستی کونجران کہتے تھے ، معجم البلدان یا قوت حموی کے بقول نجران چند مقامات کا نام ہے ۔
وہ مسجد میں پہنچے تو وہ ان کی نماز کا وقت تھا ، انھوں اپنے مراسم کے مطابق ناقوس بجایا اور مشرق کی طرف رخ کرکے نماز میں مشغول ہوگئے ۔ کچھ اصحاب نے انھیںروکنا چاہا لیکن آپ نے فرمایا : تم ان سے سرو کار نہ رکھو ۔
نماز کے بعد عاقب اور سید نبی کریم کی خدمت میں آئے اور آپ سے گفتگو کرنے لگے ۔ آپ نے انھیں اسلام قبول کرنے اور بار گاہ خداوندی میں سر تسلیم خم کرنے کی دعوت دی ۔
عاقب اور سید کہنے لگے : ہم آپ سے پہلے اسلام چکے ہیں اور بار گاہ الہٰی میں سر تسلیم خم کرچکے ہیں ۔
پیغمبر اکرم نے فرمایا : تم کس طرح دین حق پر ہو جبکہ تمہارے اعمال بتا تے ہیں کہ تم خدا کے سامنے سر تسلیم جھکائے ہوئے نہیں ہو کیونکہ تم خدا کے لئے بیٹے کے قائل اور حضرت عیسی (ع) کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہو ۔ صلیب کی پوجا اور پرستش کرتے ہو اور خنزیر کا گوشت کھاتے ہو جبکہ یہ سب امور دین حق کے خلاف ہیں ۔
عاقب او ر سید نے کہا : اگر حضرت عیسیٰ (ع) خدا کے بیٹے نہیں تو ان کا باپ کون تھا؟
نبی کریم نے فرمایا: کیا تم یہ بات مانتے ہوکہ ہر بیٹا باپ سے شباہت رکھتا ہے ؟
انہوں نے کہا :ہاں ۔
آپ نے فرمایا : کیا ایسا نہیں کے ہمارا خدا ہر چیز پر محیط ہے ، قیوم ہے اور موجودات کو روزی دینا اس کے ذمہ ہے؟
وہ کہنے لگے ہاں ایسا ہی ہے ۔
آپ نے فرمایا کیا حضرت عیسیٰ (ع) میں ایسے اوصاف تھے ؟
انہوں نے کہا نہیں ۔
آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ زمین و آسمان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہیں اور وہ ہرچیز کو جانتا ہے ؟
کہنے لگے : ہاں ہم جانتے ہیں ۔
آپ نے فرمایا: جو کچھ حضرت عیسیٰ (ع) کو خدا نے بتایا کیا وہ ان کے علاوہ اپنی طرف سے کسی چیز کو جانتے تھے ؟
وہ بولے : نہیں ۔
آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہوکے ہمارا خدا وہی ہے جس نے شکم مادر میں حضرت عیسیٰ (ع) کو جیسے چاہا بنایا ؟
کہنے لگے :ہاں ایسا ہی ہے ۔
اس پر آپ نے فرمایا: تو پھ رحضرت عیسیٰ (ع) خدا کے بیٹے کیسے ہوگئے جب کہ اس سے کوئی شباہت نہیں رکھتے ؟
گفتگو یہاں تک پہنچی تو سب کے سب خاموش ہو گئے ۔ اس وقت اس سورة کی اسسّی سے کچھ اوپر آیات نازل ہوئیں ۔ ان آیات میں بعض معارف اور کچھ اسلامی پروگراموں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ ۱

 

تفسیر

یہ سورہ باتفاق مفسرین دوسوآیات پر مشتمل ہے ۔ اس نے تمام آیات مدینہ میں نازل ہوئیں ۔ آل عمران کے واقعے کی مناسبت سے اس کانام سورہ آل عمران رکھا گیا ہے، یہ واقعہ آیت ۳۲ کے بعد سورہ میں موجود ہے ۔
اس سورہ کے اہم موضوعات ہیں :
ایمان ۔
اسلام ۔
اسلام کی حمایت اور وسعت میں استقامت و پا مردی ۔
یہود و نصاریٰ سے منطقی مقابلہ ۔
مسلمانوںکے لئے متعدد تربیتی درس۔
اس کی پیشرفت اور باطل عقائد کی نفی ۔
اس سورے کے مطالب ایک دوسرے سے اس طرح مربوط اور متناسب ہیں گویا سب آیا ایک وقت میں نازل ہوئی ہیں اب اس سورہ کی ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کی جاتی ہے ۔

ا ل م ۔ کمپیوٹر کے ذریعے حروف مقطعات کی تفسیر

قرآن کے حروفِ مقطعات کے بارے میں سورہٴ بقرہ کی ابتداء ضروری توضیحات پیش کی جاچکی ہیں اب ان کی تکرار کی ضرورت نہیں ۔ یہاں پر ہم ان کے بارے میں ایک قابل توجہ نظریہ پیش کریں گے ۔ یہ نظریہ حال ہی میں ایک مصری عالم نے پیش کیا ہے موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم انھیں یہاں مکمل طو رپر بیان کرتے ہیں ، البتہ اس کی صحت یا کسی قسم کے بارے میں فیصلہ کرنا بہت زیادہ تحقیق کا محتاج ہے جو شاید آئندہ آنے والے لوگوںکے ذمے ہیں فقط ایک نظریے کے طور پر ذکر کرتے ہیں
مشہو مصری مجلہ ” آخر ساعة“ جو ایشیا کا برا مجلہ شمار ہوتا ہے نے مصر ہی کے ایک مسلمان عالم کی کچھ آیات قرآن مجید کے بارے میںکمپیوٹر کی مدد سے تیار کی گئی عجیب و غریب تحقیق پیش کی ہے اس نے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والوں کو حیران کردیا ہے ۔ یہ تحقیقات کیمسٹری (ع)ڈاکٹر رشاد خلیفہ کی تین سالہ مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہیں ۔ ان تحقیقات نے ایک دفعہ پھر اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب ذہن انسانی کی پیداوارنہیں ہے اور انسان کے بس کی بات نہیں کہ اس کی مثل پیش کرسکے ۔
ڈاکٹر رشاد خلیفہ نے یہ تحقیقات امر ی ریاست میسوری کہ شہر سانٹھ لویس میں کی ہیں ، وہ اب بھی غذا سازی کی ایک امر ی کی کمپنی میں بطور مشیر کام کرتے ہیں ۔
انھوں نے اپنی حیرت انگیز تحقیقات کی تکمیل کے لیے مدتوں کمپیوٹر سے استفادہ کیاہے ۔ ان کمپیوٹرز کا کام کرنے کا ایک ساکینڈ کا کرایہ دس ڈالر تھا جو وہاں کے بعض مسلمانوں کی مدد سے ادا کیا گیا فسوس سے کہنا پڑتاہے کہ فارسی جرائد میں مذکورا سائنداں سے مصری خبر نگار کی گفتگو ناقص اور غیر مکمل صورت میں شائع ہوئی ہے فارسی داں طبقہ اس سے پوری طرح بات نہیں سمجھ پایا ۔ لہٰذا ہم نے ضروری سمجھا کہ خبر اصلی منبع سے رجوع کیا جائے تاکہ اس بحث کا مکمل تجزیہ و تحلیل کیا جاسکے ۔
البتہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس وقت ہم کارا مقصد اس نظریہ کی تائید نہیںبلکہ اس سے ہم آئندہ تحقیق کرنے والوں کے رکارڈ پر لانا چاہتے ہیں مذکورہ پروفیسر نے اپنی تمام تر مساعی قرآن کے حروف مقطعات جو (ق ا ل م ) (یٰس) کی شکل میں ہیں کے سمجھنے پر صرف کی ہیں ۔ اس میں پیچیدہ حسابات ((C A L C U L A T I O N Sکی مدد سے ثابت کیا ہے کہ جس سورہ کے شروع میںیہ حروف آئے ہیں اس سورہ کے دیگر حروف سے نذدیک (غیر کیجئے گا ) ۔
کمپیوٹر سے صرف سورتوں کے حروف کی تعداد اور ان کی نسبت معلوم کرنے کے لئے (اصطلاحاً) ایک فیصد حروف سے مدد لی گئی ہے نہ یہ کہ اس سے قرآنی آیا ت کی تفسیر چاہی گئی ہے لیکن یہ مسلم ہے کمپیوٹر کے بغیر یہ بات کسی انسان کے بس کی نہ تھی کہ وہ سالھا سال تک ان حسابات کو کرتا رہتا ۔
اب مذکورا سائنداں کے انکشافات پیش کرتے ہیں : ۔
ڈاکٹر رشاد کہتا ہے :ہم جانتے ہیں کہ قرآن مجید کی ایک سو چودہ سورتیں ہیں ۔ ان میں سے چھیاسی مکہ میں اور اٹھائیس مدینہ میں نازل ہوئیں ہیں ان ۲۹/ سورتوں کے آغاز میں حروف مقطعات ہیں ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مجموعی طور پر یہ تمام حروف ۱۴/ ہیں جب کہ عربی حروف ابجد کی تعداد ۲۸ / ہے ۔
ا ۔ ح۔ ر۔ س ۔ ص۔ ط۔ ق۔ ک۔ م ۔ ن۔ ھ۔ ی ۔ انھیں بعض اوقات حروف نورانی بھی کہتے ہیں ۔
ڈاختر رشاد مزید کہتاہے : میں سالہا سال سے جاننا چاہ رہا تھا کہ یہ حروف جو ظاہراً ایک دوسرے سے الگ ہیں اور سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں ، ان کے معانی کیا ہیں ۔ عظیم مفسرین کی تفاسیر و آراء دیکھیں لیکن تسلی نہ ہوئی لہٰذا خدا سے مدد مانگی اور مطالعہ میں محو ہو گیا ۔
اچانک یہ سوچ پید اہوئی کہ شاید ان حروف اور جس سورہ کے شروع میں یہ موجود ہیں ان کے حروف کے درمیان کوئی رابطہ پایا جاتا ہولیکن چودہ نورانی حروف اور ۱۱۴ جودہ سوروںکے بارے میں تحقیق ہر ایک کی نسبت کا تعین اور دیگر بہت سے حسابات کمپیوٹرکے بغیر ممکن نہ تھے لہٰذا پہلے مذخورہ حروف کو قرآن قرآن کی چودہ سورتوں میں علیحدہ علیحدہ کیا گیا اور پھر سورت کے تمام حروف کو ترتیب دے کے کمپیوٹر کے سپرد کی گیا تاکہ ان کی مدد سے آئندہ حسابات کئے جاسکیں ۔ یہ کام اور دیگر ضروری امور دو سال کے عرصے میں انجام پائے ۔
اس کے بعد کمپیوٹر پرمذکورہ حسابات کے لئے پورا ایک سال کام کرتا رہاتو بہت ہی درخشان نتیجہ بر آمد ہوا ۔ تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ تعجب انگیز حقائق سے پردہ اٹھا جنہوں نے دیگر پہلوو ٴں کے علاوہ علم ریاضی کے اعتبار سے حروف قرآن کی نسبت کے بارے میں قرآنی اعجاز کو مکمل طور پر واضح کردیا ۔ کمپیوٹر نے ہمیں بتایا کہ ان چودہ حروف کی۱۱۴/ سورتوں میں ہر ایک سے کیا نسبت ہے ۔
مثلاً حسابکے بعد ہم نے دیکھا کہ ”ق“ جو قرآن کے نورانی حروف میں سے ہے ۔سورہ فلق میں اس کا سب سے زیادہ حصہ ہے ، یہ حصہ ۵۔۶۷ فیصد ہے اور یہ نسبت قرآن کی سورتوں میں اول نمبر پر ہے (البتہ سورہ ق اس میں شامل نہیں ہے) اس کے بعد سورہ قیامت جس میں ق کی نسبت ۷۔۳۹ فیصد ہے پھر سورہ والشمس ہے جس میں یہ تناسب ۶۔۳۹ فیصد ہے ۔
جیساکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سورہ قیامة اور و الشمس میں یہ فرق سو میں سے ایک ہزار کا ہے ، اسی ترتیب سے قرآن کے تمام ۱۱۴/ سورتوں میں سے ہم نسبت ہم نسبت معلوم کرسکیں گے ۔ اور بنست اسی ایک حرف کے بارے میں نہیں بلکہ تمام نورانی حروف کے بارے میں ہر ایک سورت کے تمام حروف کی نسبت ایک ایک کر کے معلوم کی جا سکتی ہے ۔
اب ہم ان جاذب نظر نتائج کا ذکر کرتے ہیں جو ان حسابات ((C A L C U L A T I O N Sسے سامنے آئے ہیں ۔
۱۔حرف ق کی نسبت سورہ ق میں قرآن کی دوسری سورتوں کے مقابلے میں بلا استثنا ء سب سے زیادہ ہے یعنی ۲۳/ سالوں کے دوران میں جو ۱۱۳ سورتیں نازل ہوئیں ،ان میں حرف ق سورہ ق کی نسبت کام استعمال ہوا واقعاً یہ امر بہت حیران کن ہے کہ ایک انسان ۲۳/ سال کے طویل عرصے میں اپنی گفتگو کے حروف کی تعداد کا اس قدر خیال رکھے اور اس کے باوجود آزادانہ اور بلا تکلف گفتگتو کرتا ہے ۔ مسلم ہے کہ یہ کام ایک انسان کے بس سے باہر ہے یہاں تک کہ ایک عظیم ترین ریاضی دان بھی کمپیوٹر کی مدد کے بغیر اس کا حساب نہیں رکھ سکتا ۔
یہ تمام چیزیں نشاندہی کرتی ہیںکہ نہ صرف قرآن کی سورتیں اور اایات بلکہ حروف بھی ایک خاص نظام اور حساب کے تحت ہیں اور اس پر صرف خدا ہی قادر ہے ۔
اسی طرح حسابات سے معلوم ہوتا ہے کہ حرف ص کی سورہ ص میں یہی پوزیشن ہے یعنی اس میں اس کی مقدار سورہ کے باقی حروف کی نسبت قرآن کی دیگر سورتوں میں اس کی نسبت سے زیادہ ہے ۔
اسی طرح سورہ حجر کے علاوہ حرف نون کی سورہ ”ن و القلم “ میں نسبت دیگر سورتوں میں اس کی نسبت زیادہ ہے لیکن سورہ حجر میں اس کی نسبت سورہ و القلم میں اس کی نسبت سے زیادہ ہے ۔ اسس سلسلے میں یہ امر جاذب نظر ہے کہ سورہ حجر ان سورتوں میں سے ہے جن کی ابتدا”ال ر “سے ہوتی ہے بعد میں ہم دیکھیں گے کہ وہ سورتیں جن کی ابتدا ” ال ر“ سے ہوتی ہے وہ سب کی سب ایک سورت شمار ہوں گی اور اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں مطلوبہ نتیجہ دستیاب ہوگا یعنی ان تمام سورتوںمیںحرف ن کی نسبت ۔ اس کی سورہ ن و القلم می نسبت سے کم ہوجائے گی ۔
۲۔ ا ل م ص ۔ یہ چار حروف سورہ اعراف کی ابتداء میں آئے ہیں اب اگر اس سورہ میں آنے والے تمام ال م ص جمع کئے جائے تو ہم دیکھیں گے کہ ان کی نسبت اس سورہ کے دیگر حروف کے ساتھ ان کی نسبت دوسری سورتوں میں دیگر حروف سے زیادہ ہے ۔
اسی طرح (ال ر )یہ چار حروف سورہ رعد کی ابتدامیں آئے ہیں ان کی بھی یہی ہے حالت ہے ۔ یونہی (ک ھ ی ع ص)یہ پانچ حروف سورہ مریم کے آغاز میں آئے ہیں ان کا بھی ہی حساب ہے ۔
یہاں مسئلہ کے ایک نئے رخ سے ہمارا سامنا ہوتا ہے کہ ایک جدا حرف ہی ان آسمانی کتاب میں ایک خاص نظم کے تحت نہیںبلکہ ایک سے زیادہ حروف بھی اسی حیرت انگیز وضع میں اس میں موجود ہیں ۔
۳۔ اب تک توصرف ایک سورہ کے شروع میں آنے والے حروف کا ذکر تھا لیکن وہ حروف مقطعات جو ایک سے زیادہ حروف کے آغاز میں آئے ہیں مثلاً (ال ر ۔ یا ۔ ال م )تو وہ اندر ایک اور مشل حساب سموئے ہوئے ہیں ، اور وہ یہ کہ جن سور توں میں یہ حروف آتے ہیں مثلاً ( ال م ) چھ سورتوںکے آغاز میں ہے تو ان چھ سورتوں میں ان حروف کے مجموعے کا تناسب دیگر حروف سے دیکھنا ہوگا ۔ ہم دیکھیں گے یہ نسبت ان حروف کی دیگر ہر سورت میں ان کی نسبت سے زیادہ ہے ۔
یہاں مسئلے نے پھر ایک توجہ طلب صورت اختیار کرلی ہے اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف قرآن کی ہر سورت کے حروف ایک معین ضابطے اور حساب کے تحت ہیں بلکہ مشابہ سورتوں کے مجموعی حروف بھی ایک ہی ضابطے اور نظام کے مطابق ہیں ۔
ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن مجید کی متعدد سورتیں کیوں ( ال م ۔یا ۔ال م ر ) سے شروع ہوتی ہیں گویا ایسا اتفاقاً یا بلا وجہ نہیں ہے ۔
ڈاکٹر رشاد نے پیچیدہ ترین حسابات” ح م “ پر مشتمل سورتوں کے بار ے میں پیش کئے ہیں ہم اختصار کے پیش نظر ان سے صرف نظر کرتے ہیں ۔
ڈاکٹر رشاد نے اس ضمن میں اور کچھ قابل توجہ نکات پیش کئے ہیں جنہیں بعض نئے نتیجے بخش نکات کے اضافے کے ساتھ قائم قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں :۔

(۱)قرآن مجید کے اصلی رسم الخط کی حفاظت کریں

وہ کہتے ہیں یہ تمام حسابات اسی صورت میں صحیح ہیں جب ہم قرآن کے اصلی اور قدیمی رسم الخط پر ہاتھ ڈالیں ورنہ حساب خراب ہوجائے گا ۔۔ مثلاً اسحاق ، زکوٰة اور صلوٰة کی صورت میں لکھیں نہ کہ اسحاق، زکات اور صلاة کی شکل میں ۔

(۲) قرآن مجید میں عد ِم تحریف کی ایک اور دلیل

یہ تحقیقات نشاندہی کرتی ہیں کہ قرآن مجید میں ایک لفظ بلکہ ایک حرف کی بھی کمی یا زیادتی نہیں ہوئی ورنہ یقینی طور پر ہمارے حسابات موجود ہ قرآن میں یہ نتا ئج پیش نہ سکتے

(۳)پر معنی اشارات

قرآن حکیم کی بہت سی سورتیں جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوئی ہے ان میں ان حروف کے بعد قرآن کی حقانیت اور عظمت کا ذکر آیا ہے مثلاً ” الٓمّ ذٰلک الکتاب لاریب فیہ “ یہ بذاتِ خود مذکورہ حروف کے اعجاز قرآن ہونے کی طرف ایک اشارہ ہے ۔
حاصل کلام
اس ساری بحث سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ۲۳سال میں پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والے حروفِ قرآن بہت دقیق اور منظم حسابات کے حامل ہیں اور الف، با اور دیگر تمام حروف کا ہر سورة کے مجموعی حروف سے علم ریاضی کے حوالے سے گہرا تعلق ہے ایسے حسابات انسان کمپیوٹر کی مدد کے بغیر نہیں کرسکتا ۔ اس میں شک نہیں کہ دانشمندِ مذکور کی تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لہٰذا نقائص سے خالی نہیں ہیں ۔ ابھی انہیں انہی کے ذریعے یا دیگر دانشمندوں کے ذریعہ پایہٴ تکمیل تک پہنچنا چاہئیے ۔
” اللہ لا ٓالہ الاّ ھو الحیُّ القیوم“
اللہ یگانہ و یکتا ہے ، جاودان و قائم رہنے والا معبود ہے اور تمام چیزیں اسی کے وجود سے وابستہ ہیں ۔ اس آیة کی شرح و تفسیر سورہ بقرہ کی آیہ ۲۵۵ میں گزر چکی ہے ۔
”نزّل علیک الکتاب بالحق مصدقاً لما بین یدیہ و انزل التّورٰة و الانجیل من قبل ھدیً لّلناس“
اس آیت میں پیغمبر اسلام مخاطب ہیں ۔ فرمایا گیا ہے : وہ خدا جو پائندہ اور قیوم ہے اس نے تم پر ایسا قرآن نازل کیاہے جس میںحق و حقیقت کی نشانیاں ان کے علاوہ بھی ہیں جن کی بشارت گذشتہ انبیاء اور آسمانی کتب( تورات، انجیل )نے دی ہے اور گذشتہ نبیاء اور آسمانی کتب نے قرآن اور قرآن لانے کے بارے میں جو گفتگو کی ہے اس نے اس کی بھی تصدیق کی ہے وہ وہی خدا ہے جس نے تورات اور انجیل کو نوع بشر کی رانمائی اور ہدایت کے لئے نازل کیا ہے ۔

حق کا مفہوم :

”حق “ کا معنی اصل میں ” مطابقت“ اور ” ہم آہنگی“ ہے اسی لئے جو چیز واقعیت سے مطابقت رکھتی ہے اسے حق کہتے ہیں ۔ یہ جو خدا تعالیٰ کو حق کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی ذاتِ مقدس عظیم ترین واقعیت ہے کہ جو قابل انکار نہیں ، واضح تر الفاظ میں  حق یعنی وہ ثابت اور مضبوط امر جس میں باطل کے لئے کوئی راستہ نہ ہو ۔ محل بحث آیت میں ” باء“ اصطلاح میں مصاحبت کے لئے ہے ۔ یعنی اے پےغمبر !خدانے تم پر ایسا قرآن نازل کیا ہے جو واقعیت کی نشانیوں سے تواٴم اور ہم آہنگ ہے ۔

(۲) توریت کیا ہے :

 ” توراة“ طبرانی زبان کا لفظ ہے ، اس کا معنی ہے ” شریعت اور قانون“ ۔ یہ لفظ خدا کی طرف سے حضرت موسیٰ بن عمران پر نازل ہونے والی کتاب کے لئے بولاجاتا ہے ، نیز بعض اوقات عہد عتیق کی کتب کے مجموعے کے لئے اور کبھی کبھی تورات کے پانچوں اسفار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہودیوں کی کتب کے مجموعے کو عہد عتیق کہتے ہیں ، اس میں تورات اور چند دیگر کتب شامل ہیں ۔
تورات کے پانچ حصے ہیں جنہیں سفر پیدائش ، سفر خروج، سفر لاویان، سفر اعداد اور سفر تثنیہ کہتے ہیں ، اس کے موضوعات یہ ہیں :
(۱) کائنات، انسان اور دیگر مخلوقات کی خلقت ،
(۲)حضرت موسیٰ (ع) بن عمران ، گذشتہ انبیاء اور نبی اسرائیل کے حالات اور ،
(۳) اس دین کے احکام کی تشریح ۔
عہد عتیق کی دیگر کتابیں در اصل حضرت موسیٰ (ع) کے بعد موٴرخین کی تحریر کردہ ہیں ، ان میں حضرت موسیٰ بن عمران کے بعد کے نبیوں ، حکمرانوں اور قوموں کے حالات بیان کئے ہیں ۔
یہ تعبیر کہے واضح ہے کہ تو رات کے پانچوں اسفار سے اگر صرف نظر کرلیا جائے تو دیگر کتب میں سے کوئی کتاب بھی آسمانی کتاب نہیں ہے ۔ خود یہودی بھی اس کا دعویٰ نہیں کرتے ۔ یہاں تک کہ حضرت داوٴد سے منسوب زیور جسے وہ مزامیر کہتے ہیں ، حضرت داوٴد کے مناجات اور پند نصائح کی تشریح ہے ۔ رہی بات تورات کے پانچوں سفروں کی تو ان میں ایسے واضح قرائن موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی آسمانی کتابیں نہیں ہیں بلکہ وہ تاریخی کتب ہیں جو حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے بعد لکھی گئی ہیں کیونکہ ان میں حضرت موسیٰ (ع) کی وفات، ان کے دفن کی کیفیت اور ان کی وفات کے بعد کچھ حالات مذکور ہیں ۔خصوصاً سفر تثنیہ کے آخر ی حصے میں یہ بات وضاحت سے ثابت ہوتی ہے کہ یہ کتاب حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی وفات سے کافی مدت بعد لکھی گئی ہے ۔
علاوہ از یں ان کتب میں بہت سی خرافات اور ناروا باتیں انبیاء و مرسلین سے منسوب کردی گئی ہیں ، بعض بچگانہ باتیں بھی ہیں جو ان کے خود ساختہ اور جعلی ہونے پر گواہ ہیں نیز بعض تاریخی شواہد بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصلی تورات غائب ہوگئی اور پھر حضرت موسیٰ بن عمران کے پیروکاروں نے یہ کتابیں تحریر کیں ۔2

انجیل کیا ہے ؟

 ” انجیل “ اصل میں یونانی لفظ ہے ، اس کا معنی ہے ” بشارت“ یا جدید تعلیم “ ۔ یہ اس کتاب کا نام ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قرآن نے محل آیت اور دیگر آیات جن میں حضرت عیسیٰ کی کتاب کانام لیا ہے ، یہ لفظ مفرد ہی استعمال ہوا ہے اور اسے خدا کی طرف سے نازل شدہ قرار دیا ہے ۔ اب وہبہت سی ان جیل جو عیسائیوں میں مروّج ہیں ، وحی الٰہی نہیں ہیں ۔ انا جیل میں یہ چار زیادہ مشہور ہیں :
(۱) لوقا، (۲)مرقس ،(۳) متی اور ( ۴) یوحنا ۱
۱یہ ہمدوں منصفین کے نام ہیں ۔
ان کے وحی الہٰی نہ ہونے کا خود عیسائی بھی انکار نہیں کرتے ۔ موجود انجلیس سب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شاگرد وں یا ان کے شاگردوں کی ہیں اور آپ سے کافی مدت بعد لکھی گئی ہیں ۔ عیسائیوں کا دعویٰ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حضرت مسیح کے شاگردوں نے یہ اناجیل الہام الہٰی سے لکھی ہیں یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عہد جدید اور ناجیل کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے ان کے مصنفین سے واقفیت حاصل کریں ۔
عیسائیوں کی اہم ترین مذہبی کتاب عہد جدید کا مجموعہ ہے جس پر تمام عیسائی فرقے ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے ایمان رکھتے ہیں ۔
عہد جدید کا مجموعہ قدیم کے تیسرے حصّے سے زیادہ نہیں ہے ۔ یہ ۲۷ متفرق کتب و رسائل پر مشتمل ہے ۔ یہ بالکل مختلف موضوعات کی حامل ہیں ۔ ان کی ترتیب یہ ہے :
(۱) انجیل متیٰ : متی ۔”متی “ (بروزن حتیٰ ) معنی ہے خدا بخش ے)حضرت مسیح (ع) کے بارہ شاگردوںمیں سے ایک تھا ۔ یہ انجیل اس نے ۳۸ ءء میلادی میں یا بعض کے نظریے کے مطابق ۰ ۵ ء ء میلادی سے لے کر ۶۰ ءء میلادی کے درمیان لکھی ۔
(۲) انجیل مرقس: کتاب قاموس مقدس کے صفحہ ۷۹۲ پر ہے کہ مرقس(مرقس بروزن مرد...)حواریوں میں سے نہ تھا ۔ اس نے اپنی انجیل پطرس کی زیر نگرانی تصنیف کی، مرقس ۶۸ ء ء میلادی میں قتل ہو گیا ۔
(۳) انجیل لوقا: لوقا پولس رسول کا رفیق اور ہمسفر تھا ۔ پولس نے حضرت عیسیٰ کی وفات کے ایک عرصہ بعد عیسائیت قبول کی ۔ یہ آپ کے زمانے میں متعصب یہودی تھا ۔ لوقا کی وفات ۷۰ءء میلادی کے قریب ہوئی ۔ قاموس مقدس کے مولف نے اپنی تالیف کے صفحہ ۷۷۲پر لکھا ہے کہ انجیل لوقا کی تالیف عام خیال کے مطابق تقریباً ۶۳ء ء میلادی میں ہوئی ۔
(۴) انجیل یوحنا : یوحنا مسیح (ع) کے شاگردوں میں سے تھا اور پولس کا دوست اور ہمسفر تھا ۔ موٴلف ِ مذکور کے بقول اس کی تالیف زیادہ تر ناقدین کے نذدیک پہلی صدی کے آخری حصّے میں لکھی گئی ۔(.......)
یہ اناجیل عموماً حضرت مسیح (ع) کو سولی دیے کانے اور اس کے بعد کے حوادث کے ذکر سے معمور ہیں ، اس سے اچھی طرح ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب ناجیل حضرت مسیح (ع) کے سالہا سال بعد لکھی گئی ہیں اور ان میں کوئی بھی کتاب آسمانی نہیں جو حضرت مسیح (ع) پر نازل ہوئی ہو ۔
(۵) اعمال رسولانہ : صدر اوّل میں حضرت عیسیٰ کے حواری اور مبلغین کے اعمال ۔
(۶) ۱۴ رسالے: مختلف افراد اور اقوال کے نام پولس کے خطوط ۔
(۷)رسالہٴ یعقوب: عہد جدید کی ستائیس کتب و رسائل میں سے یہ بیسواں رسالہ ہے ۔
(۸) پطرس کے خطوط : یہ عہد جدید کے اکیسویں اور بائیسویں رسالے پر مشتمل ہیں ۔
(۹) یوحنا کے خطوط: یہ تین رسالوں پر مشتمل ہیں ۲۳۔ ۲۴۔ ۲۵رسالوں میں یہی خطوط ہیں ۔
(۱۰) نام یہودا : یہ عہد جدید کا چھبیسواں رسالہ ۔
(۱۱) مکاشفہ یوحنا : یہ عہد جدید کا آخری حصّہ ہے ۔
لہٰذا عیسائی مورخین کی تصریح ، نیز اناجیل اور عہد جدید کی دیگر کتب ورسائل کے مطابق ان میں سے کوئی بھی آسمانی کتاب نہیں ہے ۔ مزید یہ کہ تمام کتب حضرت عیسی ٰ کے بعد لکھی گئی ہیں ۔ اس گفتگو سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حضرت مسیح (ع)پرنازل ہونے والی آسمانی کتاب درمیان میں سے اٹھ گئی ہے اور آج دستیاب نہیں ہے ۔ اس کے کچھ حصّے جو حضرت مسیح (ع) کے شاگردوں نے اپنی اناجیل میں بیان کئے ہیں باعث تاٴسف ہے کہ ان میں بھی خرافات شامل ہوچکی ہیں ۔
رہی بعض کی یہ بات کہ مسلمانوں کو موجود اناجیل اور تورات کی صحت میں شک نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ قرآن نے ان کی تصدیق کی ہے اور ان کی صحت کی گواہی دی ہے تو اس کا جواب جلد اوّل میں اس آیت کے ذیل میں آچکا ہے ۔
”وَ اٰمِنُوا بِمَآ اَنْزَلْتُ مُصدِّ قاً لِّمَا مَعَکُمْ ۔ ( بقرہ: (۴)
” وَاَنْزَل َ الفُرقَان“

قرآن کو فرقان کہنے کہ وجہ

تورات وانجیل کے ذکر کے بعد آیت کے اس حصّے میں نزول قرآن کا تذکرہ ہے ۔ قرآن کو فرقان کہنے کہ وجہ یہ ہے کہ ”فرقان“ لغت میں ” حق کی باطل سے تمیز کا ذریعہ “ کے معنی میں ہے اور ہروہ چیز جو حق کو باطل سے ممتاز کردے اسے فرقان کہتے ہیں اسی لئے جنگ بدر کے روز کو قرآن نے ” یوم الفرقان “

 (انفال ۴۱)قراردیا ہے ، کیونکہ اس دن ایک بے سرو سامان چھوٹا سالشکر اپنے سے کئی گنا بڑے کیل کانٹے سے لیس اور طاقتور دشمن پر کامیاب و کامران ہوا ۔ اِس طرح حضرت موسیٰ (ع) کے دس معجزات کو بھی فرقان (بقرہ ۵۳)کہاگیا ہے ک، یونہی عقل و خرد اور روشن فکری ک وبھی فرقان کہا جاتا ہے ۔

(” اِنْ تَتقوا اللہ یجعل لکم فرقاً“انفال ۲۹) محل بحث آیت میں بھی اسی جہت سے فرقان کہا گیاہے کہ قرآن حق کو باطل سے ممتاز کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔
بعض اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے قرآن پوری آسمانی کتاب کا نام ہے جب کہ فرقان اس کی ان آیات کے مجموعے کو کہتے ہیں جن میں عملی احکام ، حلال و حرام اور انفرادی و اجتماعی منصوبوں کو ذکر ہے ۔ ۱
۴۔ إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِ اللهِ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیدٌ وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۔(آیت نمبر۴ کا ابتدائی حصہ پہلی آیت کے ضمن میں ذکر ہو چکا ہے ) ۔
ترجمہ
۴۔ جو لوگ آیات الہٰی کے منکر ہو گئے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور خدا بد کاروں اور سر کش کافروں کو عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے اور وہ انتقام لینے والا ہے ۔
تفسیر
اتمام حجت ، خدا کی طرف کے نزول اور انبیاء کے دعویٰ کی صداقت پر عقل و فطرت کی گواہی کے بعد بلا شبہ انہیں قبول کرلینا چاہئیے ، لہٰذا جو لوگ تمام امور کے باوجود مخالفت کرتے ہیں تو اس کا سبب ہٹ دھرمی اور سرکشی کے علاوہ کچھ نہیں اور عقل و وجدان انہیں مستحق عذاب قرار دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں منکرین آیات کو شدید اور دردناک عذاب کی تہدید کرتا ہے ۔
”وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انْتِقَامٍ “
لغت میں ”عزیز “ہر مشکل چیز کے معنی میں ہے ۔ وہ سر زمین جسے عبور کرنا سخت مشکل ہو اسے ”عزاز“ کہتے ہیں ۔ جو چیز کمیابی کی وجہ سے مشکل سے ملتی ہو اسے ” عزیز “ کہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اس پر غلبہ کی قدرت نہیں رکھتا اور ہر کوئی اس کا ارادہ کرکے رہ جاتا ہے ۔
کافروں کو آگاہ کرنے کے لئے یہ تہدید اور دھمکی بالکل حقیقی اور حتمی ہے اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ خدا قادر ہے اس لئے کوئی شخص اس کی دھمکیوں پر عمل در آمد کی راہ میں حائل نہیں ہوسکتا کیونکہ جیسے وہ رحیم اور مہربان ہے جو لوگ رحمت کے قابل نہیں ان کے لئے اس کے پاس عذاب شدید ہے اور ان کے لئے وہ صاحب انتقام ہے ۔
آج کی اصطلاح میں ” انتقام “ زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاںلوگ خلاف ورزیوں کے مقابلے میں معاف نہیں کرتے یا دوسرے اشتباہات کی بناء پر ویسا ہی بدلہ لینے کی بجائے انسان کو عفو و در گزر کا راستہ اختیار کرنا چاہئیے لیکن حقیقت میں انتقام لغوی طور پر اس معنی میں نہیں ہے بلکہ گناہگار کو سزا دینے کے معنی میں ہے اور مسلم ہے کہ مغرور، ستمگروں ، گناہگاروں کو سزا دینا نہ صرف پسندیدہ کام ہے بلکہ ان سے صرف ِ نظر کرنا عدالت و حکمت کے خلات ہے ۔


۱۔ المیزان ، ج۲ ، ص۱۲۔
2.مزید وضاحت کے لئے ” الھدی الیٰ دین المصطفیٰ “ (عربی)” الرحلة العدرسیة ( عربی)رہبر معاونت ( فارسی اور قرآنو آخری پیغمبر(فارسی ) اور ان جیسی دیگر کتب کا مطالعہ کریں ۔